قرآن میں انبیا اور اہلِ ایمان خوف، نقصان اور غیر یقینی حالات میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ دعائیں بھروسے کے الفاظ ہیں؛ ضرورت پڑنے پر یہ خاندان، برادری اور ماہرین سے مدد لینے کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔
توحید اور اللہ کی پاکی بیان کرنے کی دعا
یونس نے اندھیروں میں سے پکارا، اور اگلی آیت بتاتی ہے کہ انہیں غم سے نجات دی گئی۔ (Al-Anbiya 21:87)
مچھلی والے[1] (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالﺂخر وه اندھیروں[2] کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا.
ترجمے کے حواشی
[1] مچھلی والے سے مراد حضرت یونس (عليه السلام) ہیں جو اپنی قوم سے ناراض ہو کر اور انہیں عذاب الٰہی کی دھمکی دے کر، اللہ کے حکم کے بغیر وہاں سے چل دیئے تھے، جس پر اللہ نے ان کی گرفت اور انہیں مچھلی کا لقمہ بنا دیا، اس کی کچھ تفصیل سورۃ یونس میں گزر چکی ہے اور کچھ سورہ صافات میں آئے گی۔
[2] ظُلُمَاتٌ, ظُلْمَةٌ کی جمع ہے بمعنی اندھیرا۔ حضرت یونس (عليه السلام) متعدد اندھیروں میں گھر گئے۔ رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
بیماری اور تکلیف میں اللہ کی رحمت کی پکار
بیماری اور نقصان کے دنوں میں ایوب کی پکار۔ (Al-Anbiya 21:83)
پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور کہنے لگے اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] حضرت موسیٰ (عليه السلام) اتنا لمبا سفر کرکے مصر سے مدین پہنچے تھے، کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا، جب کہ سفر کی تکان اور بھوک سے نڈھال تھے۔ چنانچہ جانورو ں کو پانی پلا کر ایک درخت کے سائے تلے آکر مصروف دعا ہوگئے۔ خیر کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، کھانے پر، امور خیر اور عبادات پر، قوت وطاقت پر اور مال پر (ایسر التفاسیر) یہاں اس کا اطلاق کھانے پر ہوا ہے۔ یعنی میں اس وقت کھانے کا ضرورت مند ہوں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
اللہ کے کافی ہونے کا اقرار
ان اہلِ ایمان کا جواب جنہیں بتایا گیا کہ لوگ ان کے خلاف جمع ہو گئے ہیں۔ (Ali Imran 3:173)
وه لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لئے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] حمراء الاسد اور کہا جاتا ہے کہ بدر صغریٰ کے موقع پر ابوسفیان نے بعض لوگوں کی خدمات مالی معاوضہ دے کر حاصل کیں اور ان کے ذریعے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیلائی کہ مشرکین مکہ لڑائی کے لئے بھرپور تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ سن کر مسلمانوں کے حوصلے پست ہو جائیں۔ بعض روایات کی رو سے یہ کام شیطان نے اپنے چیلے چانٹوں کے ذریعے سے کیا۔ لیکن مسلمان اس قسم کی افواہیں سن کر خوف زدہ ہونے کے بجائے، مزید عزم وولولہ سے سرشار ہوگئے جس کو یہاں ایمان کی زیادتی سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ ایمان جتنا پختہ ہوگا، جہاد کا عزم اور ولولہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان جامد قسم کی چیز نہیں ہے بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ ابتلا ومصیبت کے وقت اہل ایمان کا شیوہ اللہ پر اعتماد وتوکل ہے، اسی لئے حدیث میں بھی حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ پڑھنے کی فضیلت وارد ہے۔ نیز صحیح بخاری وغیرہ میں ہے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو جب آگ میں ڈالا گیا تو آپ کی زبان پر یہی الفاظ تھے۔ (فتح القدیر )
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
اللہ کے کافی ہونے اور اس پر بھروسے کا اقرار
نبی کو حکم دیا گیا کہ اگر لوگ منہ موڑ لیں تو یہ کہیں۔ (At-Tawbah 9:129)
پھر اگر رو گردانی کریں[1] تو آپ کہہ دیجیئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے[2]، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وه بڑے عرش کا مالک ہے۔[3]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی آپ کی لائی ہوئی شریعت اور دین رحمت سے۔
[2] جو کفر و اعراض کرنے والوں کے مکرو کید سے مجھے بچا لے گا۔
[3] حضرت ابو الدردا(رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ آیت حَسْبِیَ اللّٰہُ (الآیۃَ) صبح اور شام سات سات مرتبہ پڑھ لے گا، اللہ تعالٰی اس کے ہموم (فکر ومشکلات) کو کافی ہو جائے گا۔ (سنن ابی داود۔ نمبر 5081)
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
صبر اور ثابت قدمی کی دعا
طالوت کے لشکر کی دعا، جب وہ جالوت کے مقابل آیا۔ (Al-Baqarah 2:250)
جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمیں صبر دے، ﺛابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔[1]
ترجمے کے حواشی
[1] جالوت اس دشمن قوم کا کمانڈو اور سربراہ تھا جس سے طالوت اور ان کے رفقا کا مقابلہ تھا۔ یہ قوم عمالقہ تھی جو اپنے وقت کی بڑی جنگجو اور بہادر قوم سمجھی جاتی تھی۔ ان کی اسی شہرت کے پیش نظر، عین معرکہ آرائی کے وقت اہل ایمان نے بارگاہ الٰہی میں صبروثبات اور کفر کے مقابلے میں ایمان کی فتح وکامیابی کی دعا مانگی۔ گویا مادی اسباب کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ نصرت الٰہی کے لئے ایسے موقعوں پر بطور خاص طلبگار رہیں، جیسے جنگ بدر میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے نہایت الحاح وزاری سے فتح ونصرت کی دعائیں مانگیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور مسلمانوں کی ایک نہایت قلیل تعداد کافروں کی بڑی تعداد پر غالب آئی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
صبر اور اسلام پر موت کی دعا
فرعون کے جادوگروں کے الفاظ، جب وہ ایمان لائے اور انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ (Al-Araf 7:126)
اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا ہے بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے[1] ، جب وه ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما[2] اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال۔[3]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی تیرے نزدیک ہمارا یہی عیب ہے ۔ جس پر تو ہم سے ناراض ہوگیا ہے اور ہمیں سزا دینے پر تل گیا ہے۔ دراں حالیکہ یہ سرے سے عیب ہی نہیں ہے۔ یہ تو خوبی ہے، بہت بڑی خوبی، کہ جب حقیقت ہمارے سامنے واضح ہوکر آگئی تو ہم نے اس کے مقابلے میں تمام دنیاوی مفادات ٹھکرا دیئے اور حقیقت کو اپنا لیا۔ پھر انہوں نے اپنا روئے سخن فرعون سے پھیر کر اللہ کی طرف کرلیا اور اس کی بارگاہ میں دست بدعا ہوگئے۔
[2] تاکہ ہم تیرے اس دشمن کے عذاب کو برداشت کر لیں، اور حق میں متصلب اور ایمان پر ثابت قدم رہیں۔
[3] اس دنیاوی آزمائش سے ہمارے اندر ایمان سے انحراف آئے نہ کسی اور فتنے میں ہم مبتلا ہوں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچمتنی مآخذ اور صحت
اصل عربی: Tanzil Uthmani v1.1. معانی کا ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3.
تمام 6,236 آیات کے حوالے ماخذ سے جانچے گئے ہیں۔ یہ سالمیت کی فنی جانچ ہے، آزاد علمی جائزہ نہیں۔ ابتدائی بسم اللہ اسی طرح محفوظ ہیں جیسے فراہم کی گئی تھیں۔
# PLEASE DO NOT REMOVE OR CHANGE THIS COPYRIGHT BLOCK
#====================================================================
#
# Tanzil Quran Text (Uthmani, Version 1.1)
# Copyright (C) 2007-2026 Tanzil Project
# License: Creative Commons Attribution 3.0
#
# This copy of the Quran text is carefully produced, highly
# verified and continuously monitored by a group of specialists
# at Tanzil Project.
#
# TERMS OF USE:
#
# - Permission is granted to copy and distribute verbatim copies
# of this text, but CHANGING IT IS NOT ALLOWED.
#
# - This Quran text can be used in any website or application,
# provided that its source (Tanzil Project) is clearly indicated,
# and a link is made to tanzil.net to enable users to keep
# track of changes.
#
# - This copyright notice shall be included in all verbatim copies
# of the text, and shall be reproduced appropriately in all files
# derived from or containing substantial portion of this text.
#
# Please check updates at: http://tanzil.net/updates/
#
#====================================================================
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. ماخذ کا نسخہ: 1.1.3 · 2025-08-13