قرآنی دعائیں

Rabbana والی دعائیں: وہ قرآنی دعائیں جو «اے ہمارے رب» سے شروع ہوتی ہیں

بہت سی قرآنی دعائیں Rabbana، یعنی «اے ہمارے رب»، سے شروع ہوتی ہیں۔ یہ مجموعہ انبیا، اہلِ ایمان اور فرشتوں کی کہی ہوئی ایسی دعاؤں کو اسی ترتیب سے جمع کرتا ہے جس ترتیب سے وہ قرآن میں آتی ہیں۔ عذاب کا سامنا کرنے والوں کے کہے ہوئے الفاظ شامل نہیں کیے گئے۔

عمل کی قبولیت کی دعا

ابراہیم اور اسماعیل، جب وہ بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ (Al-Baqarah 2:127)

2:127صفحہ 20 · پارہ 1

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَٰهِـۧمُ ٱلْقَوَاعِدَ مِنَ ٱلْبَيْتِ وَإِسْمَـٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ۝١٢٧

ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

فرماں برداری اور مناسک سیکھنے کی دعا

ابراہیم اور اسماعیل کی دعا کا تسلسل۔ (Al-Baqarah 2:128)

2:128صفحہ 20 · پارہ 1

رَبَّنَا وَٱجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ۝١٢٨

اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اوﻻد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا

قرآن میں اسے ان لوگوں کی درخواست کے طور پر سراہا گیا ہے جو دونوں جہانوں کی بھلائی چاہتے ہیں۔ (Al-Baqarah 2:201)

2:201صفحہ 31 · پارہ 2

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ۝٢٠١

اور بعض لوگ وه بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے[1] اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے۔

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اعمال خیر کی توفیق، یعنی اہل ایمان دنیا میں بھی دنیا طلب نہیں کرتے، بلکہ نیکی کی ہی توفیق طلب کرتے ہیں۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے۔ طواف کے دوران لوگ ہر چکر کی الگ الگ دعا پڑھتے ہیں جو خود ساختہ ہیں، ان کے بجائے طواف کے وقت یہی دعا «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً» رکن یمانی اور حجر اسود کے دمیان پڑھنا مسنون عمل ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

صبر اور ثابت قدمی کی دعا

طالوت کے لشکر کی دعا، جب وہ جالوت کے مقابل آیا۔ (Al-Baqarah 2:250)

2:250صفحہ 41 · پارہ 2

وَلَمَّا بَرَزُوا۟ لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ ۝٢٥٠

جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمیں صبر دے، ﺛابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔[1]

ترجمے کے حواشی
[1] جالوت اس دشمن قوم کا کمانڈو اور سربراہ تھا جس سے طالوت اور ان کے رفقا کا مقابلہ تھا۔ یہ قوم عمالقہ تھی جو اپنے وقت کی بڑی جنگجو اور بہادر قوم سمجھی جاتی تھی۔ ان کی اسی شہرت کے پیش نظر، عین معرکہ آرائی کے وقت اہل ایمان نے بارگاہ الٰہی میں صبروثبات اور کفر کے مقابلے میں ایمان کی فتح وکامیابی کی دعا مانگی۔ گویا مادی اسباب کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ نصرت الٰہی کے لئے ایسے موقعوں پر بطور خاص طلبگار رہیں، جیسے جنگ بدر میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے نہایت الحاح وزاری سے فتح ونصرت کی دعائیں مانگیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور مسلمانوں کی ایک نہایت قلیل تعداد کافروں کی بڑی تعداد پر غالب آئی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے جانے کی دعا

سورۃ البقرہ کی اختتامی دعا۔ (Al-Baqarah 2:286)

2:286صفحہ 49 · پارہ 3

لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ ۝٢٨٦

اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

ہدایت کے بعد دلوں کی ثابت قدمی کی دعا

علم میں پختہ لوگوں کی دعا۔ (Ali Imran 3:8)

3:8صفحہ 50 · پارہ 3

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ ۝٨

اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے واﻻ ہے۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

گناہوں کی مغفرت اور دوزخ سے بچاؤ کی دعا

اسے تقویٰ اختیار کرنے والوں کے الفاظ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ (Ali Imran 3:16)

3:16صفحہ 52 · پارہ 3

ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ۝١٦

جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان ﻻ چکے اس لئے ہمارے گناه معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

ایمان اور رسول کی پیروی کا اقرار

عیسیٰ کے حواریوں کے الفاظ۔ (Ali Imran 3:53)

3:53صفحہ 57 · پارہ 3

رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلْتَ وَٱتَّبَعْنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّـٰهِدِينَ ۝٥٣

اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان ﻻئے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

گناہوں اور زیادتیوں کی معافی اور ثابت قدمی کی دعا

ان لوگوں کی دعا جو پہلے انبیا کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ (Ali Imran 3:147)

3:147صفحہ 68 · پارہ 4

وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِىٓ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ ۝١٤٧

وه یہی کہتے رہے کہ اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے کاموں میں جو بے جا زیادتی ہوئی ہے اسے بھی معاف فرما اور ہمیں ﺛابت قدمی عطا فرما اور ہمیں کافروں کی قوم پر مدد دے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

تخلیق کے بامقصد ہونے پر غور کی دعا

آسمانوں اور زمین پر غور و فکر کرنے والے عقل مندوں کی دعا۔ (Ali Imran 3:191–194)

3:191صفحہ 75 · پارہ 4

ٱلَّذِينَ يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَـٰمًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَـٰذَا بَـٰطِلًا سُبْحَـٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ۝١٩١

جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں وزمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ بے فائده نہیں بنایا، تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] ان دس آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی قدرت وطاقت کی چند نشانیاں بیان فرمائی ہیں اور فرمایا ہے کہ یہ نشانیاں ضرور ہیں لیکن کن کے لئے؟ اہل عقل ودانش کے لئے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان عجائبات تخلیق اور قدرت الٰہیہ کو دیکھ کر بھی جس شخص کو باری تعالیٰ کا عرفان حاصل نہ ہو، وہ اہل دانش ہی نہیں۔ لیکن یہ المیہ بھی بڑا عجیب ہے کہ عالم اسلام میں (دانش ور) سمجھا ہی اس کو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں تشکیک کا شکار ہو۔فَإِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ دوسری آیت میں اہل دانش کے ذوق ذکر الٰہی اور ان کا آسمان وزمین کی تخلیق میں غوروفکر کرنے کا بیان ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بھی آتا ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر اور بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے تو کروٹ کے بل لیٹے لیٹے ہی نماز پڑھ لو“ (صحیح بخاری کتاب الصلٰوۃ) ایسے لوگ جو ہر وقت اللہ کو یاد کرتے اور رکھتے ہیں اور آسمان وزمین کی تخلیق اور اس کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جن سے خالق کائنات کی عظمت وقدرت،اس کا علم واختیار اور اس کی رحمت وربوبیت کی صحیح معرفت انہیں حاصل ہوتی ہے تو وہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ رب کائنات نے یہ کائنات یوں ہی بے مقصد نہیں بنائی ہے بلکہ اس سے مقصد بندوں کا امتحان ہے۔ جو امتحان میں کامیاب ہوگیا، اس کے لئے ابدالاباد تک جنت کی نعمتیں ہیں اور جو ناکام ہوا اس کے لئے عذاب نار ہے۔ اس لئے وہ عذاب نار سے بچنے کی دعا بھی کرتے ہیں۔ اس کے بعد والی تین آیات میں بھی مغفرت اور قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی دعائیں ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
3:192صفحہ 75 · پارہ 4

رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُۥ ۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ ۝١٩٢

اے ہمارے پالنے والے! تو جسے جہنم میں ڈالے یقیناً تو نے اسے رسوا کیا، اور ﻇالموں کا مددگار کوئی نہیں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
3:193صفحہ 75 · پارہ 4

رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيمَـٰنِ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِرَبِّكُمْ فَـَٔامَنَّا ۚ رَبَّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلْأَبْرَارِ ۝١٩٣

اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ منادی کرنے واﻻ بآواز بلند ایمان کی طرف بلا رہا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان ﻻئے۔ یا الٰہی اب تو ہمارے گناه معاف فرما اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے اور ہماری موت نیکوں کے ساتھ کر.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
3:194صفحہ 75 · پارہ 4

رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ ۝١٩٤

اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وه دے جس کا وعده تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، یقیناً تو وعده خلافی نہیں کرتا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

ایمان کا اقرار اور گواہوں میں شمار ہونے کی دعا

ان لوگوں کے الفاظ جن کی آنکھیں اس وحی سے اشک بار ہو گئیں جسے انہوں نے حق پہچان لیا۔ (Al-Maidah 5:83)

5:83صفحہ 122 · پارہ 7

وَإِذَا سَمِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا۟ مِنَ ٱلْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّـٰهِدِينَ ۝٨٣

اور جب وه رسول کی طرف نازل کرده (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وه کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

غلطی کے اعتراف اور مغفرت و رحمت کی دعا

لغزش کے بعد آدم اور ان کی زوجہ کے الفاظ، جن میں انہوں نے مغفرت اور رحمت مانگی۔ (Al-Araf 7:23)

7:23صفحہ 153 · پارہ 8

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ ۝٢٣

دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔[1]

ترجمے کے حواشی
[1] توبہ واستغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم (عليه السلام) نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے سیکھے، جیسا کہ سورۂ بقرہ، آیت 37 میں صراحت ہے۔ (دیکھئے آیت مذکورہ کا حاشیہ) گویا شیطان نے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تو اس کے بعد وہ اس پر نہ صرف اڑ گیا بلکہ اس کے جواز و اثبات میں عقلی و قیاسی دلائل دینے لگا۔ نتیجتاً وہ راندۂ درگاہ اور ہمیشہ کے لئے ملعون قرار پایا اور حضرت آدم (عليه السلام) نے اپنی غلطی پر ندامت و پشیمانی کا اظہار اور بارگاہ الٰہی میں توبہ و استغفار کا اہتمام کیا۔ تو اللہ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے۔ یوں گویا دونوں راستوں کی نشان دہی ہوگئی، شیطانی راستے کی بھی اور اللہ والوں کے راستے کی بھی۔ گناہ کرکے اس پر اترانا، اصرار کرنا اور اس کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ”دلائل“ کے انبار فراہم کرنا، شیطانی راستہ ہے۔ اور گناہ کے بعد احساس ندامت ہوکر بارگاہ الٰہی میں جھک جانا اور توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا، بندگان الٰہی کا راستہ ہے۔ اللَّهُمَّ! اجْعَلْنَا مِنْهُمْ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

ظالموں کے ساتھ نہ رکھے جانے کی دعا

جنت اور دوزخ کے درمیان بلندیوں پر موجود لوگوں کے الفاظ۔ (Al-Araf 7:47)

7:47صفحہ 156 · پارہ 8

۞ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَـٰرُهُمْ تِلْقَآءَ أَصْحَـٰبِ ٱلنَّارِ قَالُوا۟ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ۝٤٧

اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہم کو ان ﻇالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

صبر اور اسلام پر موت کی دعا

فرعون کے جادوگروں کے الفاظ، جب وہ ایمان لائے اور انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ (Al-Araf 7:126)

7:126صفحہ 165 · پارہ 9

وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِـَٔايَـٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ۚ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ۝١٢٦

اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا ہے بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے[1] ، جب وه ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما[2] اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال۔[3]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی تیرے نزدیک ہمارا یہی عیب ہے ۔ جس پر تو ہم سے ناراض ہوگیا ہے اور ہمیں سزا دینے پر تل گیا ہے۔ دراں حالیکہ یہ سرے سے عیب ہی نہیں ہے۔ یہ تو خوبی ہے، بہت بڑی خوبی، کہ جب حقیقت ہمارے سامنے واضح ہوکر آگئی تو ہم نے اس کے مقابلے میں تمام دنیاوی مفادات ٹھکرا دیئے اور حقیقت کو اپنا لیا۔ پھر انہوں نے اپنا روئے سخن فرعون سے پھیر کر اللہ کی طرف کرلیا اور اس کی بارگاہ میں دست بدعا ہوگئے۔ [2] تاکہ ہم تیرے اس دشمن کے عذاب کو برداشت کر لیں، اور حق میں متصلب اور ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ [3] اس دنیاوی آزمائش سے ہمارے اندر ایمان سے انحراف آئے نہ کسی اور فتنے میں ہم مبتلا ہوں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

ظالموں کے لیے آزمائش نہ بننے کی دعا

موسیٰ کی قوم کے الفاظ، جنہوں نے اللہ پر بھروسا کیا۔ (Yunus 10:85–86)

10:85صفحہ 218 · پارہ 11

فَقَالُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ۝٨٥

انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ﻇالموں کے لئے فتنہ نہ بنا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
10:86صفحہ 218 · پارہ 11

وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ ۝٨٦

اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] اللہ پر توکل کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں دعائیں بھی کیں۔ اور یقینا اہل ایمان کے لئے یہ ایک بہت بڑا ہتھیار بھی ہے اور سہارا بھی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

اپنے اور اولاد کے لیے نماز قائم رکھنے کی دعا

ابراہیم دعا کرتے ہیں کہ وہ اور ان کی اولاد نماز قائم رکھیں۔ (Ibrahim 14:40)

14:40صفحہ 260 · پارہ 13

رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ۝٤٠

اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اوﻻد سے بھی[1] ، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما.

ترجمے کے حواشی
[1] اپنے ساتھ اپنی اولاد کے لئے بھی دعا مانگی، جیسے اس سے قبل بھی اپنے ساتھ اپنی اولاد کے لئے بھی دعا مانگی کہ انہیں پتھر کی مورتیوں کو پوجنے سے بچا رکھنا۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دین کے داعیوں کو اپنے گھر والوں کی ہدایت اور ان کی دینی تعلیم و تربیت سے غافل نہیں رہنا چاہیے تبلیغ و دعوت میں انہیں اولیت دینی چاہیے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) کو بھی حکم دیا«وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ» (الشعراء:214) ”اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے“۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

اپنے، والدین اور اہلِ ایمان کے لیے مغفرت کی دعا

ابراہیم کی دعا کا حصہ۔ (Ibrahim 14:41)

14:41صفحہ 260 · پارہ 13

رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ ۝٤١

اے ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی بخش[1] اور دیگر مومنوں کو بھی بخش جس دن حساب ہونے لگے.

ترجمے کے حواشی
[1] حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے یہ دعا اس وقت کی جب کہ ابھی ان پر اپنے ماں باپ کا عَدُوُّ الله ِ ہونا واضح نہیں ہوا تھا، جب یہ واضح ہوگیا کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے اظہار سبکدوشی کر دیا۔ اس لئے کہ مشرکین کے لئے دعا کرنا جائز نہیں چاہے وہ قرابت قریبہ ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

رحمت اور معاملے کی درستی کی دعا

غار میں پناہ لینے والے نوجوانوں کے الفاظ۔ (Al-Kahf 18:10)

18:10صفحہ 294 · پارہ 15

إِذْ أَوَى ٱلْفِتْيَةُ إِلَى ٱلْكَهْفِ فَقَالُوا۟ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا ۝١٠

ان چند نوجوانوں نے جب غار میں پناه لی تو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راه یابی کو آسان کردے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یہ وہی نوجوان ہیں جنہیں اصحاب کہف کہا گیا، (تفصیل آگے آرہی ہے) انہوں نے جب اپنے دین کو بچاتے ہوئے غار میں پناہ لی تو یہ دعا مانگی۔ اصحاب کہف کے اس قصے میں نوجوانوں کے لئے بڑا سبق ہے، آج کل کے نوجوانوں کا بیشتر وقت فضولیات میں برباد ہوتا ہے اور اللہ کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ کاش! آج کے مسلمان نوجوان اپنی جوانیوں کو اللہ کی عبادت میں صرف کریں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

ایمان کا اقرار اور مغفرت و رحمت کی دعا

اللہ کے بندوں کے ایک گروہ کے الفاظ، جن کا ذکر قیامت کے دن کیا جائے گا۔ (Al-Muminun 23:109)

23:109صفحہ 349 · پارہ 18

إِنَّهُۥ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِى يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰحِمِينَ ۝١٠٩

میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو برابر یہی کہتی رہی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان ﻻچکے ہیں تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما تو سب مہربانوں سے زیاده مہربان ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

جہنم کے عذاب سے نجات کی دعا

رحمٰن کے بندوں کی صفات میں سے۔ (Al-Furqan 25:65)

25:65صفحہ 365 · پارہ 19

وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ۝٦٥

اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے واﻻ ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] اس سے معلوم ہوا کہ رحمٰن کےبندے وہ ہیں جو ایک طرف راتوں کو اٹھ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں کسی غلطی یا کوتاہی پر اللہ کی گرفت میں نہ آجائیں، اس لیے وہ عذاب جہنم سے بھی پناہ طلب کرتے ہیں۔ گویا اللہ کی عبادت و اطاعت کےباوجود اللہ کےعذاب اور اس کےمواخذے سے انسان کو بے خوف اور اپنی عبادات و طاعات الٰہی پر کسی غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی مفہوم کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایاگیا ہے۔ «وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ» (المؤمنون: 60) ”اور وہ لوگ کہ جو کچھ دیتے ہیں۔ اور ان کے دل ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں“ ڈر صرف اسی بات کا نہیں کہ انہیں بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونا ہے، بلکہ اس کے ساتھ، اس کا بھی کہ ان کا صدقہ و خیرات قبول ہوتا ہے یا نہیں؟ حدیث میں آیت کی تفسیر میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے اس آیت کی بابت پوچھا کہ کیا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، نہیں، اے ابوبکر کی بیٹی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے،نماز پڑھتے اور صدقہ کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے یہ اعمال نامقبول نہ ہوجائیں۔ (الترمذي، كتاب التفسير، سورة المؤمنون)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

شریکِ حیات اور اولاد سے سکون کی دعا

رحمٰن کے بندوں کی صفات میں سے۔ (Al-Furqan 25:74)

25:74صفحہ 366 · پارہ 19

وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَٰجِنَا وَذُرِّيَّـٰتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَٱجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ۝٧٤

اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما [1] اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی انہیں اپنا بھی فرماں بردار بنا اور ہمارا بھی اطاعت گزار، جس سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ [2] یعنی ایسا اچھا نمونہ کہ خیرمیں وہ ہماری اقتدا کریں۔ٍ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

اہلِ ایمان کے لیے فرشتوں کی دعا

عرش اٹھانے والے فرشتے اہلِ ایمان اور ان کے گھر والوں کے لیے مغفرت اور حفاظت مانگتے ہیں۔ (Ghafir 40:7–9)

40:7صفحہ 467 · پارہ 24

ٱلَّذِينَ يَحْمِلُونَ ٱلْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُۥ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِۦ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَىْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا فَٱغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا۟ وَٱتَّبَعُوا۟ سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ ٱلْجَحِيمِ ۝٧

عرش کے اٹھانے والے اور اسکے آس پاس کے (فرشتے) اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استفغار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راه کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] اس میں ملائکہ مقربین کے ایک خاص گروہ کا تذکرہ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں، اس کی وضاحت ہے، یہ گروہ ہے ان فرشتوں کا جو عرش کو اٹھائے ہوئےہیں اور وہ جو عرش کے اردگرد ہیں۔ ان کا ایک کام یہ ہے کہ یہ اللہ کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں، یعنی نقائص سے اس کی تنزیہ، کمالات اور خوبیوں کا اس کے لیے اثبات اور اس کے سامنے عجز و تذلل یعنی (ایمان) کا اظہار کرتے ہیں۔ دوسرا کام ا ن کا یہ ہے کہ یہ اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، کہا جاتا ہےکہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے چار ہیں، مگر قیامت والے دن ان کی تعداد آٹھ ہو گی۔ (ابن کثیر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
40:8صفحہ 468 · پارہ 24

رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـٰتِ عَدْنٍ ٱلَّتِى وَعَدتَّهُمْ وَمَن صَلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَٰجِهِمْ وَذُرِّيَّـٰتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ۝٨

اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا جن کا تو نے ان سے وعده کیا ہے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻد میں سے (بھی) ان (سب) کو جو نیک عمل ہیں[1] ۔ یقیناً تو تو غالب و باحکمت ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ان سب کو جنت میں جمع فرما دے تاکہ ایک دوسرےکو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اس مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ» (الطور: 21) ”وہ لوگ جو ایمان لائےاور ان ہی کی پیروی ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ کی۔ ملا دیا ہم نے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو اورہم نے ان کے عملوں میں سے کچھ کم نہیں کیا“۔ یعنی سب کو جنت میں اس طرح یکساں مرتبہ دے دیا کہ ادنیٰ کو بھی اعلیٰ مقام عطا کر دیا۔ یہ نہیں کیا کہ اعلیٰ مقام میں کمی کر کے انہیں ادنیٰ مقام پر لے آئے،بلکہ ادنیٰ کو اٹھا کر اعلیٰ کردیا اور اس کےعمل کی کمی کو اپنے فضل و کرم سے پورا کر دیا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
40:9صفحہ 468 · پارہ 24

وَقِهِمُ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ وَمَن تَقِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُۥ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ۝٩

انہیں برائیوں سے بھی محفوظ رکھ[1] ، حق تو یہ ہے کہ اس دن تونے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحمت کر دی اور بہت بڑی کامیابی تو یہی ہے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] سیئات سے مرادیہاں عقوبات ہیں یا پھر جزا محذوف ہے یعنی انہیں آخرت کی سزاوں سے یا برائیوں سےبچانا۔ [2] یعنی آخرت کے عذاب سے بچ جانا اور جنت میں داخل ہو جانا، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس لیے کہ اس جیسی کوئی کامیابی نہیں اور اس کے برابر کوئی نجات نہیں۔ ان آیات میں اہل ایمان کے لیے دو عظیم خوش خبریاں ہیں، ایک تویہ کہ فرشتے ان کے لیےغائبانہ دعاکرتے ہیں۔ (جس کی حدیث میں بڑی فضیلت واردہے) دوسری، یہ کہ اہل ایمان کے خاندان جنت میں اکٹھے ہو جائیں گے۔ جَعَلَنَا اللهُ مِنَ الَّذِينَ يُلْحِقُهُمُ اللهُ بِآبَائِهِمُ الصَّالِحِينَ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

اپنے اور پہلے گزرے اہلِ ایمان کے لیے مغفرت کی دعا

اہلِ ایمان کی پچھلی نسلوں کے لیے اور کینے سے پاک دلوں کے لیے دعا۔ (Al-Hashr 59:10)

59:10صفحہ 547 · پارہ 28

وَٱلَّذِينَ جَآءُو مِنۢ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلْإِيمَـٰنِ وَلَا تَجْعَلْ فِى قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ۝١٠

اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال[1] ، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت ومہربانی کرنے واﻻ ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یہ مال فیء کے مستحقین کی تیسری قسم ہے، یعنی صحابہ (رضي الله عنهم) کے بعد آنے والے اور صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے۔ اس میں تابعین اور تبع تابعین اور قیامت تک ہونے والے اہل ایمان وتقویٰ آگئے۔ لیکن شرط یہی ہے کہ وہ انصار ومہاجرین کو مومن ماننے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنے والے ہوں نہ کہ ان کے ایمان میں شک کرنے اور ان پر سب وشتم کرنے اور ان کے خلاف اپنے دلوں میں بغض وعناد رکھنے والے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے یہی بات ارشاد فرمائی ہے «إِنَّ الرَّافِضِيَّ الَّذِي يَسُبُّ الصَّحَابَةَ لَيْسَ لَهُ فِي مَالِ الْفَيْءِ نَصِيبٌ لِعَدَمِ اتِّصَافِهِ بِمَا مَدَحَ اللهُ بِهِ هَؤُلاءِ فِي قُلُوبِهِمْ» ”رافضی کو جو صحابہ کرام (رضي الله عنهم) پر سب وشتم کرتے ہیں مال فیء سے حصہ نہیں ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کی مدح کی ہے اور رافضی ان کی مذمت کرتے ہیں“۔ (ابن کثیر) اور حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں۔ «أُمِرْتُمْ بِالاسْتِغْفَارِ لأَصْحَابِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَبْتُمُوهُمْ! سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ يَقُولُ : ”لا تَذْهَبُ هَذِهِ الأمَّةُ حَتَّى يَلْعَنَ آخِرُهَا أَوَّلَهَا .... »(رواه البغوي) ”تم لوگوں کو اصحاب محمد (صلى الله عليه وسلم) کے لیے استغفار کا حکم دیا گیا۔ مگر تم نے ان پر لعن طعن کی۔ میں نے تمہارے نبی کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ امت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ اس کے آخرین اولین پر لعنت نہ کریں“۔ (حوالۂ مذکور)
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

اللہ پر توکل اور اس کی طرف رجوع کی دعا

ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی دعا کا حصہ۔ (Al-Mumtahanah 60:4)

60:4صفحہ 549 · پارہ 28

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذْ قَالُوا۟ لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُا۟ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةُ وَٱلْبَغْضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَحْدَهُۥٓ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ ۝٤

(مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے[1] ، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں[2]۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ﻇاہر ہوگئی[3] لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی[4] کہ میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لیے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے[5] اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] کفار سے عدم موالات کے مسئلے کی توضیح کے لیے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی مثال دی جارہی ہے أُسْوَةٌ کے معنی ہوتے ہیں، ایسا نمونہ جس کی اقتدا کی جائے۔ [2] یعنی شرک کی وجہ سے ہمارا اور تمہارا کوئی تعلق نہیں، اللہ کے پرستاروں کا بھلا غیر اللہ کے پجاریوں سے کیا تعلق؟ [3] یعنی یہ علیحدگی اور بیزاری اس وقت تک رہے گی جب تک تم کفروشرک چھوڑ کر توحید کو نہیں اپنالو گے۔ ہاں جب تم ایک اللہ کو ماننے والے بن جاؤ گے تو پھر یہ عداوت موالات میں اور یہ بغض محبت میں بدل جائے گا۔ [4] یہ ایک استثنا ہے جو فی ابراہیم میں مقدر محذوف مضاف سے ہے۔ یعنی «قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي مَقَالاتِ إِبْرَاهيِمَ إِلا قَوْلَهُ لأبِيهِ یا أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» سے استثنا ہے، اس لیے کہ قول بھی منجملہ اسوہ ہے۔ گویا کہا جارہا ہے۔ «قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ فِي جَمِيعِ أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ إِلا قَوْلَهُ لأبِيهِ»(فتح القدير) مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی پوری زندگی ایک قابل تقلید نمونہ ہے، البتہ ان کا اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا یہ فعل اس وقت کا ہے جب ان کو اپنے باپ کی بابت علم نہیں تھا، چنانچہ جب ان پر یہ واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اپنے باپ سے بھی اظہار براءت کر دیا، جیسا کہ سورۂ براءت آیت 114 میں ہے۔ (سورۂ براءت سورۂ توبہ کو کہا جاتا ہے)۔ [5] توکل کا مطلب ہے۔ امکانی حد تک ظاہری اسباب ووسائل اختیار کرنے کے بعد معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے۔ یہ مطلب نہیں کہ ظاہری وسائل اختیار کیے بغیر ہی اللہ پر اعتماد اور توکل کا اظہار کیا جائے، اس سے ہمیں منع کیا گیا ہے، اس لیے توکل کا یہ مفہوم بھی غلط ہوگا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اونٹ کو باہر کھڑا کرکے اندر آگیا ، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے پوچھا تو کہا میں اونٹ اللہ کے سپرد کر آیا ہوں، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ یہ توکل نہیں ہے۔ ”اعْقِلْ وَتَوَكَّلْ“ پہلے اسے کسی چیز سے باندھ ، پھر اللہ پر بھروسہ کر۔ (ترمذی) انابت کا مطلب ہے، اللہ کی طرف رجوع کرنا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

کفر کرنے والوں کے لیے آزمائش نہ بننے کی دعا

ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی دعا کا حصہ۔ (Al-Mumtahanah 60:5)

60:5صفحہ 549 · پارہ 28

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَٱغْفِرْ لَنَا رَبَّنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ۝٥

اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال[1] اور اے ہمارے پالنے والے ہماری خطاؤں کو بخش دے، بیشک تو ہی غالب، حکمت واﻻ ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی کافروں کو ہم پر غلبہ وتسلط عطا نہ فرما، اس طرح وہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں، اور یوں ہم ان کے لیے فتنے کا باعث بن جائیں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے ہاتھوں یا اپنی طرف سے ہمیں کسی سزا سے دو چار نہ کرنا، اس طرح بھی ہمارا وجود ان کے لیے فتنہ بن جائے گا، وہ کہیں گے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو ان کو یہ تکلیف کیوں پہنچتی؟
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ

نور کی تکمیل اور مغفرت کی دعا

قیامت کے دن اہلِ ایمان کے الفاظ، اس آیت میں جو سچی توبہ کی دعوت دیتی ہے۔ (At-Tahrim 66:8)

66:8صفحہ 561 · پارہ 28

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ تُوبُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ يَوْمَ لَا يُخْزِى ٱللَّهُ ٱلنَّبِىَّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ ۖ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَـٰنِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَٱغْفِرْ لَنَآ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ۝٨

اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو[1] ۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناه دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان والوں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما[2] اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] خالص توبہ یہ ہے کہ، 1- جس گناہ سے توبہ کر رہا ہے، اسے ترک کر دے۔ 2- اس پر اللہ کی بارگاہ میں ندامت کا اظہار کرے، 3- آئندہ اسے نہ کرنے کا عزم رکھے، 4- اگر اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو جس کا حق غصب کیا ہے اس کا ازالہ کرے، جس کے ساتھ زیادتی کی ہے اس سے معافی مانگے، محض زبان سے توبہ توبہ کر لینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ [2] یہ دعا اہل ایمان اس وقت کریں جب منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا، جیسا سورہ حدید میں تفصیل گزری، اہل ایمان کہیں گے، جنت میں داخل ہونے تک ہمارے اس نور کو باقی رکھ اور اس کا اتمام فرما۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3سیاق کے ساتھ پڑھیں
میری سوچ
متنی مآخذ اور صحت

اصل عربی: Tanzil Uthmani v1.1. معانی کا ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3.

تمام 6,236 آیات کے حوالے ماخذ سے جانچے گئے ہیں۔ یہ سالمیت کی فنی جانچ ہے، آزاد علمی جائزہ نہیں۔ ابتدائی بسم اللہ اسی طرح محفوظ ہیں جیسے فراہم کی گئی تھیں۔

# PLEASE DO NOT REMOVE OR CHANGE THIS COPYRIGHT BLOCK
#====================================================================
#
#  Tanzil Quran Text (Uthmani, Version 1.1)
#  Copyright (C) 2007-2026 Tanzil Project
#  License: Creative Commons Attribution 3.0
#
#  This copy of the Quran text is carefully produced, highly 
#  verified and continuously monitored by a group of specialists 
#  at Tanzil Project.
#
#  TERMS OF USE:
#
#  - Permission is granted to copy and distribute verbatim copies 
#    of this text, but CHANGING IT IS NOT ALLOWED.
#
#  - This Quran text can be used in any website or application, 
#    provided that its source (Tanzil Project) is clearly indicated, 
#    and a link is made to tanzil.net to enable users to keep
#    track of changes.
#
#  - This copyright notice shall be included in all verbatim copies 
#    of the text, and shall be reproduced appropriately in all files 
#    derived from or containing substantial portion of this text.
#
#  Please check updates at: http://tanzil.net/updates/
#
#====================================================================
مکمل ماخذی تفصیل اور اجازتیں

مزید قرآنی دعائیں

حدیث میں سکھائی گئی دعائیں، جیسے صبح و شام کے اذکار، حوالوں سمیت یہاں بیان کی گئی ہیں: اذکار پر ہمارا رہنما مضمون.

ذکر شمار کنندہ کھولیں
حوالوں کے ساتھ مطالعہ

تفصیلی رہنما مضامین

واضح حوالوں اور اگلے عملی اقدامات کے ساتھ انگریزی میں مکمل رہنما مضامین پڑھیں۔

تمام رہنما مضامین

ترجمے کا ماخذ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center.
ماخذ کا نسخہ: 1.1.3 · 2025-08-13

QuranEnc.com · معانی کا ترجمہ

ماخذ کی اجازتیں · ترجمے کے مسئلے کی اطلاع دیں

اس زبان کے نسخے میں نام زد شائع شدہ قرآنی ترجمہ استعمال ہوا ہے، الہامی متن کا خودکار ترجمہ نہیں۔

انٹرفیس کا ترجمہ AI کی مدد سے تیار ہوا ہے۔ مادری زبان کے ماہر کا آزاد جائزہ ابھی باقی ہے۔ ترجمے کے مسئلے کی اطلاع دیں · اصل انگریزی پڑھیں