[1] وَقْرٌ ہر وہ بوجھ جسے کوئی جاندار لے کر چلے، حاملات سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو اٹھائے ہوئے ہیں، یاپھر وہ بادل ہیں جو پانی کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں جیسےچوپائے، حمل کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
[1] مُقَسِّمَاتٌ اس سےمراد وہ فرشتے ہیں جو کاموں کو تقسیم کر لیتے ہیں۔ کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی (قحط سالی وغیرہ) کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بنایا ہے، جیسے فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں یقیناً وہ سچے ہیں اور قیامت برپا ہو کر رہے گی جس میں انصاف کیا جائے گا۔ یہ ہواؤں کا چلنا، بادلوں کا پانی کو اٹھانا، سمندروں میں کشتیوں اور فرشتوں کا مختلف امور کو سرانجام دینا، قیامت کے وقوع پر دلیل ہے، کیونکہ جو ذات یہ سارےکام کرتی ہے جو بظاہر نہایت مشکل اور اسباب عادیہ کےخلاف ہیں، وہی ذات قیامت والے دن تمام انسانون کو دوبارہ زندہ بھی کر سکتی ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
[1] دوسرا ترجمہ، حسن وجمال اور زینت ورونق والا کیا گیا ہے، چاند،سورج ، کواکب وسیارات، روشن ستارے، اس کی بلندی اور وسعت، یہ سب چیزیں آسمان کی رونق وزینت اور خوب صورتی کا باعث ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
[1] یعنی اے اہل مکہ ! تمہارا کسی بات میں آپس میں اتفاق نہیں ہے۔ ہمارے پیغمبر کو تم میں سے کوئی جادوگر، کوئی شاعر، کوئی کاﮨﻦ اور کوئی کذاب کہتا ہے۔ اسی طرح کوئی قیامت کی بالکل نفی کرتاہے، کوئی شک کا اظہار، علاوہ ازیں ایک طرف اللہ کے خالق اور رازق ہونے کا اعتراف کرتے ہو، دوسری طرف دوسروں کو بھی معبود بنا رکھا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
[1] یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لانے سے، یا حق سےیعنی بعث وتوحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے۔ دوسرے میں مدح۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
[1] هُجُوعٌ کے معنی ہیں، رات کو سونا، مَا يَهْجَعُونَ میں ما تاکید کے لئے ہے۔ وہ رات کو کم سوتے تھے، مطلب ہے ساری رات سو کر غفلت اور عیش وعشرت میں نہیں گزار دیتے تھے۔ بلکہ رات کا کچھ حصہ اللہ کی یاد میں اور اس کی بارگاہ میں گڑگڑاتے ہوئے گزارتے تھے۔ جیسا کہ احادیث میں بھی قیام اللیل کی تاکید ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں فرمایا ”لوگو ! لوگوں کو کھانا کھلاؤ، صلۂ رحمی کرو، سلام پھیلاؤ اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“۔ (مسند احمد 5/ 451)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
[1] وقت سحر، قبولیت دعا کے بہترین اوقات میں سے ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ (جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ندا دیتا ہے کہ کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسےبخش دوں، کوئی سائل ہے کہ میں اس کے سوال کو پورا کر دوں۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ (صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين ، باب الترغيب في الدعاء والذكر في آخر الليل والإجابة فيه)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چنانچہ مستحق ہونے کے باوجود لوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی وسماوی میں،تباہ ہو جائے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزده ہوگئے[1] انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے[2]۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی.
ترجمے کے حواشی
[1] ڈر اس لئے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) سمجھے، یہ کھانا نہیں کھا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آنے والے کسی خیر کی نیت سے نہیں بلکہ شر کی نیت سے آئے ہیں۔
[2] حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے چہرے پر خو ف کے آثار دیکھ کر فرشتوں نے کہا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وه حکیم وعلیم ہے.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جس طرح ہم نے تجھے کہا ہے، یہ ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے، بلکہ تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے جس کی ہم تجھے اطلاع دے رہے ہیں، اس لئے اس پر تعجب کی ضرورت ہے نہ شک کرنے کی، اس لئے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہ لامحالہ ہو کر رہتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
جو تیرے رب کی طرف سے نشان زده ہیں، ان حد سے گزر جانے والوں کے لیے.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] مُسَوَّمَةً (نامزد یا نشان زدہ) ان کی مخصوص علامت تھی جن سے انہیں پہچان لیا جاتا تھا، یا وہ عذاب کےلیے مخصوص تھیں، بعض کہتے ہیں کہ جس کنکری سے جس کی موت واقع ہونی تھی، اس پر اس کا نام لکھا ہوتا تھا مُسْرِفِينَ جو شرک و ضلالت میں بڑھے ہوئے اور فسق و فجور میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] اور یہ اللہ کے پیغمبر حضرت لوط (عليه السلام) کاگﮭر تھا، جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ان پر ایمان لانے والے تھے۔ کہتے ہیں یہ کل تیرہ آدمی تھے ان میں حضرت لوط (عليه السلام) کی بیوی شامل نہیں تھی۔ بلکہ وہ اپنی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہونے والوں میں سے تھی۔ (ایسر التفاسیر) اسلام کے معنی ہیں، اطاعت و انقیاد۔ اللہ کے حکموں پر سر اطاعت خم کر دینے والا مسلم ہے، اس اعتبار سے ہر مومن،مسلمان ہے۔ اسی لیےپہلے ان کے لیے مومن کا لفظ استعمال کیا، اور پھر ان ہی کے لیے مسلم کا لفظ بولا گیا ہے۔ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ ان کے مصداق میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جیساکہ بعض لوگ مومن اور مسلم کے درمیان کرتے ہیں۔ قرآن نے جو کہیں مومن اور کہیں مسلم کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ ان معانی کے اعتبار سے ہے جو عربی لغت کی رو سے ان کے درمیان ہے۔ اس لیےلغوی استعمال کے مقابلے میں حقیقت شرعیہ کا اعتبار زیادہ ضروری ہے اور حقیقت شرعیہ کے اعتبارسےان کے درمیان صرف وہی فرق ہے جو حدیث جبرائیل (عليه السلام) سے ثابت ہے۔ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) سے پوچھا گیا کہ اسلام کیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا، لا الہٰ الا اللہ کی شہادت، اقامت صلوۃ، ایتائے زکوٰۃ، حج اور صیام رمضان۔ اور جب ایمان کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا؟ ”اللہ پر ایمان لانا، اس کے ملائکہ، کتابوں، رسولوں اور تقدیر (خیر وشر کے من جانب اللہ ہونے) پر ایمان رکھنا“ یعنی دل سے ان چیزوں پر یقین رکھنا ایمان اور احکام و فرائض کی ادائیگی اسلام ہے۔ اس لحاظ سے ہر مومن، مسلمان اورہر مسلمان مومن ہے (فتح القدیر) اور جو مومن اورمسلم کے درمیان فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہےکہ یہاں قرآن نے ایک ہی گروہ کے لیے مومن اور مسلم کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن ان کے درمیان جو فرق ہے اس کی رو سےہر مومن، مسلم بھی ہے، تاہم ہرمسلم کا مومن ہونا ضروری نہیں (ابن کثیر) بہرحال یہ ایک علمی بحث ہے فریقین کے پاس اپنے اپنے موقف پر استدلال کےلیے دلائل موجود ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور وہاں ہم نے ان کے لیے جو درد ناک عذاب کا ڈر رکھتے ہیں ایک (کامل) علامت چھوڑی.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یہ آیت یا کامل علامت وہ آثار عذاب ہیں جو ان ہلاک شدہ بستیوں میں ایک عرصے تک باقی رہے۔ اور یہ علامت بھی انہی کے لیے ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ وعظ ونصیحت کا اثر بھی وہی قبول کرتے اور آیات میں غور وفکر بھی وہی کرتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اسی طرح عادیوں میں[1] بھی (ہماری طرف سے تنبیہ ہے) جب کہ ہم نے ان پر خیر وبرکت سے[2] خالی آندھی بھیجی.
ترجمے کے حواشی
[1] أَيْ : تَرَكْنَا فِي قِصَّةِ عَادٍ آيَةً عاد کے قصے میں بھی ہم نے نشانی چھوڑی۔
[2] الرِّيحَ الْعَقِيمَ (بانجھ ہوا) جس میں خیر وبرکت نہیں تھی، وہ ہوا درختوں کو ثمر آور کرنے والی تھی نہ بارش کی پیامبر، بلکہ صرف ہلاکت اور عذاب کی ہوا تھی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور ﺛمود (کے قصے) میں بھی (عبرت) ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائده اٹھا لو.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جب انہوں نے اپنے ہی طلب کردہ معجزے اوٹنی کو قتل کر دیا، تو ان کو کہہ دیا گیا کہ اب تین دن اور تم دنیا کے مزے لوٹ لو، تین دن کے بعد تم ہلاک کر دیے جاؤ گے یہ اسی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے اسےحضرت صالح (عليه السلام) کی ابتدائے نبوت کا قول قرار دیا ہے۔ الفاظ اس مفہوم کے بھی متحمل ہیں بلکہ سیاق سے یہی معنی زیادہ قریب ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا بھی اس سے پہلے (یہی حال ہو چکا تھا) وه بھی بڑے نافرمان لوگ تھے.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] قوم نوح، عاد، فرعون اور ثمود وغیرہ سے پہلے گزری ہے۔ اس نے بھی اطاعت الٰہی کے بجائے اس کی بغاوت کا راستہ اختیار کیا تھا۔ بالآخر طوفان میں ڈبو دیا گیا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
آسمان کو ہم نے (اپنے) ہاتھوں سے بنایا ہے[1] اور یقیناً ہم کشادگی کرنے والے ہیں.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] السَّمَاءَ منصوب ہے۔ بَنَيْنَا محذوف کی وجہ سے بَنَيْنَا السَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا۔
[2] یعنی آسمان پہلے ہی بہت وسیع ہے لیکن ہم اس کو اس سے بھی زیادہ وسیع کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یا آسمان سےبارش برساکر روزی کشادہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں یا مُوسِعٌ کو وُسْعٌ سے قرار دیاجائے۔ (طاقت وقدرت رکھنے والے) تومطلب ہوگا کہ ہمارے اندر اس جیسے اور آسمان بنانے کی بھی طاقت موجودہے۔ ہم آسمان و زمین بناکر تھک نہیں گئے ہیں بلکہ ہماری قدرت و طاقت کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا پیداکیا[1] ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ہر چیز کو جوڑا جوڑا، نر اور مادہ یا اس کی مقابل اور ضد کو بھی پیدا کیا ہے۔ جیسے روشنی اور اندھیرا، خشکی اور تری، چاند اور سورج، میٹھا اور کڑوا، رات اور دن، خیر اور شر، زندگی اور موت، ایمان اور کفر، شقاوت اور سعادت، جنت اور دوزخ، جن وانس وغیرہ، حتیٰ کہ حیوانات (جاندار) کے مقابل، جمادات (بے جان) اس لیے ضروری ہے کہ دنیاکا بھی جوڑا ہو یعنی آخرت، دنیا کے بالمقابل دوسری زندگی۔
[2] یہ جان لو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھراؤ۔ بیشک میں تمہیں اس کی طرف سے کھلا ڈرانے واﻻ ہوں.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی میں تمہیں کھول کھول کر ڈرا رہا اور تمہاری خیرخواہی کر رہا ہوں کہ صرف ایک اللہ کی طرف رجوع کرو،اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرو اور صرف اسی ایک کی عبادت کرو، اس کےساتھ دوسرے معبودوں کو شریک مت کرو۔ ایسا کرو گے تو یاد رکھنا، جنت کی نعمتوں سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاؤ گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
کیایہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ہر بعد میں آنے والی قوم نے اس طرح رسولوں کی تکذیب کی اور انہیں جادوگر اور دیوانہ قرار دیا، جیسے پچھلی قومیں بعد میں آنے والی قوموں کے لیے وصیت کر کے جاتی رہی ہیں۔ یکے بعد دیگرے ہر قوم نے یہی تکذیب کا راستہ اختیار کیا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
(نہیں) بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں[1] ۔ تو آپ ان سے منھ پھیر لیں آپ پر کوئی ملامت نہیں.
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ایک دوسرے کو وصیت تو نہیں کی بلکہ ہر قوم ہی اپنی اپنی جگہ سرکش ہے، اس لیے ان سب کے دل بھی متشابہ ہیں اور ان کے طور اطوار بھی ملتے جلتے۔ اس لیے متاخرین نے بھی وہی کچھ کہا اور کیا جو متقدمین نے کہا اور کیا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] اس لیے کہ نصیحت سے فائدہ انہیں کو پہنچتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں، اس نصیحت سے وہ لوگ یقیناً فائدہ اٹھائیں گے جن کی بابت اللہ کے علم میں ہے کہ وہ ایمان لائیں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] اس میں اللہ تعالیٰ کے اس ارادۂ شرعیہ تکلیفیہ کا اظہار ہے جو اس کو محبوب ومطلوب ہے کہ تمام انس وجن صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اطاعت بھی اسی ایک کی کریں۔ اگر اس کا تعلق ارادۂ تکوینی سے ہوتا، پھر تو کوئی انس وجن اللہ کی عبادت واطاعت سے انحراف کی طاقت ہی نہ رکھتا۔ یعنی اس میں انسانوں اور جنوں کو اس مقصد زندگی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، جسے اگر انہوں نے فراموش کیے رکھا تو آخرت میں سخت بازپرس ہوگی اور وہ اس امتحان میں ناکام قرار پائیں گے جس میں اللہ نے ان کو ارادہ واختیار کی آزادی دے کر ڈالا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی میری عبادت واطاعت سے میرا مقصود یہ نہیں ہے کہ یہ مجھے کما کر کھلائیں، جیساکہ دوسرے آقاؤں کا مقصود ہوتاہے، بلکہ رزق کےسارے خزانے تو خود میرے ہی پاس ہیں میری عبادت واطاعت سے تو خود ان ہی کو فائدہ ہو گا کہ ان کی آخرت سنور جائے گی نہ کہ مجھے کوئی فائدہ ہو گا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
پس جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے انہیں بھی ان کے ساتھیوں کے حصہ کے مثل حصہ ملے گا[1] ، لہٰذا وه مجھ سے جلدی طلب نہ کریں.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] ذَنُوبٌ کے معنی بھرے ڈول کےہیں۔ کنویں سے ڈول میں پانی نکالا کر تقسیم کیا جاتا ہے اس اعتبار سے یہاں ڈول کو حصے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ ظالموں کو عذاب سے حصہ پہنچے گا، جس طرح اس سے پہلے کفر وشرک کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے عذاب کا حصہ ملا تھا۔
[2] لیکن یہ حصۂ عذاب انہیں کب پہنچے گا، یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، اس لیے طلب عذاب میں جلدی نہ کریں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اصل عربی: Tanzil Uthmani v1.1. معانی کا ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3.
تمام 6,236 آیات کے حوالے ماخذ سے جانچے گئے ہیں۔ یہ سالمیت کی فنی جانچ ہے، آزاد علمی جائزہ نہیں۔ ابتدائی بسم اللہ اسی طرح محفوظ ہیں جیسے فراہم کی گئی تھیں۔
# PLEASE DO NOT REMOVE OR CHANGE THIS COPYRIGHT BLOCK
#====================================================================
#
# Tanzil Quran Text (Uthmani, Version 1.1)
# Copyright (C) 2007-2026 Tanzil Project
# License: Creative Commons Attribution 3.0
#
# This copy of the Quran text is carefully produced, highly
# verified and continuously monitored by a group of specialists
# at Tanzil Project.
#
# TERMS OF USE:
#
# - Permission is granted to copy and distribute verbatim copies
# of this text, but CHANGING IT IS NOT ALLOWED.
#
# - This Quran text can be used in any website or application,
# provided that its source (Tanzil Project) is clearly indicated,
# and a link is made to tanzil.net to enable users to keep
# track of changes.
#
# - This copyright notice shall be included in all verbatim copies
# of the text, and shall be reproduced appropriately in all files
# derived from or containing substantial portion of this text.
#
# Please check updates at: http://tanzil.net/updates/
#
#====================================================================
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. ماخذ کا نسخہ: 1.1.3 · 2025-08-13