[1] اس کا جواب قسم محذوف ہے لَتُبْعَثُنَّ (تم ضرور قیامت والے دن اٹھائے جاؤ گے) بعض کہتے ہیں اس کا جواب مابعد کا مضمون کلام ہے جس میں نبوت اور معاد کا اثبات ہے۔ (فتح القدیر وابن کثیر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
بلکہ انہیں تعجب معلوم ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاه کرنے واﻻ آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ ایک عجیب چیز ہے.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] حالانکہ اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں ہے۔ ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا جس میں اسے مبعوث کیا جاتا تھا۔ اسی حساب سے قریش مکہ کو ڈرانے کےلئے قریش ہی میں سے ایک شخص کو نبوت کے لئے چن لیا گیا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
زمین جو کچھ ان سے گھٹاتی ہے وه ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس سب یاد رکھنے والی کتاب ہے.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی زمین انسان کے گوشت، ہڈی اور بال وغیرہ کو بوسیدہ کرکے کھا جاتی ہے یعنی اسے ریزہ ریزہ کر دیتی ہے وہ نہ صرف ہمارے علم میں ہے بلکہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ اس لئے ان تمام اجزا کو جمع کرکے انہیں دوبارہ زندہ کر دینا ہمارے لئے قطعاً مشکل امر نہیں ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
بلکہ انہوں نے سچی بات کو جھوٹ کہا ہے جبکہ وه ان کے پاس پہنچ چکی پس وه ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] حَقٌّ (سچی بات) سے مراد قرآن، اسلام یا نبوت محمدیہ ہے، مفہوم سب کا ایک ہی ہے مَرِيجٌ کے معنی محتاط، مضطرب یا ملتبس کے ہیں۔ یعنی ایسا معاملہ جو ان پر مشتبہ ہو گیا ہے، جس سے وہ ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں، کبھی اسے جادو گر کہتے ہیں، کبھی شاعر اور کبھی کاﮨﻦ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا؟ کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے[1] اور زینت دی ہے[2] اس میں کوئی شگاف نہیں.[3]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی بغیر ستون کے، جن کا اسے کوئی سہارا ہو۔
[2] یعنی ستاروں سے اسے مزین کیا۔
[3] اسی طرح کوئی فرق وتفاوت بھی نہیں ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ «الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ، ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ» (الملك: 3- 4)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
تاکہ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے بینائی اور دانائی کا ذریعہ ہو.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی آسمان وزمین کی تخلیق اور دیگر اشیا کا مشاہدہ اور ان کی معرفت ہر اس شخص کے لئے بصیرت ودانائی اور عبرت ونصیحت کا باعث ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور کھجوروں کے بلند وباﻻ درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] بَاسِقَاتٍ کے معنی طِوَالا شِاهِقَاتٍ، بلند وبالا طَلْعٌ، کھجور کا وہ گدرا گدرا پھل، جو پہلے پہل نکلتا ہے، نَضِيدٌ کے معنی تہ بہ تہ۔ باغات میں کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے۔ لیکن اسے الگ سے بطور خاص ذکر کیا، جس سے کھجور کی وہ اہمیت واضح ہے جو عرب میں اسے حاصل ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں[1] نے اور ﺛمود نے.
ترجمے کے حواشی
[1] أَصْحَابُ الرَّسِّ کی تعیین میں مفسرین کےدرمیان بہت اختلاف ہے۔ امام ابن جریر طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہےجس میں انہیں اصحاب اخدود قرار دیا گیا ہے، جس کا ذکر سورۂ بروج میں ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے ابن کثیر وفتح القدیر، سورۃ الفرقان آیت 38)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور ایکہ[1] والوں نے تبع کی قوم[2] نے بھی تکذیب کی تھی۔ سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا[3] پس میرا وعدہٴ عذاب ان پر صادق آگیا.
ترجمے کے حواشی
[1] أَصْحَابُ الأيْكَةِ کے لئے دیکھئے سورۃ الشعراء، آیت 176 کا حاشیہ۔
[2] قَوْمُ تُبَّعٍ کے لئے دیکھئے سورۃ الدخان، آیت 37 کا حاشیہ۔
[3] یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا۔ اس میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کےلئے تسلی ہے۔ گویا آپ (صلى الله عليه وسلم) کو کہا جا رہا ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) اپنی قوم کی طرف سے اپنی تکذیب پر غمگین نہ ہوں اس لئے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، آپ (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے انبیا علیہم السلام کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے یہی معاملہ کیا۔ دوسرے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ پچھلی قوموں نے انبیا علیہم السلام کی تکذیب کی تو دیکھ لو ان کا کیا انجام ہوا؟ کیا تم بھی اپنے لئے یہی انجام پسند کرتے ہو؟ اگر یہ انجام پسند نہیں کرتے تو تکذیب کا راستہ چھوڑ دو اور پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لے آؤ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے[1] ؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] کہ قیامت والے دن دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے مشکل ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لئے مشکل نہیں تھا تو دوبارہ زندہ کرنا تو پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» (الروم: 27) سورۂ یٰسین، آیت 78- 79 میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اور حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ابن آدم یہ کہہ کر مجھے ایذا پہنچاتا ہے کہ اللہ مجھے ہر گز دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے جس طرح اس نے پہلی مرتبہ مجھے پیدا کیا۔ حالانکہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا، دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے“ یعنی اگر مشکل ہے تو پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری مرتبہ (البخاري تفسير سورة الإخلاص)۔
[2] یعنی یہ اللہ کی قدرت کے منکر نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں قیامت کے وقوع اور اس میں دوبارہ زندگی کے بارے میں ہی شک ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں[1] اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی انسان جو کچھ چھپاتا اور دل میں مستور رکھتا ہے، وہ سب ہم جانتے ہیں۔ وسوسہ، دل میں گزرنے والےخیالات کو کہا جاتا ہے جس کا علم اس انسان کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ ان وسوسوں کو بھی جانتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سےدل میں گزرنے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے یعنی ان پرگرفت نہیں فرمائے گا۔ جب تک وہ زبان سے ان کا اظہار یا ان پر عمل نہ کرے“۔ (البخاري كتاب الإيمان باب إذا حنث ناسيا في الأيمان مسلم، باب تجاوز الله عن حديث النفس والخواطر بالقلب إذا لم تستقر)۔
[2] وَرِيدٌ شہ رگ یا رگ جان کو کہا جاتا ہے جس کے کٹنے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ رگ حلق کے ایک کنارے سے انسان کے کندھے تک ہوتی ہے۔ اس قرب سے مراد قرب علمی ہے یعنی علم کے لحاظ سے ہم انسان کے بالکل بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اس کے نفس کی باتوں کو بھی جانتے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ نَحْنُ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی ہمارے فرشتے انسان کی رگ جان سے بھی قریب ہیں۔ کیونکہ انسان کے دائیں بائیں دو فرشتے ہر وقت موجود رہتے ہیں، وہ انسان کی ہر بات اور عمل کو نوٹ کرتے ہیں يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ کے معنی ہیں يَأْخُذَانِ وَيُثَبّتَانِ۔ امام شوکانی نے اس کا مطلب بیان کیا ہے کہ ہم انسان کےتمام احوال کو جانتے ہیں، بغیر اس کے کہ ہم ان فرشتوں کےمحتاج ہوں جن کو ہم نے انسان کے اعمال واقوال لکھنے کے لئے مقرر کیا ہے، یہ فرشتے تو ہم نے صرف اتمام حجت کے لئے مقرر کیے ہیں، دو فرشتوں سےمراد بعض کے نزدیک ایک نیکی اور دوسرا بدی لکھنےکے لئے۔ اور بعض کےنزدیک رات اور دن کے فرشتے مراد ہیں۔ رات کے دو فرشتے الگ اور دن کے دو فرشتے الگ (فتح القدیر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی،[1] یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] دوسرے معنی اس کے ہیں، موت کی سختی حق کےساتھ آئے گی، یعنی موت کے وقت، حق واضح اور ان وعدوں کی صداقت ظاہر ہو جاتی ہے جو قیامت اور جنت کے بارے میں انبیا علیہم السلام کرتے رہے ہیں۔
[2] تَحِيدُ، تَمِيلُ عَنْهُ وَتَفِرُّ، تو اس موت سے بدکتا اور بھاگتا تھا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ﻻنے واﻻ ہوگا اور ایک گواہی دینے واﻻ.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] سَائِقٌ (ہانکنے والا) اور شَهِيدٌ (گواہ) کےبارے میں اختلاف ہے۔ امام طبری کےنزدیک یہ دو فرشتے ہیں۔ ایک انسان کو محشر تک ہانک کر لانے والا اور دوسرا گواہی دینے والا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
حق تعالیٰ فرمائے گا بس میرے سامنے جھگڑنے کی بات مت کرو میں تو پہلے ہی تمہاری طرف وعید (وعدہٴ عذاب) بھیج چکا تھا.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اللہ تعالیٰ کافروں اور ان کے ہم نشین شیطانوں کو کہے گا کہ یہاں موقف حساب یا عدالت انصاف میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے، میں نے پہلے ہی رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے ان وعیدوں سے تم کو آگاہ کر دیا تھا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میرے ہاں بات بدلتی نہیں[1] اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ﻇلم کرنے واﻻ ہوں.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جو وعدے میں نے کیے تھے، ان کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ وہ ہر صورت میں پورے ہوں گے اور اسی اصول کے مطابق تمہارے لئےعذاب کا فیصلہ میری طرف سے ہوا ہے جس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
[2] کہ بغیر جرم کےجو انہوں نے نہ کیا ہو اور بغیر گناہ کے جس کا صدور ان سے نہ ہوا ہو، میں ان کو عذاب دے دوں؟ ظلام یہاں ظالم کے معنی میں ہے۔ یا محاورۃ بولا گیا ہے، جیسے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص اپنے غلاموں پر بڑا ظلم کرتا ہے، فلاں شخص بڑا ظالم ہے مقصد، مبالغے کا نہیں بلکہ صرف اس کی طرف سے ظلم کیے جانےکا اظہار ہوتا ہے۔ یا مقصود نفی میں مبالغہ ہے۔ یعنی میں بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وه جواب دے گی کیا کچھ اور زیاده بھی ہے؟[1]
ترجمے کے حواشی
[1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «لأَمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (الم السجدة:1 3) ”میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھردوں گا“۔ اس وعدے کا جب ایفا ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کافر جن وانس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سےپوچھے گا کہ تو بھر گئی ہےیا نہیں؟ وہ جواب دے گی، کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی اگرچہ میں بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لئے میرے دامن میں اب بھی گنجائش ہے، جہنم سے اللہ تعالیٰ کی یہ گفتگو اور جہنم کا جواب دینا، اللہ کی قدرت سے قطعاً بعید نہیں ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے ”آگ میں لوگ ڈالے جائیں گے اور جہنم کہے گی: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ کیا کچھ اور بھی ہیں؟ (حتی کہ اللہ تعالیٰ جہنم میں اپنا پیر رکھ دے گا، جس سے جہنم پکار اٹھے گی، قَطْ قَطْ یعنی بس، بس“ (صحیح بخاری، تفسیر سورۂ ق) اور جنت کے بارے میں آتا ہے کہ جنت میں ابھی خالی جگہ باقی رہ جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسکے لئے نئی مخلوق پیدا فرمائے گا جو وہاں آباد ہوگی۔ (صحيح مسلم كتاب الجنة ، باب النار يدخلها الجبارون، والجنة يدخلها الضعفاء)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور جنت پرہیزگاروں کے لئے بالکل قریب کر دی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] اور بعض نے کہا ہے کہ قیامت ،جس روز جنت قریب کر دی جائے گی، دور نہیں ہے۔ کیونکہ وہ لامحالہ واقع ہو کر رہےگی اور كُلُّ مَا هُوَ آتٍ فَهُوَ قَرِيبٌ اور جو بھی آنے والی چیز ہے، وہ قریب ہی ہے دور نہیں۔ (ابن کثیر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
یہ ہے جس کا تم سے وعده کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے واﻻ اور پابندی کرنے واﻻ ہو.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اہل ایمان جب جنت کا اور اس کی نعمتوں کا قریب سے مشاہدہ کریں گے تو کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا وعدہ ہر اواب اور حفیظ سے کیا گیا تھا۔ اواب، بہت رجوع کرنے والا، یعنی اللہ کی طرف۔ کثرت سے توبہ واستغفار اور تسبیح وذکر الٰہی کرنے والا۔ خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے اللہ کی بارگاہ میں گڑ گڑانے والا اور ہر مجلس میں استغفار کرنے والا۔ حفیظ ، اپنے گناہوں کو یاد کرکے ان سے توبہ کرنے والا، یا اللہ کے حقوق اور اس کی نعمتوں کو یاد رکھنے والا یا اللہ کے اوامرو نواہی کو یاد رکھنے والا (فتح القدیر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور ان سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے طاقت میں بہت زیاده تھیں وه شہروں میں ڈھونڈھتے ہی[1] ره گئے، کہ کوئی بھاگنے کا ٹھکانہ ہے؟
ترجمے کے حواشی
[1] فَنَقَّبُوا فِي الْبِلادِ (شہروں میں چلے پھرے) کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ان اہل مکہ سے زیادہ تجارت وکاروبار کے لئے مختلف شہروں میں پھرتے تھے۔ لیکن ہمارا عذاب آیا تو انہیں کہیں پناہ اور راہ فرار نہیں ملی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اس میں ہر صاحب دل کے لئے عبرت ہے اور اس کے لئے جو دل[1] سے متوجہ ہو کر کان لگائے[2] اور وه حاضر ہو.[3]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی دل بیدار، جو غور وفکر کرکے حقائق کا ادراک کرلے۔
[2] یعنی توجہ سے وہ وحی الٰہی سنے جس میں گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
[3] یعنی قلب اور دماغ کے لحاظ سے حاضر ہو۔ اس لئے کہ جو بات کو ہی نہ سمجھے، وہ موجود ہوتے ہوئے بھی ایسے ہے جیسے نہیں ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور رات کے وقت بھی تسبیح کریں[1] اور نماز کے بعد بھی.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] (من) تبعیض کے لئے ہے۔ یعنی رات کے کچھ حصے میں بھی اللہ کی تسبیح کریں یا رات کی نماز (تہجد) پڑھیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ»(سورة بني إسرائيل: 79) ”رات کو اٹھ کر نماز تہجد پڑھیں جو آپ کے لئے مزید ثواب کا باعث ہے“ بعض کہتے ہیں کہ معراج سے قبل مسلمانوں کے لئے صرف فجر اور عصر کی نماز اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کے لئے تہجد کی نماز بھی فرض تھی۔ معراج کے موقعے پر پانچ نمازیں فرض کر دی گئیں۔ (ابن کثیر)۔
[2] یعنی اللہ کی تسبیح کریں۔ بعض نےاس سے وہ تسبیحات مراد لی ہیں، جن کے پڑھنے کی تاکید نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرض نمازوں کے بعد فرمائی ہے۔ مثلاً 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللهِ ۔ 33مرتبہ الْحَمْدُ للهِ اور 34 مرتبہ اللهُ أَكْبَرُ وغیرہ (البخاري كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة كتاب الدعوات، باب الدعاء بعد الصلاة - مسلم كتاب المساجد باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته) مگر یہ تسبیحات اس سورت کے نزول کے بہت عرصہ بعد بتائی گئی تھیں۔ بعض نے کہا کہ یہ ادبار السجود سے مراد مغرب کے بعد دو رکعتیں ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور سن رکھیں[1] کہ جس دن ایک پکارنے[2] واﻻ قریب ہی کی جگہ سے پکارے گا.[3]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی قیامت کے جو احوال وحی کے ذریعے سے بیان کیے جا رہے ہیں، انہیں توجہ سے سنیں۔
[2] یہ پکارنے والا اسرافیل فرشتہ ہوگا یا جبرائیل اور یہ ندا وہ ہوگی جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہو جائیں گے۔ یعنی نفخۂ ثانیہ۔
[3] اس سے بعض نے صخرۂ بیت المقدس مراد لیا ہے، کہتے ہیں یہ آسمان کے قریب ترین جگہ ہے اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص یہ آواز اس طرح سنے گا، جیسے اس کےقریب سے ہی آواز آرہی ہے۔ (فتح القدیر) اور یہی درست معلوم ہوتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
ہم ہی جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں[1] اور ہماری ہی طرف لوٹ پھر کر آنا ہے.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی دنیا میں موت سےہمکنار کرنا اور آخرت میں زندہ کر دینا، یہ ہمارا ہی کام ہے، اس میں کوئی ہمارا شریک نہیں ہے۔
[2] وہاں ہم ہر شخص کو اس کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔ٍ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
جس دن زمین پھٹ جائے گی اور یہ دوڑتے ہوئے[1] (نکل پڑیں گے) یہ جمع کر لینا ہم پر بہت ہی آسان ہے.
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اس آواز دینے والے کی طرف دوڑیں گے۔ جس نےآواز دی ہوگی۔ مُسْرِعِينَ إِلَى الْمُنَادِي الَّذِي نَادَاهُمْ (فتح القدير) نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، جب زمین پھٹے گی تو سب سے پہلے زندہ ہو کر نکلنے والا میں ہوں گا أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ (صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب تفضيل نبينا صلى الله عليه وسلم على جميع الخلائق)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہم بخوبی جانتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں[1] ، تو آپ قرآن کے ذریعے انہیں سمجھاتے رہیں جو میرے وعید (ڈرانے کے وعدوں) سے ڈرتے ہیں.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی آپ (صلى الله عليه وسلم) اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ بلکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا کام صرف تبلیغ ودعوت ہے، وہ کرتے رہیں۔
[2] یعنی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی دعوت وتذکیر سے وہی نصیحت حاصل کرے گا جو اللہ سے اور اس کی وعیدوں سے ڈرتا اور اس کے وعدوں پر یقین رکھتا ہوگا۔ اسی لئےحضرت قتادہ یہ دعا فرمایا کرتے تھے «اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ يَخَافُ وَعِيدَكَ ، وَيَرْجُو مَوْعُودَكَ يَا بَارُّ يَا رَحِيمُ» ”اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سےکر جو تیرے وعیدوں سے ڈرتے اور تیرے وعدوں کی امید رکھتے ہیں۔ اے احسان کرنے والے رحم فرمانے والے“۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اصل عربی: Tanzil Uthmani v1.1. معانی کا ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3.
تمام 6,236 آیات کے حوالے ماخذ سے جانچے گئے ہیں۔ یہ سالمیت کی فنی جانچ ہے، آزاد علمی جائزہ نہیں۔ ابتدائی بسم اللہ اسی طرح محفوظ ہیں جیسے فراہم کی گئی تھیں۔
# PLEASE DO NOT REMOVE OR CHANGE THIS COPYRIGHT BLOCK
#====================================================================
#
# Tanzil Quran Text (Uthmani, Version 1.1)
# Copyright (C) 2007-2026 Tanzil Project
# License: Creative Commons Attribution 3.0
#
# This copy of the Quran text is carefully produced, highly
# verified and continuously monitored by a group of specialists
# at Tanzil Project.
#
# TERMS OF USE:
#
# - Permission is granted to copy and distribute verbatim copies
# of this text, but CHANGING IT IS NOT ALLOWED.
#
# - This Quran text can be used in any website or application,
# provided that its source (Tanzil Project) is clearly indicated,
# and a link is made to tanzil.net to enable users to keep
# track of changes.
#
# - This copyright notice shall be included in all verbatim copies
# of the text, and shall be reproduced appropriately in all files
# derived from or containing substantial portion of this text.
#
# Please check updates at: http://tanzil.net/updates/
#
#====================================================================
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. ماخذ کا نسخہ: 1.1.3 · 2025-08-13