بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے[1] اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے.
ترجمے کے حواشی
[1] تبارك، بركة سے ہے، النماء والزيادة، بڑھوتری اور زیادتی کے معنی میں۔ بعض نے معنی کیے ہیں، مخلوقات کی صفات سے بلند اور برتر۔ تفاعل کا صیغہ مبالغے کے لئے ہے۔ "اسی کے ہاتھ میں بادشاہی ہے" یعنی ہر طرح کی قدرت اور غلبہ اسی کو حاصل ہے، وہ کائنات میں جس طرح کا تصرف کرے، کوئی اسے روک نہیں سکتا، وہ شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنا دے، امیر کو غریب اور غریب کو امیر کردے۔ کوئی اس کی حکمت و مشیت میں دخل نہیں دے سکتا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے[1] ، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے.
ترجمے کے حواشی
[1] روح ایک ایسی غیر مرئی چیز ہے جس بدن سے اس کا تعلق واتصال ہو جائے وہ زندہ کہلاتا ہے اور جس بدن سے اس کا تعلق منقطع ہو جائے وہ موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے اس نے یہ عارضی زندگی کا سلسلہ، جس کے بعد موت ہے اس لیے قائم کیا ہے تاکہ وہ آزمائے کہ اس زندگی کا صحیح استعمال کون کرتا ہے؟جو اسے ایماء و اطاعت کے لیے استعمال کرے گا اس کے لیے بہترین جزاء ہے اور دوسروں کے لیے عذاب۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمٰن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا[1] ، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی کوئی نقص، کوئی کجی اور کوئی خلل، بلکہ بالکل سیدھے اور برابر ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک ہی ہے متعدد نہیں۔
[2] بعض دفعہ دوبارہ دیکھنے سے کوئی نقص اور عیب نکل آتا ہے۔ اللہ تعالٰی دعوت دے رہا ہے کہ بار بار دیکھو کہ کیا تمہیں کوئی شگاف تو نظر نہیں آتا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (ستاروں) سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ[1] بنا دیا اور شیطانوں کے لیے ہم نے (دوزخ کا جلانے واﻻ) عذاب تیار کر دیا.
ترجمے کے حواشی
[1] یہاں ستاروں کے دو مقصد بیان کئے گئے ہیں ایک آسمانوں کی زینت کیونکہ وہ چراغوں سے جلتے ہیں دوسرا کہ شیطان آسمانوں کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ شرارہ بن کر ان پر گرتے ہیں۔ تیسرا مقصد ان کا یہ ہے جسے دوسرے مقامات پر بیان فرمایا گیا ہے کہ ان سے برو بحر میں راستوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
جب اس میں یہ ڈالے جائیں گے تو اس کی بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وه جوش مار رہی ہوگی.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] شَھِیْق، اس آواز کو کہتے ہیں جو گدھا پہلی مرتبہ نکالتا ہے، یہ قبیح ترین آواز ہوتی ہے۔ جہنم بھی گدھے کی طرح چیخ اور چلا رہی اور آگ پر رکھی ہوئی ہانڈی کی طرح جوش مار رہی ہوگی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے[1] ، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟
ترجمے کے حواشی
[1] یا مارے غیظ وغضب کے اس کے حصے ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے یہ جہنم کافروں کو دیکھ کر غضب ناک ہوگی جس کا شعور اللہ تعالٰی اس کے اندر پیدا فرما دے گا اللہ تعالٰی کے لیے جہنم کے اندر یہ ادراک وشعور پیدا کر دینا کوئی مشکل نہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
وه جواب دیں گے کہ بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نےکچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ تم بہت بڑی گمراہی میں ہی ہو.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ہم نے پیغمبروں کی تصدیق کرنے کی بجائے انہیں جھٹلایا، آسمانی کتابوں کا ہی سرے سے انکار کر دیا حتٰی کہ اللہ کے پیغمبروں کو ہم نے کہا کہ تم بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اور کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں (شریک) نہ ہوتے.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی غور اور توجہ سے سنتے اور ان کی باتوں اور نصیحتوں کو آویزہ گوش بنا لیتے، اسی طرح اللہ کی دی ہوئی عقل سے بھی سوچنے سمجھنے کا کام لیتے تو آج ہم دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یہ اہل کفر وتکذیب کے مقابلے میں اہل ایمان کا اور ان نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے ہاں ملیں گی۔ بالغیب کا ایک مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ عذاب سے ڈرتے رہے دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے رہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو[1] وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یہ پھر کافروں سے خطاب ہے۔ مطلب ہے کہ تم رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے بارے میں چھپ کر باتیں کرو یا اعلان یہ سب اللہ کے علم میں ہے، اس سے کوئی بات مخفی نہیں۔
[2] یہ سرو جہر جاننے کی تعلیل ہے کہ وہ تو سینوں کے رازوں اور دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تمہاری باتیں کس طرح اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا[1] ؟ پھر وه باریک بین اور باخبر بھی ہو.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی سینوں اور دلوں اور ان میں پیدا ہونے والے خیالات، سب کا خالق اللہ تعالٰی ہی ہے، تو کیا وہ اپنی مخلوق سے بےعلم رہ سکتا ہے۔استفہام'انکار کے لئے ہے'یعنی نہیں رہ سکتا۔
[2] لطیف کے معنی ہے باریک بین یعنی جس کا علم اتنا ہے کہ دلوں میں پرورش پانے والی باتوں کو بھی جانتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا[1] تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو[2] اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو[3]) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے.
ترجمے کے حواشی
[1] ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کر دیا اس کو اسی طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہوجاتا۔
[2] مناکب منکب کی جمع ہے ۔جانب یہاں اس سے مراد اس کے راستے اور اطراف و جوانب ہیں۔ امر اباحت کے لئے ہے، یعنی اس کے راستوں میں چلو۔
[3] یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے.[1]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اللہ تعالیٰ جو آسمانوں اور زمینوں پر جلوہ گر ہے' یہ کافروں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ آسمانوں والی ذات جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالٰی اسی زمین کو، جو نہایت پر سکون ہے، حرکت، جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے[1] ، انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا وفضا میں) تھامے ہوئے ہے[2]۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاه میں ہے.
ترجمے کے حواشی
[1] پرندہ جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پر پھیلاتا ہے اور کبھی دوران پرواز پروں کو سمیٹ لیتا ہے۔ یہ پھیلانا، صَف اور سمیٹ لینا قَبْض ہے۔
[2] یعنی دوران پرواز ان پرندوں کو تھامے رکھنے والا کون ہے، جو انہیں زمین پر گرنے نہیں دیتا؟ یہ اللہ رحمان ہی کی قدرت کا ایک نمونہ ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
سوائے اللہ کے تمہارا وه کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے[1] کافر تو سراسر دھوکے ہی میں ہیں.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یہ استفہام تقریع و توضیع کے لئے ہے 'جند کے معنی ہیں لشکر 'جھۃ یعنی کوئی لشکر اور جھۃ ایسا نہیں جع تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
[2] جس میں انہیں شیطان نے مبتلا کر رکھا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا[1] ؟ بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اللہ بارش نہ برسائے، یا زمین ہی کو پیداوار سے روک دے یا تیار شدہ فصلوں کو تباہ کر دے، جیسا کہ بعض بعض دفعہ وہ ایسا کرتا ہے، جس کی وجہ سے تمہاری خوراک کا سلسلہ موقوف ہو جائے، اگر اللہ تعالٰی ایسا کر دے تو کیا کوئی اور ہے جو اللہ کی مشیت کے برعکس تمہیں روزی مہیا کر دے؟
[2] یعنی وعظ ونصیحت کی ان باتوں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ حق سے سرکشی اور اعراض ونفور میں ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں عبرت پکڑتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر کرتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے[1] یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟[2]
ترجمے کے حواشی
[1] منہ کے بل اوندھے چلنے والے کو دائیں بائیں کچھ نظر نہیں آتا نہ وہ ٹھوکروں سے محفوظ ہوتا ہے کیا ایسا شخص اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے؟ یقینا نہیں اسی طرح دنیا میں اللہ کی معصیتوں میں ڈوبا ہوا شخص آخرت کی کامیابی سے محروم رہے گا۔
[2] جس میں کوئی کجی اور انحراف نہ ہوا اور اس کو آگے اور دائیں بائیں بھی نظر آرہا ہو ظاہر ہے یہ شخص اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائے گا یعنی اللہ کی اطاعت کا سیدھا راستہ اپنانے والا آخرت میں سرخرو رہے گا بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں کی اس کیفیت کا بیان ہے جو قیامت والے دن انکی ہوگی کافر منہ کے بل جہنم میں جائے جائیں گے اور مومن سیدھے قدموں سے چل کر جنت میں جائیں گے۔جیسے کافروں کے بارے میں دوسرے مقام پر فرمایا« وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ » (الإسراء: 97) ”ہم انہیں قیامت والے دن ان کے منہ کے بل اکٹھا کریں گے“۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا[1] اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے[2] تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو.[3]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔
[2] جن سے تم سن سکو اور اللہ کی مخلوق میں غوروفکر کرکے اللہ کی معرفت حاصل کر سکو تین قوتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان مسموعات، مبصرات اور معقولات کا ادراک کرسکتا ہے یہ ایک طرح سے اتمام حجت بھی ہے اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر نہ کرنے کی مذمت بھی اسی لیے آگے فرمایا تم بہت ہی کم شکرگزاری کرتے ہو۔
[3] یعنی شُکْرًا قَلِیْلًا یا زَمْنً قَلِیلًا یا قلت شکر سے مراد ان کی طرف سے شکر کا عدم وجود ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے[1] ، میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں.[2]
ترجمے کے حواشی
[1] اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ،دوسرے مقام پر فرمایا۔ «قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي» (الأعراف: 187)
[2] یعنی میرا کام تو صرف انجام سے ڈرانا ہے جو میری تکذیب کی وجہ تمہارا ہوگا، دوسرے لفظوں میرا کام انزاز ہے، غیب کی خبریں بتانا نہیں۔ الا یہ کہ جس کی بابت خود اللہ مجھے بتلا دے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
جب یہ لوگ اس[1] وعدے کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے[2] اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے.[3]
ترجمے کے حواشی
[1] رَأوهُ میں ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین کے نزدیک عذاب قیامت ہے۔
[2] یعنی ذلت اور ہولناکی اور دہشت سے ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہونگی۔ جس کو دوسرے مقام پر چہروں کے سیاہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (آل عمران:106)
[3] تدَّعُونَ اور تُدْعَوْنَ کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو وہی ہے جسے تم دنیا میں جلد طلب کرتے تھے۔جیسے سورۂ ص:16۔ اور الانفال: 32 وغیرہ میں ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟[1]
ترجمے کے حواشی
[1] مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے چاہے اللہ تعالٰی اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو موت یا قتل کے ذریعے ہلا کر دے یا انہیں مہلت دے دے یا یہ مطلب ہے کہ ہم باوجود ایمان کے خوف اور رجا کے درمیان پس تمہیں تمہارے کفر کے باوجود عذاب سے کون بچائے گ؟۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
آپ کہہ دیجئے! کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان ﻻچکے[1] اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے[2]۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟[3]
ترجمے کے حواشی
[1] یعنی وحدانیت پر، اسی لئے اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے۔
[2] کسی اور پر نہیں۔ ہم اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کرتے ہیں، کسی اور کے نہیں جیسے مشرک کرتے ہیں۔
[3] تم ہو یا ہم؟ اس میں کافروں کے لیے سخت وعید ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا پانی ﻻئے؟[1]
ترجمے کے حواشی
[1] غَوْرًا کے معنی ہیں خشک ہو جانا یا اتنی گہرائی میں چلا جانا کہ وہاں سے پانی نکالنا ناممکن ہو۔ یعنی اگر اللہ تعالٰی پانی خشک فرما دے کہ اس کا وجود ہی ختم ہو جائے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہو جائیں تو بتلاؤ! پھر کون ہے جو تمہیں جاری، صاف اور نتھرا ہوا پانی مہیا کر دے؟ یعنی کوئی نہیں ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تمہاری معصیتوں کے باوجود وہ تمہیں پانی سے بھی محروم نہیں فرماتا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
اصل عربی: Tanzil Uthmani v1.1. معانی کا ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3.
تمام 6,236 آیات کے حوالے ماخذ سے جانچے گئے ہیں۔ یہ سالمیت کی فنی جانچ ہے، آزاد علمی جائزہ نہیں۔ ابتدائی بسم اللہ اسی طرح محفوظ ہیں جیسے فراہم کی گئی تھیں۔
# PLEASE DO NOT REMOVE OR CHANGE THIS COPYRIGHT BLOCK
#====================================================================
#
# Tanzil Quran Text (Uthmani, Version 1.1)
# Copyright (C) 2007-2026 Tanzil Project
# License: Creative Commons Attribution 3.0
#
# This copy of the Quran text is carefully produced, highly
# verified and continuously monitored by a group of specialists
# at Tanzil Project.
#
# TERMS OF USE:
#
# - Permission is granted to copy and distribute verbatim copies
# of this text, but CHANGING IT IS NOT ALLOWED.
#
# - This Quran text can be used in any website or application,
# provided that its source (Tanzil Project) is clearly indicated,
# and a link is made to tanzil.net to enable users to keep
# track of changes.
#
# - This copyright notice shall be included in all verbatim copies
# of the text, and shall be reproduced appropriately in all files
# derived from or containing substantial portion of this text.
#
# Please check updates at: http://tanzil.net/updates/
#
#====================================================================
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. ماخذ کا نسخہ: 1.1.3 · 2025-08-13