سورت 45 · 37 آیات · مکی

Al-Jaathiya

جاثیہ

الجاثية
Quran.com پر سنیں اور مطالعہ کریں
45:1صفحہ 499 · پارہ 25

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ حمٓ ۝١

حٰم

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:2صفحہ 499 · پارہ 25

تَنزِيلُ ٱلْكِتَـٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ ۝٢

یہ کتاب اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:3صفحہ 499 · پارہ 25

إِنَّ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَـَٔايَـٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۝٣

آسمانوں اور زمین میں ایمان داروں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:4صفحہ 499 · پارہ 25

وَفِى خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِن دَآبَّةٍ ءَايَـٰتٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ۝٤

اور خود تمہاری پیدائش میں اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وه پھیلاتا ہے یقین رکھنے والی قوم کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:5صفحہ 499 · پارہ 25

وَٱخْتِلَـٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ ٱلرِّيَـٰحِ ءَايَـٰتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ۝٥

اور رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ روزی اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرما کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے[1] ، (اس میں) اور ہواؤں کے بدلنے میں بھی ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں ہیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] آسمان وزمین، انسانی تخلیق، جانوروں کی پیدائش، رات دن کے آنے جانے اور آسمانی بارش کے ذریعے سے مردہ زمین میں زندگی کی لہر کا دوڑ جانا وغیرہ، آفاق وانفس میں بے شمار نشانیاں ہیں جو اللہ کی وحدانیت اور ربوبیت پر ڈال ہیں۔ [2] یعنی کبھی ہوا کا رخ شمال وجنوب کو، کبھی پورب پچھم (مشرق ومغرب) کو ہوتا ہے، کبھی بحری ہوائیں اور کبھی بری ہوائیں، کبھی رات کو، کبھی دن کو، بعض ہوائیں بارش خیز، بعض نتیجہ خیز، بعض ہوائیں روح کی غذا اور بعض سب کچھ جھلسا دینے والی اور محض گردو غبار کا طوفان۔ ہواؤں کی اتنی قسمیں بھی دلالت کرتی ہیں کہ اس کائنات کا کوئی چلانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے۔ دو یا دو سے زائد نہیں۔ تمام اختیارات کا مالک وہی ایک ہے، ان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ سارا اور ہر قسم کا تصرف صرف وہی کرتا ہے، کسی اور کے پاس ادنیٰ سا تصرف کرنے کا بھی اختیار نہیں۔ اسی مفہوم کی آیت سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 164 بھی ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:6صفحہ 499 · پارہ 25

تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَ ٱللَّهِ وَءَايَـٰتِهِۦ يُؤْمِنُونَ ۝٦

یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنہیں ہم آپ کو راستی سے سنا رہے ہیں، پس اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان ﻻئیں گے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اللہ کا نازل کردہ قرآن، جس میں اس کی توحید کے دلائل وبراہین ہیں۔ اگر یہ اس پر بھی ایمان نہیں لاتے تو اللہ کی بات کے بعد کس کی بات ہے اور اس کی نشانیوں کے بعد کون سی نشانیاں ہیں، جن پر یہ ایمان لائیں گے؟ بَعْدَ اللهِ کا مطلب ہے، بَعْدَ حَدِيثِ اللهِ وَبَعْدَ آيَاتِهِ یہاں قرآن پر حدیث کا اطلاق کیا گیا ہے۔ جیسے؛ اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ (الزمر: 23) میں ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:7صفحہ 499 · پارہ 25

وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ۝٧

ویل اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] أَفَّاكٍ بمعنی كَذَّابٍ ، أَثِيمٍ، بہت گناہ گار۔ وَيْلٌ، بمعنی ہلاکت یا جہنم کی ایک وادی کا نام.
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:8صفحہ 499 · پارہ 25

يَسْمَعُ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ۝٨

جو آیتیں اللہ کی اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سنے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑا رہے کہ گویا سنی ہی نہیں[1] ، تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر (پہنچا) دیجئے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی کفر پر اڑا رہتا ہے اور حق کے مقابلے میں اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اور اسی غرور میں سنی ان سنی کردیتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:9صفحہ 499 · پارہ 25

وَإِذَا عَلِمَ مِنْ ءَايَـٰتِنَا شَيْـًٔا ٱتَّخَذَهَا هُزُوًا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ۝٩

وه جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پالیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے[1] ، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوائی کی مار ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اول تو وہ قرآن کو غور سے سنتا ہی نہیں ہے اور اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑجاتی ہے یا کوئی بات اس کے علم میں آجاتی ہے تو اسے استہزا اور مذاق کا موضوع بنالیتا ہے۔ اپنی کم عقلی اور نافہمی کی وجہ سے یا کفرومعصیت پر اصرار واستکبار کی وجہ سے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:10صفحہ 499 · پارہ 25

مِّن وَرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ ۖ وَلَا يُغْنِى عَنْهُم مَّا كَسَبُوا۟ شَيْـًٔا وَلَا مَا ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْلِيَآءَ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۝١٠

ان کے پیچھے دوزخ ہے[1] ، جو کچھ انہوں نے حاصل کیا تھا وه انہیں کچھ بھی نفع نہ[2] دے گا اور نہ وه (کچھ کام آئیں گے) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز[3] بنا رکھا تھا، ان کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ایسے کردار کے لوگوں کے لیے قیامت میں جہنم ہے۔ [2] یعنی دنیا میں جو مال انہوں نے کمایا ہوگا، جن اولاد اور جتھے پر وہ فخر کرتے رہے ہوں گے، وہ قیامت والے دن انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔ [3] جن کو دنیا میں اپنا دوست، مددگار اور معبود بنا رکھا تھا، وہ اس روز ان کو نظر ہی نہیں آئیں گے، مدد تو انہوں نے کیا کرنی ہوگی؟
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:11صفحہ 499 · پارہ 25

هَـٰذَا هُدًى ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ ۝١١

یہ (سر تاپا) ہدایت[1] ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے بہت سخت دردناک عذاب ہے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی قرآن۔ کیونکہ اس کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو کفروشرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لایا جائے۔ اس لیے اس کے سرتا پا ہدایت ہونے میں تو کوئی شرک نہیں۔ لیکن ہدایت ملے گی تو اسے ہی جو اس کے لیے اپنا سینہ وا کرے گا۔ بصورت دیگر، توع راہ دکھلائیں گے رہرو منزل ہی نہیں۔ والا معاملہ ہوگا۔ [2] أَلِيمٍ، عَذَابٌ کی صفت ہے، بعض اسے رِجْزٌ کی صفت بتاتے ہیں۔ رِجْزٌ بمعنی عَذَابٍ شَدِيدٍ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:12صفحہ 499 · پارہ 25

۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِى سَخَّرَ لَكُمُ ٱلْبَحْرَ لِتَجْرِىَ ٱلْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِۦ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۝١٢

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا[1] کو تابع بنادیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں[2] چلیں اور تم اس کا فضل [3] تلاش کرو اور تاکہ تم شکر بجاﻻؤ.[4]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اس کو ایسا بنادیا کہ تم کشتیوں اور جہازوں کے ذریعے سے اس پر سفر کرسکو۔ [2] یعنی سمندروں میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا، یہ تمہارا کمال اور ہنر نہیں یہ اللہ کا حکم اور اس کی مشیت ہے۔ ورنہ اگر وہ چاہتا تو سمندروں کی موجوں کو اتنا سرکش بنادیتا کہ کوئی کشتی اور جہاز ان کے سامنے ٹھہر ہی نہ سکتا۔ جیسا کہ کبھی کبھی وہ اپنی قدرت کے اظہار کے لیےایسا کرتا ہے۔ اگر مستقل طور پر موجوں کی طغیانیوں کا یہی عالم رہتا تو تم کبھی بھی سمندر میں سفر کرنے کے قابل نہ ہوتے۔ [3] یعنی تجارت کے ذریعے سے، اور اس میں غوطہ زنی کرکے موتی اور دیگر اشیا نکال کر اور دریائی جانوروں (مچھلی وغیرہ) کا شکار کرکے۔ [4] یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ تم ان نعمتوں پر اللہ کا شکر کرو جو اس تسخیر بحر کی وجہ سے تمہیں حاصل ہوتی ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:13صفحہ 499 · پارہ 25

وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۝١٣

اور آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے[1] ۔ جو غور کریں یقیناً وه اس میں بہت سی نشانیاں پالیں گے.

ترجمے کے حواشی
[1] مطیع کرنے کا مطلب یہی ہے کہ ان کو تمہاری خدمت پر مامور کردیا ہے، تمہارے مصالح ومنافع اور تمہاری معاش سب انہی سے وابستہ ہے، جیسے چاند، سورج، روشن ستارے، بارش، بادل اور ہوائیں وغیرہ ہیں۔ اور اپنی طرف سے کا مطلب، اپنی رحمت اور فضل خاص سے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:14صفحہ 500 · پارہ 25

قُل لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يَغْفِرُوا۟ لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ ٱللَّهِ لِيَجْزِىَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ۝١٤

آپ ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وه ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں[1] رکھتے، تاکہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جو اس بات کا خوف نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کی مدد کرنے اور دشمنوں کو نیست ونابود کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مراد کافر ہیں۔ اور ایام اللہ سے مراد وقائع ہیں۔ جیسے وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ (إبراهيم: 5) میں ہے۔ مطلب ہے کہ ان کافروں سے عفودرگزر سے کام لو، جو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بےخوف ہیں۔ یہ ابتدائی حکم تھا جو مسلمانوں کو پہلے دیا جاتا رہا تھا بعد میں جب مسلمان مقابلے کے قابل ہوگئے تو پھر سختی کا اور ان سے ٹکرا جانے (جہاد) کا حکم دے دیا گیا۔ [2] یعنی جب تم ان کی ایذاؤں پر صبر اور ان کی زیادتیوں سے درگزر کرو گے، تو یہ سارے گناہ ان کے ذمے ہی رہیں گے، جن کی سزا ہم قیامت والے دن ان کو دیں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:15صفحہ 500 · پارہ 25

مَنْ عَمِلَ صَـٰلِحًا فَلِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْهَا ۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ۝١٥

جو نیکی کرے گا وه اپنے ذاتی بھلے کے لیے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے[1] ، پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ہر گروہ اور فرد کا عمل، اچھا یا برا، اس کا فائدہ یا نقصان خود کرنے والے کو ہی پہنچے گا، کسی دوسرے کو نہیں۔ اس میں نیکی کی ترغیب بھی ہے، اور بدی سے ترہیب بھی۔ [2] پس وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق جزا دے گا۔ نیکوں کو نیک اور بروں کو بری۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:16صفحہ 500 · پارہ 25

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَفَضَّلْنَـٰهُمْ عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ ۝١٦

یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت[1] اور نبوت دی تھی، اور ہم نے انہیں پاکیزه (اور نفیس) روزیاں دی تھیں[2] اور انہیں دنیا والوں پر فضیلت دی تھی.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] کتاب سے مراد تورات، حکم سے حکومت وبادشاہت یا فہم وقضا کی وہ صلاحیت ہے جو فصل خصومات اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے ضروری ہے۔ [2] وہ روزیاں جو ان کے لیے حلال تھیں اور ان ہی میں من وسلویٰ کا نزول بھی تھا۔ [3] یعنی ان کے زمانے کے اعتبار سے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:17صفحہ 500 · پارہ 25

وَءَاتَيْنَـٰهُم بَيِّنَـٰتٍ مِّنَ ٱلْأَمْرِ ۖ فَمَا ٱخْتَلَفُوٓا۟ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۝١٧

اور ہم نے انہیں دین کی صاف صاف دلیلیں دیں[1] ، پھر انہوں نے اپنے پاس علم کے پہنچ جانے کے بعد آپس کی ضد بحﺚ سے ہی اختلاف برپا کر ڈاﻻ[2]، یہ جن جن چیزوں میں اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ قیامت والے دن ان کے درمیان (خود) تیرا رب کرے گا.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] کہ یہ حلال ہیں اور یہ حرام۔ یا معجزات مراد ہیں۔ یا نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت کا علم، آپ کی نبوت کے شواہد اور آپ کی ہجرت گاہ کی تعیین مراد ہے۔ [2] بَغْيًا بَيْنَهُمْ کا مطلب، آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض وعناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا جاہ ومنصب کی خاطر۔ انہوں نے اپنے دین میں، علم آجانے کے باوجود، اختلاف یا نبی (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت سے انکار کیا۔ [3] یعنی اہل حق کو اچھی جزا اور اہل باطل کو بری جزا دے گا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:18صفحہ 500 · پارہ 25

ثُمَّ جَعَلْنَـٰكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ ٱلْأَمْرِ فَٱتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۝١٨

پھر ہم نے آپ کو دین کی (ﻇاہر) راه پر قائم کردیا[1] ، سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] شریعت کے لغوی معنی ہیں، راستہ ملت اور منہاج۔ شاہراہ کو بھی شارع کہا جاتا ہے کہ وہ مقصد ومنزل تک پہنچاتی ہے۔ پس شریعت سے یہاں مراد، وہ دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا ہے تاکہ لوگ اس پر چل کر اللہ کی رضا کا مقصد حاصل کرلیں۔ آیت کا مطلب ہے۔ ہم نے آپ کو دین کے ایک واضح راستے یا طریقے پر قائم کردیا ہے جو آپ کو حق تک پہنچا دے گا۔ [2] جو اللہ کی توحید اور اس کی شریعت سے ناواقف ہیں۔ مراد کفار مکہ اور ان کے ساتھی ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:19صفحہ 500 · پارہ 25

إِنَّهُمْ لَن يُغْنُوا۟ عَنكَ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۖ وَٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلْمُتَّقِينَ ۝١٩

(یاد رکھیں) کہ یہ لوگ ہرگز اللہ کے سامنے آپ کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (سمجھ لیں کہ) ﻇالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیزگاروں کا کارساز اللہ تعالیٰ ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:20صفحہ 500 · پارہ 25

هَـٰذَا بَصَـٰٓئِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ۝٢٠

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بصیرت کی باتیں[1] اور ہدایت ورحمت ہے[2] اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ان دلائل کا مجموعہ ہے جو احکام دین سے متعلق ہیں اور جن سے انسانی ضروریات وحاجات وابستہ ہیں۔ [2] یعنی دنیا میں ہدایت کا راستہ بتلانے والا ہے اور آخرت میں رحمت الٰہی کا موجب ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:21صفحہ 500 · پارہ 25

أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ ٱجْتَرَحُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ سَوَآءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ ۝٢١

کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہوجائے[1] ، برا ہے وه فیصلہ جو وه کررہے ہیں.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی دنیا اورآخرت میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہ کریں۔ اس طرح ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یا مطلب ہے کہ جس طرح دنیا میں وہ برابر تھے، آخرت میں بھی وہ برابر ہی رہیں گے کہ مر کر یہ بھی ناپید اور وہ بھی ناپید؟ نہ بدکار کو سزا، نہ ایمان وعمل صالح کرنے والے کو انعام۔ ایسا نہیں ہوگا۔ اسی لیے آگے فرمایا ان کا یہ فیصلہ براہے جو وہ کررہے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:22صفحہ 500 · پارہ 25

وَخَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ۝٢٢

اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کام کا پورا بدلہ دیا جائے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] اور یہ عدل یہی ہے کہ قیامت والے دن بے لاگ فیصلہ ہوگا اور ہر شخص کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ نیک وبد دونوں کے ساتھ وہ یکساں سلوک کرے، جیسا کہ کافروں کا زعم باطل ہے، جس کی تردید گزشتہ آیت میں کی گئی ہے۔ کیونکہ دونوں کو برابری کی سطح پر رکھنا ظلم یعنی عدل کے خلاف بھی ہے اور مسلمات سے انحراف بھی۔ اس لیے جس طرح کانﭩے بوکر انگور کی فصل حاصل نہیں کی جاسکتی، اسی طرح بدی کا ارتکاب کرکے وہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا جو اللہ نے اہل ایمان کے لیے رکھا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:23صفحہ 501 · پارہ 25

أَفَرَءَيْتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَـٰهَهُۥ هَوَىٰهُ وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِۦ وَقَلْبِهِۦ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِۦ غِشَـٰوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِنۢ بَعْدِ ٱللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ۝٢٣

کیا آپ نے اسے بھی دیکھا؟ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا[1] ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراه کردیا[2] ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی[3] ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پرده ڈال دیا[4] ہے، اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے.[5]

ترجمے کے حواشی
[1] پس وہ اسی کو اچھا سمجھتا ہے جس کو اس کا نفس اچھا اور اسی کو برا سمجھتا ہے جس کو اس کا نفس برا قرار دیتا ہے۔ یعنی اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلے میں اپنی نفسانی خواہش کو ترجیح دیتا یا اپنی عقل کو اہمیت دیتا ہے۔ حالانکہ عقل بھی ماحول سے متاثر یا مفادات کی اسیر ہوکر، خواہش نفس کی طرح، غلط فیصلہ کرسکتی ہے۔ ایک معنی اس کے یہ کیے گئے ہیں، جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہدایت اور برہان کے بغیر اپنی مرضی کے دین کو اختیار کرتا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے ایسا شخص مراد ہے جو پتھر کو پوجتا تھا، جب اسے زیادہ خوب صورت پتھر مل جاتا، تو وہ پہلے پتھر کو پھینک کر دوسرے کو معبود بنالیتا۔ (فتح القدیر)۔ [2] یعنی بلوغ علم اور قیام حجت کے باوجود، وہ گمراہی ہی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ جیسے بہت سے پندار علم میں مبتلا گمراہ اہل علم کا حال ہے۔ ہوتے وہ گمراہ ہیں، موقف ان کا بے بنیاد ہوتا ہے۔ لیکن (ہم چوما دیگرے نیست) کے گھمنڈ میں وہ اپنے (دلائل) کو ایسا سمجھتے ہیں گویا آسمان سے تارے توڑ لائے ہیں۔ اور یوں علم و فہم رکھنے کے باوجود وہ گمراہ ہی نہیں ہوتے، دوسروں کو بھی گمراہ کرنے پر فخر کرتے ہیں۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ هَذَا الْعلمِ الضَّالِّ ، وَالْفَهْمِ السَّقيِمِ وَالْعَقْلِ الزَّائِغِ۔ [3] جس سے اس کے کان وعظ و نصیحت سننےس ے اور اس کا دل ہدایت کے سمجھنے سے محروم ہو گیا۔ [4] چنانچہ وہ حق کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔ [5] جیسے فرمایا «مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلا هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» (الأعراف: 186)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:24صفحہ 501 · پارہ 25

وَقَالُوا۟ مَا هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ۝٢٤

کیا اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے[1] ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے[2]، (دراصل) انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں۔ یہ تو صرف (قیاس اور) اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی غور و فکر نہیں کرتے تاکہ حقیقت حال تم پر واضح اور آشکارا ہوجائے۔ [2] یہ دہریہ اور ان کے ہم نوا مشرکین مکہ کا قول ہے جو آخرت کے منکر تھے۔ وہ کہتے تھے کہ بس یہ دنیا کی رندگی ہی پہلی اور آخری زندگی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اور اس میں موت و حیات کا سلسلہ، محض زمانے کی گردش کا نتیجہ ہے۔ جیسے فلاسفہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد ہر چیز دوبارہ اپنی حالت پر لوٹ آتی ہے۔ اور یہ سلسلہ، بغیر کسی صانع اور مدبر کے، از خود یوں ہی چل رہا ہے اور چلتا رہے گا، نہ اس کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا۔ یہ گروہ دوریہ کہلاتا ہے (ابن کثیر) ظاہر بات ہے، یہ نظریہ، اسے عقل بھی قبول نہیں کرتی اور نقل کے بھی خلاف ہے۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے۔ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے (یعنی اس کی طرف افعال کی نسبت کرکے، اسے برا کہتا ہے) حالانکہ (زمانہ بجائے خود کوئی چیز نہیں) میں خود زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام اختیارات ہیں، رات دن بھی میں ہی پھیرتا ہوں“۔ (البخاري، تفسير سورة الجاثية، مسلم كتاب الألفاظ من الأدب، باب النهي عن سب الدهر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:25صفحہ 501 · پارہ 25

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا بَيِّنَـٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱئْتُوا۟ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ۝٢٥

اور جب ان کے سامنے ہماری واضح اور روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے، تو ان کے پاس اس قول کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو ﻻؤ.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یہ ان کی سب سے بڑی دلیل ہے جو ان کی کٹ حجتی کا مظہر ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:26صفحہ 501 · پارہ 25

قُلِ ٱللَّهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۝٢٦

آپ کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زنده کرتا ہے پھر تمہیں مار ڈالتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:27صفحہ 501 · پارہ 25

وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ ٱلْمُبْطِلُونَ ۝٢٧

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل بڑے نقصان میں پڑیں گے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:28صفحہ 501 · پارہ 25

وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰٓ إِلَىٰ كِتَـٰبِهَا ٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۝٢٨

اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی[1] ۔ ہر گروه اپنے نامہٴ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج تمہیں اپنے کیے کا بدلہ دیا جائے گا.

ترجمے کے حواشی
[1] ظاہر آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر گروہ ہی (چاہے وہ انبیا کے پیروکار ہوں یا ان کے مخالفین) خوف و دہشت کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوں گے (فتح القدیر) تاآنکہ سب کو حساب کتاب کے لیے بلایا جائے گا، جیسا کہ آیت کے اگلے حصے سے واضح ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:29صفحہ 501 · پارہ 25

هَـٰذَا كِتَـٰبُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِٱلْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۝٢٩

یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے[1] ، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے تھے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] اس کتاب سے مراد، وہ رجسٹر ہیں جن میں انسان کے تمام اعمال درج ہوں گے۔ وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ (الزمر۔ 69) (اعمال نامے سامنے لائے جائیں گے، نبیوں اور شہدا کو گواہی کے لیے پیش کیا جائے گا)۔ یہ اعمال نامے انسانی زندگی کے ایسے مکمل ریکارڈ ہوں گے کہ جن میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوگی۔ انسان ان کو دیکھ کر پکار اٹھےگا۔ مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلا أَحْصَاهَا (الكهف۔ 49) (یہ کیسا اعمال نامہ ہے جس نے چھوٹی بڑی چیز کسی کو بھی نہیں چھوڑا، سب کچھ ہی تو اس میں درج ہے)۔ [2] یعنی ہمارے علم کے علاوہ، فرشتے بھی ہمارے حکم سے تمہاری ہر چیز نوٹ کرتے اور محفوظ رکھتے تھے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:30صفحہ 501 · پارہ 25

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِى رَحْمَتِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْمُبِينُ ۝٣٠

پس لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام [1] کیے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت تلے لے لے گا[2]، یہی صریح کامیابی ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یہاں بھی ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر کرکے اس کی اہمیت واضح کردی اور عمل صالح وہ اعمال خیر ہیں جو سنت کے مطابق ادا کیے جائیں نہ کہ ہر وہ عمل جسے انسان اپنے طور پر اچھا سمجھ لے اور اسے نہایت اہتمام اور ذوق وشوق کے ساتھ کرے جیسے بہت سی بدعات مذہبی حلقوں میں رائج ہیں اور جو ان حلقوں میں فرائض وواجبات سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اسی لیے فرائض و سنن کا ترک تو ان کے ہاں عام ہے لیکن بدعات کا ایسا التزام ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوتاہی کا تصور ہی نہیں ہے۔ حالانکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بدعات کو شرالامور (بدترین کام) قرار دیا ہے۔ [2] رحمت سے مراد جنت ہے، یعنی جنت میں داخل فرما ئے گا، جیسے حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ جنت سے فرمائےگا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ (صحيح بخاري ، تفسير سورة ق) ”تو میری رحمت ہے تیرے ذریعے سے (یعنی تجھ میں داخل کرکے) میں جس پر چاہوں گا، رحم کروں گا“۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:31صفحہ 501 · پارہ 25

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَفَلَمْ تَكُنْ ءَايَـٰتِى تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ ۝٣١

لیکن جن لوگوں نے کفر کیا تو (میں ان سے کہوں گا) کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں[1] ؟ پھر بھی تم تکبر کرتے رہے اور تم تھے ہی گنہ گار لوگ.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یہ بطور توبیخ کے ان سے کہا جائے گا، کیوں کہ رسول ان کے پاس آئے تھے، انہوں نے اللہ کے احکام انہیں سنائے تھے، لیکن انہوں نے پروا ہی نہیں کی تھی۔ [2] یعنی حق کے قبول کرنے سے تم نے تکبر کیا اور ایمان نہیں لائے، بلکہ تم تھے ہی گناہ گار۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:32صفحہ 501 · پارہ 25

وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَٱلسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُم مَّا نَدْرِى مَا ٱلسَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ۝٣٢

اور جب کبھی کہا جاتا کہ اللہ کا وعده یقیناً سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں کچھ یوں ہی سا خیال ہوجاتا ہے لیکن ہمیں یقین نہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی قیامت کا وقوع، محض ظن و تخمین ہے۔ ہمیں تو یقین نہیں کہ یہ واقعی ہوگی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:33صفحہ 502 · پارہ 25

وَبَدَا لَهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُوا۟ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ۝٣٣

اور ان پر اپنے اعمال کی برائیاں کھل گئیں اور جس کا وه مذاق اڑا رہے تھے اس نے انہیں گھیر لیا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی قیامت کا عذاب، جسے وہ مذاق یعنی انہونا سمجھتے تھے، اس میں وہ گرفتار ہوں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:34صفحہ 502 · پارہ 25

وَقِيلَ ٱلْيَوْمَ نَنسَىٰكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا وَمَأْوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّـٰصِرِينَ ۝٣٤

اور کہہ دیا گیا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے کہ تم نے اپنے اس دن سے ملنے کو[1] بھلا دیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا مددگار کوئی نہیں.

ترجمے کے حواشی
[1] جیسے حدیث میں آتا ہے۔ اللہ اپنے بعض بندوں سے کہے گا کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی؟ کیا میں نے تیرا اکرام نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے گھوڑے اور بیل وغیرہ تیری ماتحتی میں نہیں دیے تھے؟ تو سرداری بھی کرتا اور چنگی بھی وصول کرتا رہا۔ وہ کہے گا ہاں یہ تو ٹھیک ہے میرے رب ! اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا (کیا تجھے میری ملاقات کا یقین تھا؟ وہ کہے گا، نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ «فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي» پس آج میں بھی (تجھے جہنم میں ڈال کر) بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھولے رہا)۔ (صحيح مسلم كتاب الزهد)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:35صفحہ 502 · پارہ 25

ذَٰلِكُم بِأَنَّكُمُ ٱتَّخَذْتُمْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ۝٣٥

یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی ہنسی اڑائی تھی اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، پس آج کے دن نہ تو یہ (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے عذر و معذرت قبول کیا جائے گا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اللہ کی آیات و احکام کا استہزا اور دنیا کے فریب و غرور میں مبتلا رہنا، یہ دو جرم ایسے ہیں جنہوں نے تمہیں عذاب جہنم کا مستحق بنادیا، اب اس سے نکلنے کا امکان ہے اور نہ اس بات کی ہی امید کہ کسی موقعے پر تمہیں توبہ اور رجوع کا موقعہ دے دیا جائے، اور تم توبہ و معذرت کرکے اللہ کو منالو۔ لا يُسْتَعْتَبُونَ أَيْ لا يُسْتَرْضَوْنَ وَلا يُطْلَبُ مِنْهُمُ الرُّجُوعُ إِلَى طَاعَةِ اللهِ، لأَنَّهُ يَوْمٌ لا تُقْبَلُ فِيهِ تَوْبَةٌ وَلا تَنْفَعُ فِيهِ مَعْذِرَةٌ. (فتح القدير)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:36صفحہ 502 · پارہ 25

فَلِلَّهِ ٱلْحَمْدُ رَبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَرَبِّ ٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ۝٣٦

پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہان کا پالنہار ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
45:37صفحہ 502 · پارہ 25

وَلَهُ ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ۝٣٧

تمام (بزرگی اور) بڑائی آسمانوں اور زمین میں اسی کی[1] ہے اور وہی غالب اور حکمت واﻻ ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] جیسے حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «الْعَظَمَةُ إِزَارِي وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَسْكَنْتُهُ نَارِي» (صحيح مسلم، كتاب البر باب تحريم الكبر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ

آف لائن مطالعے کے لیے قرآن محفوظ کریں · مطالعے کا منصوبہ بنائیں

متنی مآخذ اور صحت

اصل عربی: Tanzil Uthmani v1.1. معانی کا ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3.

تمام 6,236 آیات کے حوالے ماخذ سے جانچے گئے ہیں۔ یہ سالمیت کی فنی جانچ ہے، آزاد علمی جائزہ نہیں۔ ابتدائی بسم اللہ اسی طرح محفوظ ہیں جیسے فراہم کی گئی تھیں۔

# PLEASE DO NOT REMOVE OR CHANGE THIS COPYRIGHT BLOCK
#====================================================================
#
#  Tanzil Quran Text (Uthmani, Version 1.1)
#  Copyright (C) 2007-2026 Tanzil Project
#  License: Creative Commons Attribution 3.0
#
#  This copy of the Quran text is carefully produced, highly 
#  verified and continuously monitored by a group of specialists 
#  at Tanzil Project.
#
#  TERMS OF USE:
#
#  - Permission is granted to copy and distribute verbatim copies 
#    of this text, but CHANGING IT IS NOT ALLOWED.
#
#  - This Quran text can be used in any website or application, 
#    provided that its source (Tanzil Project) is clearly indicated, 
#    and a link is made to tanzil.net to enable users to keep
#    track of changes.
#
#  - This copyright notice shall be included in all verbatim copies 
#    of the text, and shall be reproduced appropriately in all files 
#    derived from or containing substantial portion of this text.
#
#  Please check updates at: http://tanzil.net/updates/
#
#====================================================================
مکمل ماخذی تفصیل اور اجازتیں

ترجمے کا ماخذ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center.
ماخذ کا نسخہ: 1.1.3 · 2025-08-13

QuranEnc.com · معانی کا ترجمہ

ماخذ کی اجازتیں · ترجمے کے مسئلے کی اطلاع دیں

اس زبان کے نسخے میں نام زد شائع شدہ قرآنی ترجمہ استعمال ہوا ہے، الہامی متن کا خودکار ترجمہ نہیں۔

انٹرفیس کا ترجمہ AI کی مدد سے تیار ہوا ہے۔ مادری زبان کے ماہر کا آزاد جائزہ ابھی باقی ہے۔ ترجمے کے مسئلے کی اطلاع دیں · اصل انگریزی پڑھیں