سورت 43 · 89 آیات · مکی

Az-Zukhruf

زخرف

الزخرف
Quran.com پر سنیں اور مطالعہ کریں
43:1صفحہ 489 · پارہ 25

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ حمٓ ۝١

حٰم.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:2صفحہ 489 · پارہ 25

وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ ۝٢

قسم ہے اس واضح کتاب کی.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:3صفحہ 489 · پارہ 25

إِنَّا جَعَلْنَـٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۝٣

ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے[1] کہ تم سمجھ لو.

ترجمے کے حواشی
[1] جو دنیا کی فصیح ترین زبان ہے، دوسرے، اس کے اولین مخاطب بھی عرب تھے، انہی کی زبان میں قرآن اتارا تاکہ وہ سمجھنا چاہیں تو آسانی سے سمجھ سکیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:4صفحہ 489 · پارہ 25

وَإِنَّهُۥ فِىٓ أُمِّ ٱلْكِتَـٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِىٌّ حَكِيمٌ ۝٤

یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت[1] والی ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] اس میں قرآن کریم کی اس عظمت اور شرف کا بیان ہے جو ملا اعلیٰ میں اسے حاصل ہے تاکہ اہل زمین بھی اس کے شرف وعظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کو قرار واقعی اہمیت دیں اور اس سے ہدایت کا وہ مقصد حاصل کریں جس کے لیے اسے دنیا میں اتارا گیا ہے أُمُّ الْكِتَابِ سے مراد لوح محفوظ ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:5صفحہ 489 · پارہ 25

أَفَنَضْرِبُ عَنكُمُ ٱلذِّكْرَ صَفْحًا أَن كُنتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِينَ ۝٥

کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں مثلاً 1۔ تم چونکہ گناہوں میں بہت منہمک اور ان پر مصر ہو، اس لیے کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم تمہیں وعظ ونصیحت کرنا چھوڑ دیں گے؟ 2۔ یا تمہارے کفر اور اسراف پر ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے اور تم سے درگزر کرلیں گے۔ 3۔ یا ہم تمہیں ہلاک کردیں اور کسی چیز کا تمہیں حکم دیں نہ منع کریں۔ 4۔ چونکہ تم قرآن پر ایمان لانے والے نہیں ہو، اس لیے ہم انزال قرآن کا سلسلہ ہی بند کردیں۔ پہلے مفہوم کو امام طبری نے اور آخری مفہوم کو امام ابن کثیر نے زیادہ پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اللہ کا لطف وکرم ہے کہ اس نے خیر اور ذکر حکیم (قرآن) کی طرف دعوت دینے کا سلسلہ موقوف نہیں فرمایا، اگرچہ وہ اعراض وانکار میں حد سے تجاوز کررہے تھے، تاکہ جس کے لیے ہدایت مقدر ہے وہ اس کے ذریعے سے ہدایت اپنا لے اور جن کے لیے شقاوت لکھی جاچکی ہے ان پر حجت قائم ہوجائے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:6صفحہ 489 · پارہ 25

وَكَمْ أَرْسَلْنَا مِن نَّبِىٍّ فِى ٱلْأَوَّلِينَ ۝٦

اور ہم نے اگلے لوگوں میں بھی کتنے ہی نبی بھیجے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:7صفحہ 489 · پارہ 25

وَمَا يَأْتِيهِم مِّن نَّبِىٍّ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ۝٧

جو نبی ان کے پاس آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:8صفحہ 489 · پارہ 25

فَأَهْلَكْنَآ أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ ٱلْأَوَّلِينَ ۝٨

پس ہم نے ان سے زیاده زور آوروں[1] کو تباه کر ڈاﻻ اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اہل مکہ سے زیادہ زور آور تھے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً (المؤمن: 82) ”وہ ان سے تعداد اور قوت میں کہیں زیادہ تھے“۔ [2] یعنی قرآن مجید میں ان قوموں کا تذکرہ یا وصف متعدد مرتبہ گزر چکا ہے۔ اس میں اہل مکہ کے لیے تہدید ہے کہ پچھلی قومیں رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ اگریہ بھی تکذیب رسالت پر مصر رہے تو ان کی مثل یہ بھی ہلاک کردیے جائیں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:9صفحہ 489 · پارہ 25

وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ ٱلْعَزِيزُ ٱلْعَلِيمُ ۝٩

اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں غالب و دانا (اللہ) نے ہی[1] پیدا کیا ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] لیکن اس اعتراف کے باوجود انہی مخلوقات میں سے بہت سوں کو ان نادانوں نے اللہ کا شریک ٹھہرالیا ہے۔ اس میں ان کے جرم کی شناعت وقباحت کا بھی بیان ہے اور ان کی سفاہت وجہالت کا اظہار بھی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:10صفحہ 489 · پارہ 25

ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ مَهْدًا وَجَعَلَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ۝١٠

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا)[1] بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کردیے تاکہ تم راه پالیا کرو.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] ایسا بچھونا، جس میں ثبات وقرار ہے، تم اس پر چلتے ہو، کھڑے ہوتے اور سوتے ہو اور جہاں چاہتے ہو، پھرتے ہو، اس نے اس کو پہاڑوں کے ذریعے سے جمادیا تاکہ اس میں حرکت وجنبش نہ ہو۔ [2] یعنی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لیے راستے بنادیئے تاکہ کاروباری، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لیے تم آجاسکو۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:11صفحہ 490 · پارہ 25

وَٱلَّذِى نَزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَأَنشَرْنَا بِهِۦ بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ ۝١١

اسی نے آسمان سے ایک اندازے[1] کے مطابق پانی نازل فرمایا، پس ہم نے اس سے مرده شہر کو زنده کردیا۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] جس سے تمہاری ضرورت پوری ہوسکے، کیونکہ قدر حاجت سے کم بارش ہوتی تو وہ تمہارے لیے مفید ثابت نہ ہوتی اور زیادہ ہوتی تو وہ طوفان بن جاتی، جس میں تمہارے ڈوبنے اور ہلاک ہونے کا خطرہ ہوتا۔ [2] یعنی جس طرح بارش سے مردہ زمین شاداب ہوجاتی ہے، اسی طرح قیامت والے دن تمہیں بھی زندہ کرکے قبروں سے نکال لیا جائے گا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:12صفحہ 490 · پارہ 25

وَٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْأَزْوَٰجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلْفُلْكِ وَٱلْأَنْعَـٰمِ مَا تَرْكَبُونَ ۝١٢

جس نے تمام چیزوں کے جوڑے[1] بنائے اور تمہارے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا، نر اور مادہ، نباتات، کھیتیاں، پھل، پھول اور حیوانات سب میں نر اور مادہ کا سلسلہ ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ایک دوسرے کی مخالف چیزیں ہیں جیسے روشنی اور اندھیرا، مرض اور صحت، انصاف اور ظلم، خیر اور شر، ایمان اور کفر، نرمی اور سختی وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں ازواج، اصناف کے معنی میں ہے۔ تمام انواع و اقسام کا خالق اللہ ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:13صفحہ 490 · پارہ 25

لِتَسْتَوُۥا۟ عَلَىٰ ظُهُورِهِۦ ثُمَّ تَذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا ٱسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا۟ سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقْرِنِينَ ۝١٣

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو[1] پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ، اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حاﻻنکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی[2] طاقت نہ تھی.

ترجمے کے حواشی
[1] لِتَسْتَوُوا بِمَعْنَى لِتَسْتَقِرُّوا یا لِتَسْتَعْلُوا جم کر بیٹھ جاو یا چڑھ جاؤ۔ ظُهُورِهِ میں ضمیر واحد باعتبار جنس کے ہے۔ [2] یعنی اگر ان جانوروں کو ہمارے تابع اور ہمارے بس میں نہ کرتا تو ہم انہیں اپنے قابو میں رکھ کر ان کو سواری، بار برداری اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرسکتے تھے، مُقْرِنِينَ بمعنی مُطِيقِينَ ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:14صفحہ 490 · پارہ 25

وَإِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ۝١٤

اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) جب سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اللهُ أَكْبَرُ کہتے اور سُبْحَانَ الَّذِي... سے لَمُنْقَلِبُونَ تک آیت پڑھتے۔ علاوہ ازیں خیروعافیت کی دعا مانگتے، جو دعاؤں کی کتابوں میں دیکھ لی جائے (صحيح مسلم، كتاب الحج ، باب ما يقول إذا ركب)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:15صفحہ 490 · پارہ 25

وَجَعَلُوا۟ لَهُۥ مِنْ عِبَادِهِۦ جُزْءًا ۚ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَكَفُورٌ مُّبِينٌ ۝١٥

اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جز ٹھہرا [1] دیا یقیناً انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] عِبَادٌ سے مراد فرشتے اور جُزْءٌ سے مراد بیٹیاں یعنی فرشتے، جن کو مشرکین اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ یوں وہ مخلوق کو اللہ کا شریک اور اس کا جزء مانتے تھے، حالانکہ وہ ان چیزوں سے پاک ہے۔ بعض نے جزء سے یہاں نذر نیاز کے طور پر نکالے جانے والے وہ جانور مراد لیے ہیں جن کا ایک حصہ مشرکین اللہ کے نام پر اور ایک حصہ بتوں کے نام پر نکالا کرتے تھے جس کا ذکر سورۃ الانعام: 136 میں ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:16صفحہ 490 · پارہ 25

أَمِ ٱتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنَاتٍ وَأَصْفَىٰكُم بِٱلْبَنِينَ ۝١٦

کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] اس میں ان کی جہالت اور سفاہت کا بیان ہے جو انہوں نے اللہ کے لیے اولاد بھی ٹھہرائی ہوئی ہے جسے یہ خود نا پسند کرتے ہیں۔ حالاں کہ اللہ کی اولاد ہوتی تو کیا ایسا ہی ہوتا کہ خود تو اس کی لڑکیاں ہوتیں اور تمہیں وہ لڑکوں سے نوازتا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:17صفحہ 490 · پارہ 25

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَـٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُۥ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ۝١٧

(حاﻻنکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس نے (اللہ) رحمٰن کے لیے بیان کی ہے تو اس کا چہره سیاه پڑ جاتا ہے اور وه غمگین ہو جاتا ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] اس میں ان کی جہالت اور سفاہت کا بیان ہے جو انہوں نے اللہ کے لیے اولاد بھی ٹھہرائی ہوئی ہے جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی اولاد ہوتی تو کیا ایسا ہی ہوتا کہ خود تو اس کی لڑکیاں ہوتیں اور تمہیں وہ لڑکوں سے نوازتا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:18صفحہ 490 · پارہ 25

أَوَمَن يُنَشَّؤُا۟ فِى ٱلْحِلْيَةِ وَهُوَ فِى ٱلْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ ۝١٨

کیا (اللہ کی اوﻻد لڑکیاں ہیں) جو زیورات میں پلیں اور جھگڑے میں (اپنی بات) واضح نہ کرسکیں؟[1]

ترجمے کے حواشی
[1] يُنَشَّؤُا نُشُوءٌ سے ہے، بمعنی تربیت اور نشوونما۔ عورتوں کی دو صفات کا تذکرہ بطور خاص یہاں کیا گیا ہے۔ 1۔ ان کی تربیت اور نشوونما زیورات اور زینت میں ہوتی ہے، یعنی شعور کی آنکھیں کھولتے ہی ان کی توجہ حسن افزا اور جمال افروز چیزوں کی طرف ہوجاتی ہے۔ مقصد اس وضاحت سے یہ ہے کہ جن کی حالت یہ ہے، وہ تو اپنے ذاتی معاملات کے درست کرنے کی بھی استعداد وصلاحیت نہیں رکھتیں۔ 2۔ اگر کسی سے بحث وتکرار ہو تو وہ اپنی بات بھی صحیح طریقے سے (فطری حجاب کی وجہ سے) واضح نہیں کرسکتیں نہ فریق مخالف کے دلائل کا توڑ ہی کرسکتی ہیں۔ یہ عورت کی وہ دو فطری کمزوریا ں ہیں جن کی بنا پر مرد حضرات عورتوں پر ایک گونہ فضیلت رکھتے ہیں۔ سیاق سے بھی مرد کی یہ برتری واضح ہے، کیوں کہ گفتگو اسی ضمن میں یعنی مرد و عورت کے درمیان جو فطری تفاوت ہے، جس کی بنا پر بچی کے مقابلے میں بچے کی ولادت کو زیادہ پسند کیا جاتا تھا، ہو رہی ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:19صفحہ 490 · پارہ 25

وَجَعَلُوا۟ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ ٱلَّذِينَ هُمْ عِبَـٰدُ ٱلرَّحْمَـٰنِ إِنَـٰثًا ۚ أَشَهِدُوا۟ خَلْقَهُمْ ۚ سَتُكْتَبُ شَهَـٰدَتُهُمْ وَيُسْـَٔلُونَ ۝١٩

اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے (اس چیز کی) باز پرس کی جائے گی.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جزا کے لیے۔ کیونکہ فرشتوں کے بنات اللہ ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوگی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:20صفحہ 490 · پارہ 25

وَقَالُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱلرَّحْمَـٰنُ مَا عَبَدْنَـٰهُم ۗ مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ۝٢٠

اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس کی کچھ خبر نہیں[1] ، یہ تو صرف اٹکل پچو (جھوٹ باتیں) کہتے ہیں۔.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اپنے طور پر اللہ کی مشیت کا سہارا، یہ ان کی ایک بڑی دلیل ہے کیونکہ ظاہراً یہ بات صحیح ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، نہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ اس کی مشیت، اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔ ہر کام یقیناً اس کی مشیت ہی سے ہوتا ہے لیکن راضی وہ انہی کاموں سے ہوتا ہے جن کا اس نے حکم دیا ہے نہ کہ ہر اس کام سے جو انسان اللہ کی مشیت سے کرتا ہے، انسان چوری، بدکاری، ظلم اور بڑے بڑے گناہ کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کو یہ گناہ کرنے کی قدرت ہی نہ دے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لے، اس کے قدموں کو روک دے اس کی نظر سلب کرلے۔ لیکن یہ جبر کی صورتیں ہیں جب کہ اس نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اسے آزمایا جائے، اسی لیے اس نے دونوں قسم کے کاموں کی وضاحت کردی ہے، جن سے وہ راضی ہوتا ہے ان کی بھی اور جن سے ناراض ہوتا ہے، ان کی بھی۔ انسان دونوں قسم کے کاموں میں سے جو کام بھی کرے گا، اللہ اس کا ہاتھ نہیں پکڑے گا، لیکن اگر وہ کام جرم ومعصیت کا ہوگا تو یقیناً وہ اس سے ناراض ہوگا کہ اس نے اللہ کے دیئے ہوئے اختیار کا استعمال غلط کیا۔ تاہم یہ اختیار اللہ دنیا میں اس سے واپس نہیں لے گا، البتہ اس کی سزا قیامت والے دن دے گا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:21صفحہ 490 · پارہ 25

أَمْ ءَاتَيْنَـٰهُمْ كِتَـٰبًا مِّن قَبْلِهِۦ فَهُم بِهِۦ مُسْتَمْسِكُونَ ۝٢١

کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی (اور) کتاب دی ہے جسے یہ مضبوط تھامے ہوئے ہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی قرآن سے پہلے کوئی کتاب، جس میں ان کو غیراللہ کی عبادت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جسے انہوں نے مضبوطی سے تھام رکھا ہے؟ یعنی ایسا نہیں ہے بلکہ تقلید آبا کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:22صفحہ 490 · پارہ 25

بَلْ قَالُوٓا۟ إِنَّا وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِهِم مُّهْتَدُونَ ۝٢٢

(نہیں نہیں) بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر راه یافتہ ہیں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:23صفحہ 491 · پارہ 25

وَكَذَٰلِكَ مَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَآ إِنَّا وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِهِم مُّقْتَدُونَ ۝٢٣

اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے واﻻ بھیجا وہاں کے آسوده حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راه پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:24صفحہ 491 · پارہ 25

۞ قَـٰلَ أَوَلَوْ جِئْتُكُم بِأَهْدَىٰ مِمَّا وَجَدتُّمْ عَلَيْهِ ءَابَآءَكُمْ ۖ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ كَـٰفِرُونَ ۝٢٤

(نبی نے) کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہت بہتر (مقصود تک پہنچانے واﻻ) طریقہ لے آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اپنے آبا کی تقلید میں اتنے پختہ تھے کہ پیغمبر کی وضاحت اور دلیل بھی انہیں اس سے نہیں پھیر سکی۔ یہ آیت اندھی تقلید کے بطلان اور اس کی قباحت پر بہت بڑی دلیل ہے (تفصیل کے لیے دیکھئے فتح القدیر، للشوکانی)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:25صفحہ 491 · پارہ 25

فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ ۝٢٥

پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:26صفحہ 491 · پارہ 25

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦٓ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ ۝٢٦

اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:27صفحہ 491 · پارہ 25

إِلَّا ٱلَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُۥ سَيَهْدِينِ ۝٢٧

بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہ مجھے اپنے دین کی سمجھ بھی دے اور اس پر ثابت قدم بھی رکھے گا، میں صرف اسی کی عبادت کروں گا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:28صفحہ 491 · پارہ 25

وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِى عَقِبِهِۦ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۝٢٨

اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات[1] قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اس کلمۂ لا إِلَهَ إِلا الله ُ کی وصیت اپنی اولاد کو کر گئے۔ جیسے فرمایا وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ (البقرة: 132) بعض نے جَعَلَهَا میں فاعل اللہ کو قرار دیا ہے۔ یعنی اللہ نے اس کلمے کو ابراہیم (عليه السلام) کے بعد ان کی اولاد میں باقی رکھا اور وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے۔ [2] یعنی اولاد ابراہیم میں یہ موحدین اس لیے پیدا کیے تاکہ ان کے توحید کے وعظ سے لوگ شرک سے باز آتے رہیں۔ لَعَلَّهُمْ میں ضمیر کا مرجع اہل مکہ ہیں یعنی شاید اہل مکہ اس دین کی طرف لوٹ آئیں جو حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا دین تھا جو خالص توحید پر مبنی تھا نہ کہ شرک پر۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:29صفحہ 491 · پارہ 25

بَلْ مَتَّعْتُ هَـٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمْ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ وَرَسُولٌ مُّبِينٌ ۝٢٩

بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب)[1] دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے واﻻ رسول آگیا.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یہاں سے پھر ان نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ نے انہیں عطا کی تھیں اور نعمتوں کے بعد عذاب میں جلدی نہیں کی بلکہ انہیں پوری مہلت دی، جس سے وہ دھوکے میں مبتلا ہوگئے اور خواہشات کے بندے بن گئے۔ [2] حق سے قرآن اور رسول سے حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) مراد ہیں۔ مُبِينٌ رسول کی صفت ہے، کھول کر بیان کرنے والا یا جن کی رسالت واضح اور ظاہر ہے، اس میں کوئی اشتباہ اور خفا نہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:30صفحہ 491 · پارہ 25

وَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ قَالُوا۟ هَـٰذَا سِحْرٌ وَإِنَّا بِهِۦ كَـٰفِرُونَ ۝٣٠

اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] قرآن کو جادو قرار دے کر اس کا انکار کردیا، اور اگلے الفاظ میں حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی تحقیر وتنقیص کی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:31صفحہ 491 · پارہ 25

وَقَالُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ ٱلْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ۝٣١

اور کہنے لگے، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] دونوں بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہے اور بڑے آدمی سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک مکے کا ولید بن مغیرہ اور طائف کا عروہ بن مسعود ثقفی ہے۔ بعض نے کچھ اور لوگوں کے نام ذکر کیے ہیں تاہم مقصد اس سے ایسے آدمی کا انتخاب ہے جو پہلے سے ہی عظیم جاہ ومنصب کا حامل، کثیر المال اور اپنی قوم میں مانا ہوا ہو، یعنی قرآن اگر نازل ہوتا تو دونوں بستیوں میں سے کسی ایسی ہی شخصیت پر نازل ہوتا نہ کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) پر، جن کا دامن دولت دنیا سے بھی خالی ہے، اور اپنی قوم میں قیادت وسیادت کے منصب پر بھی فائز نہیں ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:32صفحہ 491 · پارہ 25

أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـٰتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا ۗ وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ۝٣٢

کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں[1] ؟ ہم نے ہی ان کی زندگانیٴ دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو ماتحت کر لے[2] جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] رحمت، نعمت کے معنی میں ہے، اور یہاں سب سے بڑی نعمت، نبوت، مراد ہے۔ استفہام انکار کے لیے ہے۔ یعنی یہ کام ان کا نہیں ہے کہ رب کی نعمتیں بالخصوص نعمت نبوت یہ اپنی مرضی سے تقسیم کریں، بلکہ یہ صرف رب کا کام ہے کیونکہ وہی ہر بات کا علم اور ہر شخص کے حالات سے پوری واقفیت رکھتا ہے، وہی بہتر سمجھتا ہے کہ انسانوں میں سے نبوت کا تاج کس کے سر پر رکھنا ہے اور اپنی وحی ورسالت سے کس کو نوازنا ہے۔ [2] یعنی مال ودولت، جاہ ومنصب اور عقل وفہم میں ہم نے یہ فرق وتفاوت اس لیے رکھا ہے تاکہ زیادہ مال والا، کم مال والے سے، اونچے منصب والا چھوٹے منصب داروں سے، اور عقل وفہم میں حظ وافر رکھنے والا، اپنے سے کم تر عقل وشعور رکھنے والے سے کام لے سکے۔ اللہ تعالیٰ کی اس حکمت بالغہ سے کائنات کا نظام بحسن وخوبی چل رہا ہے۔ ورنہ اگر سب مال میں، منصب میں، علم وفہم میں، عقل وشعور میں اور دیگر اسباب دنیا میں برابر ہوتے تو کوئی کسی کا کام کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا، اسی طرح کم تر اور حقیر سمجھے جانے والے کام بھی کوئی نہ کرتا۔ یہ احتیاج انسانی ہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرق وتفاوت کے اندر رکھ دی ہے جس کی وجہ سے ہر انسان دوسرے انسان بلکہ انسانوں کا محتاج ہے، تمام حاجات وضروریات انسانی، کوئی ایک شخص، چاہے وہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو، دیگر انسانوں کی مدد حاصل کیے بغیر خود فراہم کر ہی نہیں سکتا۔ [3] اس رحمت سے مراد آخرت کی وہ نعمتیں ہیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:33صفحہ 491 · پارہ 25

وَلَوْلَآ أَن يَكُونَ ٱلنَّاسُ أُمَّةً وَٰحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَن يَكْفُرُ بِٱلرَّحْمَـٰنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِّن فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ ۝٣٣

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہو جائیں[1] گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنادیتے۔ اور زینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی دنیا کے مال و اسباب میں رغبت کرنے کی وجہ سے طالب دنیا ہی ہوجائیں گے اور رضائے الٰہی اور آخرت کی طلب سب فراموش کردیں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:34صفحہ 492 · پارہ 25

وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَٰبًا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِـُٔونَ ۝٣٤

اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وه تکیہ لگا لگا کر بیٹھتے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:35صفحہ 492 · پارہ 25

وَزُخْرُفًا ۚ وَإِن كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَـٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَٱلْـَٔاخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ ۝٣٥

اور سونے کے بھی[1] ، اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائده ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی بعض چیزیں چاندی کی اور بعض سونے کی، کیونکہ تنوع میں حسن زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال ہماری نظر میں اتنا بے وقعت ہے کہ اگر مذکورہ خطرہ نہ ہوتا تو اللہ کے سب منکروں کو خوب دولت دی جاتی لیکن اس میں خطرہ یہی تھا کہ پھر سب لوگ ہی دنیا کے پرستار نہ بن جائیں۔ دنیا کی حقارت اس حدیث سے بھی واضح ہے جس میں فرمایا گیا ہے۔ ”لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى مِنْهَا كَافِرًا شُرْبَةَ مَاءٍ“ (ترمذي ، ابن ماجه ، كتاب الزهد ) ”اگر دنیا کی اللہ کے ہاں اتنی حیثیت بھی ہوتی جتنی ایک مچھر کے پر کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس دنیا سے ایک گھونٹ پانی بھی پینے کو نہ دیتا“۔ [2] جو شرک و معاصی سے اجتناب اور اللہ کی اطاعت کرتے رہے، ان کے لیے آخرت اور جنت کی نعمتیں ہیں جن کو زوال وفنا نہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:36صفحہ 492 · پارہ 25

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ ٱلرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُۥ شَيْطَـٰنًا فَهُوَ لَهُۥ قَرِينٌ ۝٣٦

اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے[1] ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] عَشَا يَعْشُو کے معنی ہیں آنکھوں کی بیماری رتوندیا اس کی وجہ سے جو اندھا پن ہوتا ہے۔ یعنی جو اللہ کے ذکر سے اندھا ہوجائے۔ [2] وہ شیطان، اللہ کی یاد سے غافل رہنے والے کا ساتھی بن جاتا ہے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا اور نیکیوں سے روکتا ہے۔ یا انسان خود اسی شیطان کا ساتھی بن جاتا ہے اوراس سے جدا نہیں ہوتا بلکہ تمام معاملات میں اسی کی پیروی اور اس کے تمام وسوسوں میں اس کی اطاعت کرتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:37صفحہ 492 · پارہ 25

وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ ۝٣٧

اور وه انہیں راه سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی وہ شیطان ان کے حق کے راستے کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور اس سے انہیں روکتے ہیں اور انہیں برابر سمجھاتے رہتے ہیں کہ تم حق پر ہو، حتیٰ کہ وہ واقعی اپنے بارے میں یہی گمان کرنے لگ جاتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں۔ یا کافر شیطانوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہیں اور ان کی اطاعت کرتے رہتے ہیں۔ (فتح القدیر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:38صفحہ 492 · پارہ 25

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَنَا قَالَ يَـٰلَيْتَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ بُعْدَ ٱلْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ ٱلْقَرِينُ ۝٣٨

یہاں تک کہ جب وه ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] مَشْرِقَيْنِ (تثنیہ ہے) مراد مشرق اور مغرب ہیں۔ فَبِئْسَ الْقَرِينُ کا مخصوص بالذم محذوف ہے۔ أَنْتَ أَيُّهَا الشَّيْطَانُ! اے شیطان تو بہت برا ساتھی ہے۔ یہ کافر قیامت والے دن کہے گا۔ لیکن اس دن اس اعتراف کا کیا فائدہ؟
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:39صفحہ 492 · پارہ 25

وَلَن يَنفَعَكُمُ ٱلْيَوْمَ إِذ ظَّلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ ۝٣٩

اور جب کہ تم ﻇالم ٹھہر چکے تو تمہیں آج ہرگز تم سب کا عذاب میں شریک ہونا کوئی نفع نہ دے گا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:40صفحہ 492 · پارہ 25

أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ أَوْ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَمَن كَانَ فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ ۝٤٠

کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راه دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جس کے لیے شقاوت ابدی لکھ دی گئی ہے، وہ وعظ ونصیحت کے اعتبار سے بہرہ اور اندھا ہے، تیری دعوت وتبلیغ سے وہ راہ راست پر نہیں آسکتا۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ جس طرح بہرہ سننے سے، نابینا دیکھنے سے محروم ہے، اسی طرح کھلی گمراہی میں مبتلا حق کی طرف آنے سے محروم ہے۔ یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی ہے تاکہ ایسے لوگوں کے کفر سے آپ زیادہ تشویش محسوس نہ کریں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:41صفحہ 492 · پارہ 25

فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُم مُّنتَقِمُونَ ۝٤١

پس اگر ہم تجھے یہاں سے[1] لے بھی جائیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی تجھے موت آجائے، قبل اس کے کہ ان پر عذاب آئے، یا تجھے مکے سے نکال لے جائیں۔ [2] دنیا میں ہی، اگر ہماری مشیت متقاضی ہوئی، بصورت دیگر عذاب اخروی سے تو وہ کسی صورت نہیں بچ سکتے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:42صفحہ 492 · پارہ 25

أَوْ نُرِيَنَّكَ ٱلَّذِى وَعَدْنَـٰهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِم مُّقْتَدِرُونَ ۝٤٢

یا جو کچھ ان سے وعده کیا ہے[1] وه تجھے دکھا دیں ہم ان پر بھی قدرت رکھتے ہیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی تیری موت سے قبل ہی، یا مکے میں ہی تیرے رہتے ہوئے ان پر عذاب بھیج دیں۔ [2] یعنی ہم جب چاہیں ان پر عذاب نازل کرسکتے ہیں، کیونکہ ہم ان پر قادر ہیں۔ چنانچہ آپ کی زندگی میں ہی بدر کی جنگ میں کافر عبرت ناک شکست، اور ذلت سے دوچار ہوئے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:43صفحہ 492 · پارہ 25

فَٱسْتَمْسِكْ بِٱلَّذِىٓ أُوحِىَ إِلَيْكَ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝٤٣

پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں[1] بیشک آپ راه راست پر ہیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی قرآن کریم کو، چاہے کوئی بھی اسے جھٹلاتا رہے۔ [2] یہ فَاسْتَمْسِكْ کی علت ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:44صفحہ 492 · پارہ 25

وَإِنَّهُۥ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْـَٔلُونَ ۝٤٤

اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ[1] کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے.

ترجمے کے حواشی
[1] اس تخصیص کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کے لیے نصیحت نہیں۔ بلکہ اولین مخاطب چونکہ قریش تھے، اس لیے ان کا ذکر فرمایا، ورنہ قرآن تو پورے جہان کے لیے نصیحت ہے۔ وَمَا هُوَ إِلا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ (سورة القلم : 52) جیسے آپ کو حکم دیا گیا کہ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ (الشعراء: 214) (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کا پیغام صرف رشتے داروں کو ہی پہنچانا ہے۔ بلکہ مطلب ہے تبلیغ کی ابتدا اپنے ہی خاندان سے کریں بعض نے یہاں ذکر بمعنی شرف لیا ہے۔ یعنی یہ قرآن تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے شرف وعزت کا باعث ہے کہ یہ ان کی زبان میں اترا، اس کو وہ سب سے زیادہ سمجھنے والے ہیں اور اس کے ذریعے سے وہ پوری دنیا پر فضل وبرتری پاسکتے ہیں، اس لیے ان کو چاہیئے کہ اس کو اپنائیں اور اس کے مقتضا پر سب سے زیادہ عمل کریں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:45صفحہ 492 · پارہ 25

وَسْـَٔلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ ۝٤٥

اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم[1] نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟[2]

ترجمے کے حواشی
[1] پیغمبروں سے یہ سوال یا تو اسرار و معراج کے موقعے پر، بیت المقدس یا آسمان پر کیا گیا، جہاں انبیا علیہم السلام سے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی ملاقاتیں ہوئیں۔ یا أَتْبَاعَ کا لفظ محذوف ہے۔ یعنی ان کے پیروکاروں (اہل کتاب، یہود ونصاریٰ) سے پوچھو، کیونکہ وہ ان کی تعلیمات سے آگاہ ہیں اور ان پر نازل شدہ کتابیں ان کے پاس موجود ہیں۔ [2] جواب یقیناً نفی میں ہے۔ اللہ نے کسی بھی نبی کو یہ حکم نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس ہر نبی کی دعوت توحید ہی کا حکم دیا گیا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:46صفحہ 492 · پارہ 25

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَقَالَ إِنِّى رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ۝٤٦

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ علیہ السلام نے جاکر) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] قریش مکہ نے کہا تھا کہ اگر اللہ کسی کو نبی بناکر بھیجتا ہی تو مکے اور طائف کے کسی ایسے شخص کو بھیجتا جو صاحب مال وجاہ ہوتا۔ جیسے فرعون نے بھی حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے مقابلے میں کہا تھا کہ میں موسیٰ سے بہتر ہوں (اور یہ مجھ سے کمتر ہے، یہ تو صاف بول بھی نہیں سکتا) جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ غالباً اسی مشابہت احوال کی وجہ سے یہاں حضرت موسیٰ (عليه السلام) وفرعون کا قصہ دہرایا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں حضرت نبی کریم (عليه السلام) کے لیے بھی تسلی کا پہلو ہے کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو بھی بہت سی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، انہوں نے صبر اور عزم سے کام لیا، اسی طرح آپ بھی کفار مکہ کی ایذاؤں اور ناروا رویوں سے دل برداشتہ نہ ہوں، صبر اور حوصلے سے کام لیں۔ حضرت موسیٰ (عليه السلام) ہی کی طرح بالآخر فتح وکامرانی آپ ہی کی ہے اور یہ اہل مکہ فرعون ہی کی طرح ناکام ونامراد ہوں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:47صفحہ 492 · پارہ 25

فَلَمَّا جَآءَهُم بِـَٔايَـٰتِنَآ إِذَا هُم مِّنْهَا يَضْحَكُونَ ۝٤٧

پس جب وه ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے تو وه بےساختہ ان پر ہنسنے لگے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے فرعون اور اس کے درباریوں کو دعوت توحید دی تو انہوں نے ان کے رسول ہونے کی دلیل طلب کی، جس پر انہوں نے وہ دلائل ومعجزات پیش کیے جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے تھے۔ جنہیں دیکھ کر انہوں نے استہزا اور مذاق کیا اور کہا کہ یہ کون سی ایسی چیزیں ہیں۔ یہ تو جادو کے ذریعے ہم بھی پیش کرسکتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:48صفحہ 493 · پارہ 25

وَمَا نُرِيهِم مِّنْ ءَايَةٍ إِلَّا هِىَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا ۖ وَأَخَذْنَـٰهُم بِٱلْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۝٤٨

اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وه دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی[1] اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وه باز آجائیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] ان نشانیوں سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو طوفان ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون وغیرہ کی شکل میں یکے بعد دیگرے انہیں دکھائی گئیں، جن کا تذکرہ سورۂ اعراف، آیات 133۔ 135 میں گزر چکا ہے۔ بعد میں آنے والی ہر نشانی پہلی نشانی سے بڑی چڑھی ہوتی، جس سے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی صداقت واضح سے واضح تر ہوجاتی۔ [2] مقصد ان نشانیوں یا عذاب سے یہ ہوتا تھا کہ شاید وہ تکذیب سے باز آجائیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:49صفحہ 493 · پارہ 25

وَقَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَ ٱلسَّاحِرُ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ ۝٤٩

اور انہوں نے کہا اے جادوگر[1] ! ہمارے لیے اپنے رب سے[2] اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعده کر رکھا ہے[3]، یقین مان کہ ہم راه پر لگ جائیں گے.[4]

ترجمے کے حواشی
[1] کہتے ہیں اس زمانے میں جادو مذموم چیز نہیں تھی اور عالم فاضل شخص کو جادوگر کے لفظ سے ہی بطور تعظیم خطاب کیا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں معجزات اور نشانیوں کے بارے میں بھی ان کا خیال تھا کہ یہ موسیٰ (عليه السلام) کے فن جادوگری کا کمال ہے۔ اس لیے انہوں نے موسیٰ کو جادوگر کے لفظ سے مخاطب کیا۔ [2] (اپنے رب سے) کے الفاظ اپنی مشرکانہ ذہنیت کی وجہ سے کہے کیونکہ مشرکوں میں مختلف رب اور الٰہ ہوتے تھے، موسیٰ (صلى الله عليه وسلم) اپنے رب سے یہ کام کر والو ! [3] یعنی ہمارے ایمان لانے پر عذاب ٹالنے کا وعدہ۔ [4] اگر یہ عذاب ٹل گیا تو ہم تجھے اللہ کا سچا رسول مان لیں گے اور تیرے ہی رب کی عبادت کریں گے۔ لیکن ہر دفعہ وہ اپنا یہ عہد توڑ دیتے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اور سورۂ اعراف میں بھی گزرا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:50صفحہ 493 · پارہ 25

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ ٱلْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ ۝٥٠

پھر جب ہم نے وه عذاب ان سے ہٹالیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول وقرار توڑ دیا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:51صفحہ 493 · پارہ 25

وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِى قَوْمِهِۦ قَالَ يَـٰقَوْمِ أَلَيْسَ لِى مُلْكُ مِصْرَ وَهَـٰذِهِ ٱلْأَنْهَـٰرُ تَجْرِى مِن تَحْتِىٓ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ۝٥١

اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا[1] اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں[2]، کیا تم دیکھتے نہیں؟

ترجمے کے حواشی
[1] جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے ایسی کئی نشانیاں پیش کردیں جو ایک سے بڑھ کر ایک تھیں تو فرعون کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں میری قوم موسیٰ کی طرف مائل نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس نے اپنی ہزیمت کے داغ کو چھپانے اور قوم کو مسلسل دھوکے اور فریب میں مبتلا رکھنے کے لیے یہ نئی چال چلی کہ اپنے اختیار واقتدار کے حوالے سے موسیٰ (عليه السلام) کی بےتوقیری اور کمتری کو نمایاں کیا جائے تاکہ قوم میری سلطنت وسطوت سے ہی مرعوب رہے۔ [2] اس سے مراد دریائے نیل یا اس کی بعض شاخیں ہیں جو اس کے محل کے نیچے سے گزرتی تھیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:52صفحہ 493 · پارہ 25

أَمْ أَنَا۠ خَيْرٌ مِّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ ۝٥٢

بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بےتوقیر ہے[1] اور صاف بول بھی نہیں سکتا.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] أَمْ اضراب کے لیے یعنی بَلْ (بلکہ) کے معنی میں ہے، بعض کے نزدیک استفہامیہ ہی ہے۔ [2] یہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی لکنت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سورۂ طٰہ میں گزرا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:53صفحہ 493 · پارہ 25

فَلَوْلَآ أُلْقِىَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَآءَ مَعَهُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِينَ ۝٥٣

اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے[1] یا اس کے ساتھ پر باندھ کر فرشتے ہی آجاتے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] اس دور میں مصر اور فارس کے بادشاہ اپنی امتیازی شان اور خصوصی حیثیت کو نمایاں کرنے کے لیے سونے کے کڑے پہنتے تھے، اسی طرح قبیلوں کے سرداروں کے ہاتھوں میں بھی سونے کے کڑے اور گلے میں سونے کے طوق اور زنجیریں ڈال دی جاتی تھیں جو ان کی سرداری کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ اسی اعتبار سے فرعون نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں کہا کہ اگر اس کی کوئی حیثیت اور امتیازی شان ہوتی تو اس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے ہونے چاہیے تھے۔ [2] جو اس بات کی تصدیق کرتے کہ یہ اللہ کا رسول ہے یا بادشاہوں کی طرح اس کی شان کو نمایاں کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہوتے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:54صفحہ 493 · پارہ 25

فَٱسْتَخَفَّ قَوْمَهُۥ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا فَـٰسِقِينَ ۝٥٤

اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی[1] ، یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اسْتَخَفَّ عُقُولَهُم (ابن کثیر) اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا سمجھایا کر دیا اور انہیں اپنی جہالت وضلالت پر قائم رہنے کی تاکید کی، اور قوم اس کے پیچھے لگ گئی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:55صفحہ 493 · پارہ 25

فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا ٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَـٰهُمْ أَجْمَعِينَ ۝٥٥

پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دﻻیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو ڈبو دیا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:56صفحہ 493 · پارہ 25

فَجَعَلْنَـٰهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْـَٔاخِرِينَ ۝٥٦

پس ہم نے انہیں گیا گزرا کردیا اور پچھلوں کے لیے مثال بنادی.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] آسَفُونَا بمعنی أَسْخَطُونَا یا أَغْضَبُونَا، سَلَفٌ سَالِفٌ کی جمع ہے جیسے خَدَمٌ، خَادِمٌ کی اور حَرَسٌ ، حَارِسٌ کی ہے۔ معنی جو اپنے وجود میں دوسرے سے پہلے ہو۔ یعنی ان کو بعد میں آنے والوں کے لیےنصیحت اور مثال بنادیا۔ کہ وہ اس طرح کفر وظلم اور علو وفساد نہ کریں جس طرح فرعون نے کیا تاکہ وہ اس جیسے عبرت ناک حشر سے محفوظ رہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:57صفحہ 493 · پارہ 25

۞ وَلَمَّا ضُرِبَ ٱبْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ ۝٥٧

اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم (خوشی سے) چیخنے لگی ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:58صفحہ 493 · پارہ 25

وَقَالُوٓا۟ ءَأَـٰلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًۢا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ۝٥٨

اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وه؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] شرک کی تردید اور جھوٹے معبودوں کی بےوقعتی کی وضاحت کے لیے جب مشرکین مکہ سے کہا جاتا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم میں جائیں گے تو اس سے مراد وہ پتھر کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے، نہ کہ وہ نیک لوگ، جو اپنی زندگیوں میں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے انہیں بھی معبود سمجھنا شروع کردیا۔ ان کی بابت تو قرآن کریم نے ہی واضح کردیا ہے کہ یہ جہنم سے دور رہیں گے۔ إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ (الأنبياء: 101) کیونکہ اس میں ان کا اپنا کوئی قصور نہیں تھا۔ اسی لیے قرآن نے اس کے لیے جو لفظ استعمال کیا ہے، وہ لفظ ما ہے جو غیر عاقل کے لیے استعمال ہوتا ہے إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (الأنبياء: 98) اس سے انبیا علیہم السلام اور وہ صالحین نکل گئے، جن کو لوگوں نے اپنے طور پر معبود بنائے رکھا ہوگا۔ یعنی یہ تو ممکن ہے کہ دیگر مورتیوں کے ساتھ ان کی شکلوں کی بنائی ہوئی مورتیاں بھی اللہ تعالیٰ جہنم میں ڈال دے لیکن یہ شخصیات تو بہرحال جہنم سے دور ہی رہیں گی۔ لیکن مشرکین نبی (صلى الله عليه وسلم) کی زبان مبارک سے حضرت میح (عليه السلام) کا ذکر خیر سن کر یہ کٹ حجتی اور مجادلہ کرتے کہ جب حضرت عیسیٰ (عليه السلام) قابل مدح ہیں دراں حالیکہ عیسائیوں نے انہیں معبود بنایا ہوا ہے، تو پھر ہمارے معبود کیوں برے؟ کیا وہ بھی بہتر نہیں؟ یا اگر ہمارے معبود جہنم میں جائیں گے تو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) اور حضرت عزیر (عليه السلام) بھی پھر جہنم میں جائیں گے۔ اللہ نے یہاں فرمایا، ان کا خوشی سے چلانا، ان کا جدل محض ہے۔ جدل کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ جھگڑنے والا جانتا ہے کہ اس کے پاس دلیل کوئی نہیں ہے لیکن محض اپنی بات کی پچ میں بحث وتکرار سے گریز نہیں کرتا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:59صفحہ 493 · پارہ 25

إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَـٰهُ مَثَلًا لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ۝٥٩

عیسیٰ (علیہ السلام) بھی صرف بنده ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نشان قدرت بنایا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] ایک اس اعتبار سے کہ بغیر باپ کے ان کی ولادت ہوئی، دوسرے، خود انہیں جو معجزات دیے گئے، احیائے موتی وغیرہ، اس لحاظ سے بھی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:60صفحہ 493 · پارہ 25

وَلَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَـٰٓئِكَةً فِى ٱلْأَرْضِ يَخْلُفُونَ ۝٦٠

اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کردیتے جو زمین میں جانشینی کرتے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی تمہیں ختم کرکے تمہاری جگہ زمین پر فرشتوں کو آباد کردیتے، جو تمہاری ہی طرح ایک دوسرے کی جانشینی کرتے، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کا آسمان پر رہنا ایسا شرف نہیں ہے کہ ان کی عبادت کی جائے یہ تو ہماری مشیت اور قضا ہے کہ فرشتوں کو آسمان پر اور انسانوں کو زمین پر آباد کیا، ہم چاہیں تو فرشتوں کو زمین پر بھی آباد کرسکتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:61صفحہ 494 · پارہ 25

وَإِنَّهُۥ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَٱتَّبِعُونِ ۚ هَـٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ ۝٦١

اور یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے[1] پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو، یہی سیدھی راه ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] عِلْمٌ بمعنی علامت ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول ہوگا، جیسا کہ صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ یہ نزول اس بات کی علامت ہوگا کہ اب قیامت قریب ہے اسی لیے بعض نے اسے عین اور لام کے زبر کے ساتھ (عَلَمٌ) پڑھا ہے، جس کے معنی ہی نشانی اور علامت کے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک انہیں قیامت کی نشانی قرار دینا، ان کی معجزانہ ولادت کی بنیاد پر ہے۔ یعنی جس طرح اللہ نے ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ ان کی یہ پیدائش اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ فرما دےگا، اس لیے قدرت الٰہی کو دیکھتے ہوئے وقوع قیامت میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ إِنَّهُ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ (عليه السلام) ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:62صفحہ 494 · پارہ 25

وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ ۖ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ۝٦٢

اور شیطان تمہیں روک نہ دے، یقیناً وه تمہارا صریح دشمن ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:63صفحہ 494 · پارہ 25

وَلَمَّا جَآءَ عِيسَىٰ بِٱلْبَيِّنَـٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِٱلْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ ٱلَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ۝٦٣

اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے کو ﻻئے تو کہا۔ کہ میں تمہارے پاس حکمت ﻻیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کردوں[1] ، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو.

ترجمے کے حواشی
[1] اس کے لیے دیکھئے آل عمران، آیت۔ 5 کا حاشیہ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:64صفحہ 494 · پارہ 25

إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ هَـٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ ۝٦٤

میرا اور تمہارا رب فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس تم سب اس کی عبادت کرو۔ راه راست (یہی) ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:65صفحہ 494 · پارہ 25

فَٱخْتَلَفَ ٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ ۝٦٥

پھر (بنی اسرائیل کی) جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا[1] ، پس ﻇالموں کے لیے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے.

ترجمے کے حواشی
[1] اس سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی تنقیص کی اور انہیں نعوذباللہ ولد الزنا قرار دیا، جب کہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنالیا۔ یا مراد عیسائیوں ہی کے مختلف فرقے ہیں جو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ ایک انہیں ابن اللہ، دوسرا اللہ اور ثالث ثلاثہ کہتا ہے اور ایک فرقہ مسلمانوں کی طرح انہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:66صفحہ 494 · پارہ 25

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۝٦٦

یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وه اچانک ان پر آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:67صفحہ 494 · پارہ 25

ٱلْأَخِلَّآءُ يَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا ٱلْمُتَّقِينَ ۝٦٧

اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] کیوں کہ کافروں کی دوستی، کفر وفسق کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے اور یہی کفر وفسق ان کے عذاب کاباﻋﺚ ہوں گے، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے اور ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس اہل ایمان و تقویٰ کی باہمی محبت، چونکہ دین اور رضائے الٰہی کی بنیاد پر ہوتی ہے اور یہی دین وایمان خیروثواب کا باعث ہے۔ ان سے ان کی دوستی میں کوئی انقطاع نہیں ہوگا۔ وہ اسی طرح برقرار رہے گی جس طرح دنیا میں تھی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:68صفحہ 494 · پارہ 25

يَـٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ وَلَآ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ۝٦٨

میرے بندو! آج تو تم پر کوئی خوف (و ہراس) ہے اور نہ تم (بد دل اور) غمزده ہوگے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یہ قیامت والے دن ان متقین کو کہا جائے گا جو دنیا میں صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت رکھتے تھے۔ جیسا کہ احادیث میں بھی اس کی فضیلت وارد ہے۔ بلکہ اللہ کے لیے بغض اور اللہ کے لیے محبت کو کمال ایمان کی بنیاد بتلایا گیا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:69صفحہ 494 · پارہ 25

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَكَانُوا۟ مُسْلِمِينَ ۝٦٩

جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻئے اور تھے بھی وه (فرماں بردار) مسلمان.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:70صفحہ 494 · پارہ 25

ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ أَنتُمْ وَأَزْوَٰجُكُمْ تُحْبَرُونَ ۝٧٠

تم اور تمہاری بیویاں ہشاش بشاش (راضی خوشی) جنت میں چلے جاؤ.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] أَزْوَاجُكُمْ سے بعض نے مومن بیویاں، بعض نے مومن ساتھی اور بعض نے جنت میں ملنے والی حورعین بیویاں مراد لی ہے۔ یہ سارے ہی مفہوم صحیح ہیں کیونکہ جنت میں یہ سب کچھ ہی ہوگا۔ تُحْبَرُونَ حَبْرٌ سے ماخوذ ہے یعنی وہ فرحت ومسرت جو انہیں جنت کی نعمت وعزت کی وجہ سے ہوگی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:71صفحہ 494 · پارہ 25

يُطَافُ عَلَيْهِم بِصِحَافٍ مِّن ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ ۖ وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ ٱلْأَنفُسُ وَتَلَذُّ ٱلْأَعْيُنُ ۖ وَأَنتُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ۝٧١

ان کے چاروں طرف سے سونے کی رکابیاں اور سونے کے گلاسوں کا دور چلایا جائے گا[1] ، ان کے جی جس چیز کی خواہش کریں اور جس سے ان کی آنکھیں لذت پائیں، سب وہاں ہوگا اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] صِحَافٌ ، صَحْفَةٌ کی جمع ہے۔ رکابی۔ سب سے بڑے برتن کو جَفْنَةٌ کہا جاتا ہے، اس سے چھوٹا قَصْعَةٌ (جس سے دس آدمی شکم سیر ہوجاتے ہیں) پھر صَحْفَةٌ (قَصْعَةٌ سے نصف) پھر مِكِيلَةٌ ہے۔ مطلب ہے کہ اہل جنت کو جو کھانے ملیں گے، وہ سونے کی رکابیوں میں ہوں گے (فتح القدیر)۔ [2] یعنی جس طرح ایک وارث، میراث کا مالک ہوتا ہے، اسی طرح جنت بھی ایک میراث ہے جس کے وارث وہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں ایمان اور عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:72صفحہ 494 · پارہ 25

وَتِلْكَ ٱلْجَنَّةُ ٱلَّتِىٓ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۝٧٢

یہی وه بہشت ہے کہ تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنائے گئے ہو.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:73صفحہ 494 · پارہ 25

لَكُمْ فِيهَا فَـٰكِهَةٌ كَثِيرَةٌ مِّنْهَا تَأْكُلُونَ ۝٧٣

یہاں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں جنہیں تم کھاتے رہو گے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:74صفحہ 495 · پارہ 25

إِنَّ ٱلْمُجْرِمِينَ فِى عَذَابِ جَهَنَّمَ خَـٰلِدُونَ ۝٧٤

بیشک گنہگار لوگ عذاب دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:75صفحہ 495 · پارہ 25

لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ ۝٧٥

یہ عذاب کبھی بھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وه اسی میں مایوس پڑے رہیں گے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی نجات سے مایوس۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:76صفحہ 495 · پارہ 25

وَمَا ظَلَمْنَـٰهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوا۟ هُمُ ٱلظَّـٰلِمِينَ ۝٧٦

اور ہم نے ان پر ﻇلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی ﻇالم تھے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:77صفحہ 495 · پارہ 25

وَنَادَوْا۟ يَـٰمَـٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّـٰكِثُونَ ۝٧٧

اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک[1] ! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے[2]، وه کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] مالک، داروغۂ جہنم کا نام ہے۔ [2] یعنی ہمیں موت ہی دے دے تاکہ عذاب سے جان چھوٹ جائے۔ [3] یعنی وہاں موت کہاں؟ لیکن یہ عذاب کی زندگی موت سے بھی بدتر ہوگی، تاہم اس کے بغیر چارہ بھی نہیں ہوگا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:78صفحہ 495 · پارہ 25

لَقَدْ جِئْنَـٰكُم بِٱلْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَـٰرِهُونَ ۝٧٨

ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق[1] سے نفرت رکھنے والے تھے؟

ترجمے کے حواشی
[1] یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یا فرشتوں کا ہی قول بطور نیابت الٰہی ہے۔ جیسے کوئی افسر مجاز (ہم) کا استعمال حکومت کے مفہوم میں کرتا ہے۔ اکثر سے مراد کل ہے، یعنی سارے ہی جہنمی، یا پھر اکثر سے مراد روسا اور لیڈر ہیں۔ باقی جہنمی ان کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے اس میں شامل ہوں گے۔ حق سے مراد، اللہ کا وہ دین اور پیغام ہے جو وہ پیغمبروں کے ذریعے سے ارسال کرتا رہا۔ آخری حق قرآن اور دین اسلام ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:79صفحہ 495 · پارہ 25

أَمْ أَبْرَمُوٓا۟ أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ ۝٧٩

کیا انہوں نے کسی کام کا پختہ اراده کرلیا ہے تو یقین مانو کہ ہم بھی پختہ کام کرنے والے ہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] إِبْرَامٌ کے معنی ہیں، اتقان واحکام۔ پختہ اور مضبوط کرنا۔ أَمْ اضراب کے لیے ہے بَلْ کے معنی میں۔ یعنی ان جہنمیوں نے حق کو ناپسند ہی نہیں کیا بلکہ یہ اس کے خلاف منظم تدبیریں اور سازشیں کرتے رہے۔ جس کے مقابلے میں پھر ہم نے بھی اپنی تدبیر کی اور ہم سے زیادہ مضبوط تدبیر کس کی ہوسکتی ہے؟ اس کے ہم معنی یہ آیت ہے۔ أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ (الطور: 42)
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:80صفحہ 495 · پارہ 25

أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَىٰهُم ۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ ۝٨٠

کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیده باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں[1] ) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جو پوشیدہ باتیں وہ اپنے نفسوں میں چھپائے پھرتے ہیں یا خلوت میں آہستگی سے کرتے ہیں یا آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں، کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم وہ نہیں سنتے؟ مطلب ہے ہم سب سنتے اور جانتے ہیں۔ [2] یعنی یقیناً سنتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے الگ ان کی ساری باتیں نوٹ کرتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:81صفحہ 495 · پارہ 25

قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْعَـٰبِدِينَ ۝٨١

آپ کہہ دیجئے! کہ اگر بالفرض رحمٰن کی اوﻻد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے واﻻ ہوتا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] کیونکہ میں اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہوں۔ اگر واقعی اس کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں ان کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ مطلب مشرکین کے عقیدے کا ابطال اور رد ہے جو اللہ کی اولاد ثابت کرتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:82صفحہ 495 · پارہ 25

سُبْحَـٰنَ رَبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ۝٨٢

آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس سے (بہت) پاک ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یہ اللہ کا کلام ہے جس میں اس نے اپنی تنزیہ وتقدیس بیان کی ہے، یارسول (صلى الله عليه وسلم) کا کلام ہے اور آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اللہ کے حکم سے اللہ کی ان چیزوں سے تنزیہ وتقدیس بیان کی جن کا انتساب مشرکین اللہ کی طرف کرتے تھے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:83صفحہ 495 · پارہ 25

فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ ۝٨٣

اب آپ انہیں اسی بحﺚ مباحثہ اور کھیل کود میں چھوڑ دیجئے[1] ، یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑجائے جن کا یہ وعده دیے جاتے ہیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ نہیں اپناتے تو اب انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور دنیا کے کھیل کود میں لگا رہنے دیں۔ یہ تہدید وتنبیہ ہے۔ [2] ان کی آنکھیں اسی دن کھلیں گی جب ان کے اس روئیے کا انجام ان کے سامنے آئے گا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:84صفحہ 495 · پارہ 25

وَهُوَ ٱلَّذِى فِى ٱلسَّمَآءِ إِلَـٰهٌ وَفِى ٱلْأَرْضِ إِلَـٰهٌ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْعَلِيمُ ۝٨٤

وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی قابل عبادت ہے[1] اور وه بڑی حکمت واﻻ اور پورے علم واﻻ ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یہ نہیں ہے کہ آسمانوں کا معبود کوئی اور ہو اور زمین کا کوئی اور۔ بلکہ جس طرح ان دونوں کا خالق ایک ہے، معبود بھی ایک ہی ہے۔ اسی کے ہم معنی یہ آیت ہے۔ وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ ۔ (سورة الأنعام: 3) ”آسمان وزمین میں وہی اللہ ہے، وہ تمہاری پوشیدہ اور جہری باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، وہ بھی اس کے علم میں ہے“۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:85صفحہ 495 · پارہ 25

وَتَبَارَكَ ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۝٨٥

اور وه بہت برکتوں واﻻ ہے جس کے پاس آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی بادشاہت ہے[1] ، اور قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے[2] اور اسی کی جانب تم سب لوٹائے جاؤ گے.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] ایسی ذات کو، جس کے پاس سارے اختیارات اور زمین و آسمان کی بادشاہت ہو، اسے بھلا اولاد کی کیاضرورت؟ [2] جس کو وہ اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔ [3] جہاں وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:86صفحہ 495 · پارہ 25

وَلَا يَمْلِكُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ ٱلشَّفَـٰعَةَ إِلَّا مَن شَهِدَ بِٱلْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ۝٨٦

جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے[1] ، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی دنیا میں جن بتوں کی یہ عبادت کرتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔ ان معبودوں کو شفاعت کا قطعاً کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ [2] حق بات سے مراد کلمہ توحید لاالٰہ الااللہ ہے اور یہ اقرار بھی علم و بصیرت کی بنیاد پر ہو، محض رسمی اور تقلیدی نہ ہو۔ یعنی زبان سے کلمۂ توحید ادا کرنے والے کو پتہ ہو کہ اس میں صرف ایک اللہ کا اثبات اور دیگر تمام معبودوں کی نفی ہے، پھر اس کے مطابق اس کا عمل ہو۔ ایسے لوگوں کے حق میں اہل شفاعت کی شفاعت مفید ہوگی۔ یا مطلب ہے کہ شفاعت کرنے کا حق صرف ایسے لوگوں کو ملے گا جو حق کا اقرار کرنے والے ہوں گے، یعنی انبیا وصالحین اور فرشتے۔ نہ کہ معبود ان باطل کو، جنہیں مشرکین اپنا شفاعت کنندہ خیال کرتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:87صفحہ 495 · پارہ 25

وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ۝٨٧

اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں؟

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:88صفحہ 495 · پارہ 25

وَقِيلِهِۦ يَـٰرَبِّ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ ۝٨٨

اور ان کا (پیغمبر کا اکثر) یہ کہنا[1] کہ اے میرے رب! یقیناً یہ وه لوگ ہیں جو ایمان نہیں ﻻتے.

ترجمے کے حواشی
[1] وَقِيلِهِ اس کا عطف وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ پر ہے یعنی وَعِلمُ قِيلِهِ ، اللہ کے پاس ہی قیامت اور اپنے پیغمبر کے شکوے کا علم کا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
43:89صفحہ 495 · پارہ 25

فَٱصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَـٰمٌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ۝٨٩

پس آپ ان سے منھ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام[1] ! انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہوجائے گا.

ترجمے کے حواشی
[1] یہ سلام متارکہ ہے، جیسے۔ سَلامٌ عَلَيْكُمْ لا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ (القصص: 55) قَالُوا سَلامًا (الفرقان: 63) میں ہے۔ یعنی دین کے معاملے میں میری اور تمہاری راہ الگ الگ ہے، تم اگر باز نہیں آتے تو اپنا عمل کیے جاؤ، میں اپنا کام کیے جارہا ہوں، عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ

آف لائن مطالعے کے لیے قرآن محفوظ کریں · مطالعے کا منصوبہ بنائیں

متنی مآخذ اور صحت

اصل عربی: Tanzil Uthmani v1.1. معانی کا ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3.

تمام 6,236 آیات کے حوالے ماخذ سے جانچے گئے ہیں۔ یہ سالمیت کی فنی جانچ ہے، آزاد علمی جائزہ نہیں۔ ابتدائی بسم اللہ اسی طرح محفوظ ہیں جیسے فراہم کی گئی تھیں۔

# PLEASE DO NOT REMOVE OR CHANGE THIS COPYRIGHT BLOCK
#====================================================================
#
#  Tanzil Quran Text (Uthmani, Version 1.1)
#  Copyright (C) 2007-2026 Tanzil Project
#  License: Creative Commons Attribution 3.0
#
#  This copy of the Quran text is carefully produced, highly 
#  verified and continuously monitored by a group of specialists 
#  at Tanzil Project.
#
#  TERMS OF USE:
#
#  - Permission is granted to copy and distribute verbatim copies 
#    of this text, but CHANGING IT IS NOT ALLOWED.
#
#  - This Quran text can be used in any website or application, 
#    provided that its source (Tanzil Project) is clearly indicated, 
#    and a link is made to tanzil.net to enable users to keep
#    track of changes.
#
#  - This copyright notice shall be included in all verbatim copies 
#    of the text, and shall be reproduced appropriately in all files 
#    derived from or containing substantial portion of this text.
#
#  Please check updates at: http://tanzil.net/updates/
#
#====================================================================
مکمل ماخذی تفصیل اور اجازتیں

ترجمے کا ماخذ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center.
ماخذ کا نسخہ: 1.1.3 · 2025-08-13

QuranEnc.com · معانی کا ترجمہ

ماخذ کی اجازتیں · ترجمے کے مسئلے کی اطلاع دیں

اس زبان کے نسخے میں نام زد شائع شدہ قرآنی ترجمہ استعمال ہوا ہے، الہامی متن کا خودکار ترجمہ نہیں۔

انٹرفیس کا ترجمہ AI کی مدد سے تیار ہوا ہے۔ مادری زبان کے ماہر کا آزاد جائزہ ابھی باقی ہے۔ ترجمے کے مسئلے کی اطلاع دیں · اصل انگریزی پڑھیں