سورت 38 · 88 آیات · مکی

Saad

حرف صاد

ص
Quran.com پر سنیں اور مطالعہ کریں
38:1صفحہ 453 · پارہ 23

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ صٓ ۚ وَٱلْقُرْءَانِ ذِى ٱلذِّكْرِ ۝١

ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] جس میں تمہارے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ایسی باتیں ہیں،جن سےتمہاری دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔ بعض نے ذی الذکر کا ترجمہ شان اور مرتبت والا، کیے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ اس لئے کہ قرآن عظمت شان کا حامل بھی ہے اور اہل ایمان وتقویٰ کے لئے نصیحت اور درس عبرت بھی۔ اس قسم کا جواب محذوف ہے کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد(صلى الله عليه وسلم) ساحر، شاعر یا کاذب ہیں۔ بلکہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں جن پر ذی شان قرآن نازل ہوا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:2صفحہ 453 · پارہ 23

بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ۝٢

بلکہ کفار غرور ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی یہ قرآن تو یقیناً شک سے پاک اور ان کے لئے نصیحت ہے جو اس سے عبرت حاصل کریں البتہ ان کافروں کو اس سے فائدہ اس لئے نہیں پہنچ رہا ہے کہ ان کے دماغوں میں استکبار اور غرور ہے اور دلوں میں مخالفت وعناد۔ عزت کے معنی ہوتے ہیں، حق کے مقابلے میں اکڑنا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:3صفحہ 453 · پارہ 23

كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا۟ وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ ۝٣

ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباه کر ڈاﻻ[1] انہوں نے ہر چند چیﺦ وپکار کی لیکن وه وقت چھٹکارے کا نہ تھا.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] جو ان سے زیادہ مضبوط اور قوت والے تھے لیکن کفر وتکذیب کی وجہ سے برے انجام سے دوچار ہوئے۔ [2] یعنی انہوں نے عذاب دیکھ کر مدد کےلئے پکارا اور توبہ پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن وہ وقت توبہ کا تھا نہ فرار کا۔ اس لئے نہ ان کا ایمان نافع ہوا اور نہ وہ بھاگ کر عذاب سے بچ سکے لاتَ، لا ہی سے ہے جس میں ت کا اضافہ ہے جیسے ثَمَّ کو ثَمَّةَ بھی بولتے ہیں مَنَاصٌ، نَاصَ يَنُوصُ کا مصدر ہے، جس کے معنی بھاگنے اور پیچھے ہٹنے کے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:4صفحہ 453 · پارہ 23

وَعَجِبُوٓا۟ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ ٱلْكَـٰفِرُونَ هَـٰذَا سَـٰحِرٌ كَذَّابٌ ۝٤

اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے واﻻ آگیا[1] اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی انہی کی طرح کا ایک انسان رسول کس طرح بن گیا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:5صفحہ 453 · پارہ 23

أَجَعَلَ ٱلْـَٔالِهَةَ إِلَـٰهًا وَٰحِدًا ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ ۝٥

کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ایک ہی اللہ ساری کائنات کانظام چلانے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی طرح عبادت اور نذر ونیاز کا مستحق بھی صرف وہی ایک ہے؟ یہ ان کے لئے تعجب انگیز بات تھی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:6صفحہ 453 · پارہ 23

وَٱنطَلَقَ ٱلْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ ٱمْشُوا۟ وَٱصْبِرُوا۟ عَلَىٰٓ ءَالِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ ۝٦

ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو[1] ، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اپنے دین پر جمے رہو اور بتوں کی عبادت کرتےرہو، محمد (صلى الله عليه وسلم) کی بات پر کان مت دھرو ! [2] یعنی یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے چھڑا کر دراصل ہمیں اپنے پیچھے لگانا اور اپنی قیادت وسیادت منوانا چاہتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:7صفحہ 453 · پارہ 23

مَا سَمِعْنَا بِهَـٰذَا فِى ٱلْمِلَّةِ ٱلْـَٔاخِرَةِ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا ٱخْتِلَـٰقٌ ۝٧

ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی[1] ، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] پچھلے دین سے مراد یا تو ان کا ہی دین قریش ہے، یا پھر دین نصاریٰ۔ یعنی یہ جس توحید کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بابت تو ہم نے کسی بھی دین میں نہیں سنا۔ [2] یعنی یہ توحید صرف اس کی اپنی من گھڑت ہے، ورنہ عیسائیت میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو الوہیت میں شریک تسلیم کیا گیا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:8صفحہ 453 · پارہ 23

أَءُنزِلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ مِنۢ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّن ذِكْرِى ۖ بَل لَّمَّا يَذُوقُوا۟ عَذَابِ ۝٨

کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے[1] ؟ دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں[2]، بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی مکے میں بڑے بڑے چودہری اور رئیس ہیں، اگر اللہ کسی کو نبی بنانا ہی چاہتا تو ان میں سے کسی کو بناتا۔ ان سب کو چھوڑ کر وحی ورسالت کے لئے محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کا انتخاب بھی عجیب ہے؟ یہ گویا انہوں نے اللہ کے انتخاب میں کیڑے نکالے۔ سچ ہےخوئے بدر ابہانہ بسیار۔ دوسرے مقام پر بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ زخرف: 32-31۔ [2] یعنی ان کا انکاراس لئے نہیں ہے کہ انہیں محمد (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کا علم نہیں ہے یا آپ کی سلامت عقل سے انہیں انکار ہے بلکہ یہ اس وحی کے بارے میں ہی ریب وشک میں مبتلا ہیں جو آپ پر نازل ہوئی، جس میں سب سے نمایاں توحید کی دعوت ہے۔ [3] کیونکہ عذاب کا مزہ چکھ لیتے تو اتنی واضح چیز کی تکذیب نہ کرتے۔ اور جب یہ اس تکذیب کا واقعی مزہ چکھیں گے تو وہ وقت ایسا ہوگا کہ پھر نہ تصدیق کام آئے گی، نہ ایمان ہی فائدہ دے گا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:9صفحہ 453 · پارہ 23

أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ ٱلْعَزِيزِ ٱلْوَهَّابِ ۝٩

یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] کہ یہ جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں، انہی خزانوں میں نبوت بھی ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، بلکہ رب کے خزانے کا مالک وہی وہاب ہے جو بہت دینے والا ہے، تو پھر انہیں نبوت محمدی سے انکار کیوں ہے؟ جسے اس نواز نے والے رب نے اپنی رحمت خاص سے نوازا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:10صفحہ 453 · پارہ 23

أَمْ لَهُم مُّلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا۟ فِى ٱلْأَسْبَـٰبِ ۝١٠

یا کیا آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے، تو پھر یہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کر دیں جو محمد (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوتی ہے۔ اسباب، سبب کی جمع ہے۔ اس کے لغوی معنی ہر اس چیز کے ہیں جس کے ذریعے سے مطلوب تک پہنچا جائے، چاہے وہ کوئی سی بھی چیز ہو۔ اس لئے اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ رسیوں کے علاوہ ایک ترجمہ دروازے کا بھی کیا گیا ہے، جن سے فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ یعنی سیڑھیوں کے ذریعے سے آسمان کے دروازوں تک پہنچ چائیں اور وحی بند کر دیں۔ (فتح القدیر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:11صفحہ 453 · پارہ 23

جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّنَ ٱلْأَحْزَابِ ۝١١

یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] جُنْدٌ، مبتدا محذوف هُمْ کی خبر ہے اور ما بطور تاکید تعظیم یا تحقیر کے لئے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مدد اور کفار کی شکست کا وعدہ ہے۔ یعنی کفار کا یہ لشکر جو باطل کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، بڑا ہے۔ یا حقیر، اس کی قطعاً پروا نہ کریں نہ اس سے خوف کھائیں، شکست اس کا مقدر ہے۔ هُنَالِكَ مکان بعید کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر اور یوم فتح مکہ کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں کافر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:12صفحہ 453 · پارہ 23

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو ٱلْأَوْتَادِ ۝١٢

ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون[1] نے جھٹلایا تھا.

ترجمے کے حواشی
[1] فرعون کو میخوں والا اس لیے کہا کہ وہ ظالم جب کسی پر غضب ناک ہوتا تو اس کے ہاتھوں، پیروں اور سر میں میخیں گاڑ دیتا، یا اس سے مقصد بطور استعارہ اس کی قوت وشوکت اور مضبوط حکومت کا اظہار ہے یعنی میخوں سے جس طرح کسی چیز کو مضبوط کر دیاجاتا ہے، اس کا لشکر جرار اور اس کے پیروکار بھی اس کی سلطنت کی قوت واستحکام کا باعث تھے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:13صفحہ 453 · پارہ 23

وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَـٰبُ لْـَٔيْكَةِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلْأَحْزَابُ ۝١٣

اور ﺛمود نے اور قوم لوط نے اور ایکہ کے رہنے والوں [1] نے بھی، یہی (بڑے) لشکر تھے.

ترجمے کے حواشی
[1] أَصْحَابُ الأيْكَةِ کے لئے دیکھئے سورۂ شعراء۔ 176 کا حاشیہ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:14صفحہ 453 · پارہ 23

إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ۝١٤

ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہو پس میری سزا ان پر ﺛابت ہوگئی.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:15صفحہ 453 · پارہ 23

وَمَا يَنظُرُ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ ۝١٥

انہیں صرف ایک چیﺦ کا انتظار[1] ہے جس میں کوئی توقف (اور ڈھیل) نہیں ہے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی صور پھونکنے کا جس سے قیامت برپا ہو جائے گی۔ [2] دودھ دوہنے والا ایک مرتبہ کچھ دودھ دوہ کر بچے کو اونٹنی یا گائے بھینس کے پاس چھوڑ دیتا ہے تاکہ اس کے دودھ پینے سےتھنوں میں دودھ اتر آئے، چنانچہ تھوڑی دیر بعد بچے کو زبردستی پیچھے ہٹا کر خود دودھ دوہنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا جو وقفہ ہے، یہ فواق کہلاتا ہے۔ یعنی صور پھونکنےکے بعد اتنا وقفہ بھی نہیں ملے گا، بلکہ صور پھونکنے کی دیر ہوگی کہ قیامت کا زلزلہ برپا ہو جائے گا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:16صفحہ 453 · پارہ 23

وَقَالُوا۟ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ ٱلْحِسَابِ ۝١٦

اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] قِطٌّ کے معنی ہیں، حصہ، مراد یہاں نامۂ عمل یا سرنوشت ہے۔ یعنی ہمارے نامۂ اعمال کے مطابق ہمارے حصے میں اچھی یا بری سزا جو بھی ہے، یوم حساب کے آنے سے پہلے ہی ہمیں دنیا میں دے دے۔ یہ يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ والی بات ہی ہے۔ یہ وقوع قیامت کو ناممکن سمجھتے ہوئے انہوں نے استہزا اور تمسخر کے طور پر کہا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:17صفحہ 454 · پارہ 23

ٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلْأَيْدِ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ۝١٧

آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں جو بڑی قوت واﻻ تھا[1] ، یقیناً وه بہت رجوع کرنے واﻻ تھا.

ترجمے کے حواشی
[1] یہ أَيْدٍ، يَدٌ (ہاتھ) کی جمع نہیں ہے۔ بلکہ یہ آدَ يَئِيدُ کا مصدر أَيْدٍ ہے، قوت وشدت۔ اسی سے تائید بمعنی تقویت ہے۔ اس قوت سے مراد دینی قوت وصلابت ہے، جس طرح حدیث میں آتا ہے ”اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز، داود (عليه السلام) کی نماز اور سب سے زیادہ محبوب روزے، داود (عليه السلام) کے روزے ہیں، وہ نصف رات سوتے، پھر اٹہ کر رات کا تہائی حصہ قیام کرتے اور پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے۔ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے اور جنگ میں فرار نہ ہوتے“۔ (صحيح بخاري، كتاب الأنبياء ، باب وآتينا داود زبورا، ومسلم، كتاب الصيام ، باب النهي عن صوم الدهر)
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:18صفحہ 454 · پارہ 23

إِنَّا سَخَّرْنَا ٱلْجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحْنَ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِشْرَاقِ ۝١٨

ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:19صفحہ 454 · پارہ 23

وَٱلطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَّهُۥٓ أَوَّابٌ ۝١٩

اور پرندوں کو بھی جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اشراق کے وقت اور آخر دن کو پہاڑ بھی داود (عليه السلام) کے ساتھ مصروف تسبیح ہوتے اور اڑتے جانور بھی زبور کی قراءت سن کر ہوا ہی میں جمع ہو جاتے اور ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے۔ محشورۃ کے معنی مجموعہ ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:20صفحہ 454 · پارہ 23

وَشَدَدْنَا مُلْكَهُۥ وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْحِكْمَةَ وَفَصْلَ ٱلْخِطَابِ ۝٢٠

اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا[1] اور اسے حکمت دی تھی[2] اور بات کا فیصلہ کرنا.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] ہر طرح کی مادی اور روحانی اسباب کے ذریعے سے۔ [2] یعنی نبوت، اصابت رائے، قول سداد اور فعل صواب۔ [3] یعنی مقدمات کے فیصلے کرنے کی صلاحیت، بصیرت وتفقہ اور استدلال وبیان کی قوت۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:21صفحہ 454 · پارہ 23

۞ وَهَلْ أَتَىٰكَ نَبَؤُا۟ ٱلْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا۟ ٱلْمِحْرَابَ ۝٢١

اور کیا تجھے جھگڑا کرنے والوں کی (بھی) خبر ملی؟ جبکہ وه دیوار پھاند کر محراب میں آگئے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] مِحْرَابٌ سے مراد وہ کمرہ ہے جس میں سب سے علیحدہ ہو کر یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے۔ دروازے پر پہرے دار ہوتے، تاکہ کوئی اندر آکر عبادت میں مخل نہ ہو۔ جھگڑا کرنے والے پیچھے سے دیوار پھاند کر اندر آگئے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:22صفحہ 454 · پارہ 23

إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَٱحْكُم بَيْنَنَا بِٱلْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَٱهْدِنَآ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلصِّرَٰطِ ۝٢٢

جب یہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، پس یہ ان سے ڈر گئے[1] ، انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو فریق مقدمہ ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور ناانصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راه بتا دیجئے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] ڈرنے کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک تو وہ دروازے کے بجائےعقب سے دیوار چڑھ کر اندر آئے۔ دوسرے، انہوں نے اتنا بڑا اقدام کرتے ہوئے بادشاہ وقت سے کوئی خوف محسوس نہیں کیا۔ ظاہری اسباب کے مطابق خوف والی چیز سے خوف کھانا، انسان کا ایک طبعی تقاضا ہے۔ یہ منصب وکمال نبوت کے خلاف ہے نہ توحید کے منافی۔ توحید کے منافی غیر اللہ کا وہ خوف ہے جو ماورائے اسباب ہو۔ [2] آنے والوں نے تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے درمیان ایک جھگڑا ہے، ہم آپ سے فیصلہ کرانے آئے ہیں، آپ حق کے ساتھ فیصلہ بھی فرمائیں اور سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی بھی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:23صفحہ 454 · پارہ 23

إِنَّ هَـٰذَآ أَخِى لَهُۥ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِىَ نَعْجَةٌ وَٰحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِى فِى ٱلْخِطَابِ ۝٢٣

(سنیے) یہ میرا بھائی ہے[1] اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے[2] اور مجھ پر بات میں بڑی سختی برتتا ہے.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] بھائی سے مراد دینی بھائی یا شریک کاروبار یا دوست ہے۔ سب پر بھائی کا اطلاق صحیح ہے۔ [2] یعنی یہ ایک دنبی بھی میری دنبیوں میں شامل کر دے تاکہ میں ہی اس کا بھی ضامن اور کفیل ہو جاؤں۔ [3] دوسرا ترجمہ ہے (اور یہ گفتگو میں مجھ پر غالب آگیا ہے) یعنی جس طرح اس کے پاس مال زیادہ ہے، زبان کا بھی مجھ سے زیادہ تیز ہے اور اس تیزی وطراری کی وجہ سےلوگوں کو قائل کر لیتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:24صفحہ 454 · پارہ 23

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلْخُلَطَآءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّـٰهُ فَٱسْتَغْفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩ ۝٢٤

آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے[1] ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں[2] اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور (پوری طرح) رجوع کیا.

ترجمے کے حواشی
[1] البتہ اس اخلاقی کوتاہی سے اہل ایمان محفوظ ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور عمل صالح کے وہ پابند ہوتے ہیں۔ اس لئےکسی پر زیادتی کرنا اور دوسرے کا مال ہڑپ کر جانے کی سعی کرنا، ان کے مزاج میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ تو دینے والے ہوتے ہیں، لینے والے نہیں۔ تاہم ایسے بلند کردار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ [2] وَخَرَّ رَاكِعًا کا مطلب یہاں سجدے میں گر پڑنا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:25صفحہ 454 · پارہ 23

فَغَفَرْنَا لَهُۥ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍ ۝٢٥

پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا[1] ، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں.

ترجمے کے حواشی
[1] حضرت داود (عليه السلام) کا یہ کام کیا تھا جس پر انہیں کوتاہی کا اور توبہ وندامت کا اظہار کا احساس ہوا، اور اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔ قرآن کریم میں اس اجمال کی تفصیل نہیں ہے اور کسی مستند حدیث میں بھی اس کی بابت کوئی وضاحت نہیں ہے۔ اس لئے بعض مفسرین نے تو اسرائیلی روایات کو بنیاد بنا کر ایسی باتیں بھی لکھ دی ہیں، جو ایک نبی کی شان سے فروتر ہیں۔ بعض مفسرین مثلاً ابن کثیر نے یہ موقف اختیار کیا کہ جب قرآن وحدیث اس معاملے میں خاموش ہیں تو ہمیں بھی اس کی تفصیلات کی کرید میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مفسرین کا ایک تیسرا گروہ ہےجو اس واقعے کی بعض جزئیات اور تفصیلات بیان کرتا ہے تاکہ قرآن کے اجمال کی کچھ توضیح ہو جائے۔ تاہم یہ کسی ایک بیان پر متفق نہیں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت داود (عليه السلام) نے ایک فوجی کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور یہ اس زمانے کے عرف میں معیوب بات نہیں تھی۔ حضرت داود (عليه السلام) کو اس عورت کی خوبیوں اور کمالات کا علم ہوا تھا جس بنا پر ان کے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس عورت کو تو ملکہ ہونا چاہئیے نہ کہ ایک عام سی عورت۔ تاکہ اس کی خوبیوں اور کمالات سے پورا ملک فیض یاب ہو۔ یہ خواہش کتنے بھی اچھے جذبے کی بنیاد پر ہو، لیکن ایک تو متعدد بیویوں کی موجودگی میں یہ نامناسب سی بات لگتی ہے۔ دوسرے بادشاہ وقت کی طرف سے اس کے اظہار میں جبر کا پہلو بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اس لئے حضرت داود (عليه السلام) کو ایک تمثیلی واقعے سے اس کے نامناسب ہونے کا احساس دلایا گیا اور انہیں فی الواقع اس پر تنبہ ہوگیا۔ بعض کہتے ہیں کہ آنے والے یہ دو شخص فرشتے تھے جو ایک فرضی مقدمہ لے کر حاضر ہوئے، حضرت داود (عليه السلام) سے کوتاہی یہ ہوئی کہ مدعی کا بیان سن کر ہی اپنی رائے کا اظہار کر دیا اور مدعا علیہ کی بات سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے رفع درجات کے لئے اس آزمائش میں انہیں ڈالا، اس غلطی کا احساس ہوتے ہی وہ سمجھ گئے کہ یہ آزمائش تھی جو اللہ کی طرف سے ان پر آئی اور بارگاہ الٰہی میں جھک گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ آنے والے فرشتے نہیں تھے، انسان ہی تھے اور یہ فرضی واقعہ نہیں، ایک حقیقی جھگڑا تھا، جس کے فیصلے کے لئے وہ آئے تھے اور اس طرح ان کے صبر وتحمل کا امتحان لیا گیا، کیونکہ اس واقعے میں ناگواری اور اشتعال طبع کے کئی پہلو تھے، ایک تو بلا اجازت دیوار پھاند کر آنا۔ دوسرے، عبادت کے مخصوص اوقات میں آکر مخل ہونا۔ تیسرے، ان کا طرز تکلﻢ بھی آپ کی حاکمانہ شان سے فروتر تھا (کہ زیادتی نہ کرنا وغیرہ) لیکن اللہ نے آپ کو توفیق دی کہ مشتعل نہیں ہوئے اور کمال صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔ لیکن دل میں جو طبعی ناگواری کا ہلکا سا احساس پیدا ہوا، اس کو بھی اپنی کوتاہی پر محمول کیا، یعنی یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی، اس لئے یہ طبعی انقباض بھی نہیں ہونا چاہئے تھا، جس پر انہوں نے توبہ واستغفار کا اہتمام کیا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:26صفحہ 454 · پارہ 23

يَـٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلْنَـٰكَ خَلِيفَةً فِى ٱلْأَرْضِ فَٱحْكُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌۢ بِمَا نَسُوا۟ يَوْمَ ٱلْحِسَابِ ۝٢٦

اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وه تمہیں اللہ کی راه سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راه سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:27صفحہ 455 · پارہ 23

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـٰطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ ۝٢٧

اور ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا[1] ، یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی.

ترجمے کے حواشی
[1] بلکہ ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ یہ کہ میرے بندے میری عبادت کریں، جو ایسا کرے گا، میں اسےبہترین جزا سے نوازوں گا اور جو میری عبادت واطاعت سے سرتابی کرے گا، اس کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:28صفحہ 455 · پارہ 23

أَمْ نَجْعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ كَٱلْمُفْسِدِينَ فِى ٱلْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ ٱلْمُتَّقِينَ كَٱلْفُجَّارِ ۝٢٨

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے ان کے برابر کر دیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد مچاتے رہے، یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دینگے؟

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:29صفحہ 455 · پارہ 23

كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ مُبَـٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَـٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ ۝٢٩

یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:30صفحہ 455 · پارہ 23

وَوَهَبْنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيْمَـٰنَ ۚ نِعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ۝٣٠

اور ہم نے داؤد کو سلیمان (نامی فرزند) عطا فرمایا، جو بڑا اچھا بنده تھا اور بے حد رجوع کرنے واﻻ تھا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:31صفحہ 455 · پارہ 23

إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِٱلْعَشِىِّ ٱلصَّـٰفِنَـٰتُ ٱلْجِيَادُ ۝٣١

جب ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے گھوڑے پیش کیے گئے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] صَافِنَاتٌ، صَافِنٌ یا صَافِنَةٌ کی جمع ہے، وہ گھوڑے جو تین ٹانگوں پر کھڑے ہوں۔ جِيَادٌ جَوَادٌ کی جمع ہے جو تیز رو گھوڑے کو کہتے ہیں۔ یعنی حضرت سلیمان (عليه السلام) نے بغرض جہاد جو گھوڑے پالے ہوئے تھے، وہ عمدہ اصیل تیز رو گھوڑے حضرت سلیمان پر معاینے کے لئے پیش کیے گئے۔ عَشِيٌّ، ظہر یا عصر سے لےکر آخر دن تک کے وقت کو کہتے ہیں، جسے ہم شام سے تعبیر کرتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:32صفحہ 455 · پارہ 23

فَقَالَ إِنِّىٓ أَحْبَبْتُ حُبَّ ٱلْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّى حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِٱلْحِجَابِ ۝٣٢

تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:33صفحہ 455 · پارہ 23

رُدُّوهَا عَلَىَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلْأَعْنَاقِ ۝٣٣

ان (گھوڑوں) کو دوباره میرے سامنے ﻻؤ! پھر تو پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] اس ترجمے کی رو سے أَحْبَبْتُ، بمعنی آثَرْتُ (ترجیح دینا) اور عَنْ بمعنی عَلَى ہے۔ اور تَوَارَتْ کا مرجع شَمْسٌ ہے جو آیت میں پہلے مذکور نہیں ہے، لیکن قرینہ اس پر دال ہے۔ اس تفسیر کی رو سے اگلی آیت میں۔ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأَعْنَاقِ کا ترجمہ بھی ذبح کرنا ہوگا یعنی مَسْحًا بِالسَّيْف ِ کا مفہوم۔ مطلب ہوگا کہ گھوڑوں کے معاینہ میں حضرت سلیمان (عليه السلام) کی عصر کی نماز یا وظیفہ خاص رہ گیا جو اس وقت وہ کرتے تھے۔ جس پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور کہنے لگے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اتنا وارفتہ اور گم ہو گیا کہ سورج پردۂ مغرب میں چھپ گیا اور اللہ کی یاد، نماز یا وظیفے سے غافل رہا۔ چنانچہ اس کی تلافی اور ازالے کے لئے انہوں نےسارےگھوڑے اللہ کی راہ میں قتل کر ڈالے۔ امام شوکانی اور ابن کثیر وغیرہ نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ دیگر بعض مفسرین نے اس کی دوسری تفسیر کی ہے۔ اس کی رو سے عَنْ، أَجْلٌ کے معنی میں ہے أَيْ : لأَجْلِ ذِكْرِ رَبِّي، یعنی رب کی یاد کی وجہ سے میں ان گھوڑوں سے محبت رکھتا ہوں۔ یعنی اس کے ذریعے سے اللہ کی راہ میں جہاد ہوتا ہے۔ پھر ان گھوڑوں کو دوڑایا حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ انہیں دوبارہ طلب کیا اور پیار ومحبت سے ان کی پندلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا خَيْرٌ، قرآن میں مال کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ لفظ گھوڑو ں کے لئے آیا ہے۔ تَوَارَتْ کا مرجع گھوڑے ہیں۔ امام ابن جریر طبری نے اس دوسری تفسیر کو ترجیح دی ہے اور یہی تفسیر متعدد وجوہ سےصحیح لگتی ہے۔ واللهُ أَعْلَمُ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:34صفحہ 455 · پارہ 23

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـٰنَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِۦ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ۝٣٤

اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر[1] اس نے رجوع کیا.

ترجمے کے حواشی
[1] یہ آزمائش کیا تھی، کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی بھی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ البتہ بعض مفسرین نے صحیح حدیث سے ثابت ایک واقعے کو اس پر چسپاں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) نے ایک مرتبہ کہا کہ میں آج کی رات اپنی تمام بیویوں سے (جن کی تعداد 70 یا 90 تھی) ہمبستری کروں گا تاکہ ان سے شاہ سوار پیدا ہوں جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اور اس پر ان شاء اللہ نہیں کہا (یعنی صرف اپنی ہی تدبیر پر سارا اعتماد کیا) نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے ایک بیوی کے کوئی بیوی حاملہ نہیں ہوئی۔ اور حاملہ بیوی نے بھی جو بچہ جنا، وہ ناقص یعنی آدھا تھا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا اگر سلیمان (عليه السلام) ان شاء اللہ کہہ لیتے تو سب سے مجاہد پیدا ہوتے۔ (صحيح بخاري ، كتاب الأنبياء ، صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الاستثناء) ان مفسرین کے خیال میں شاید ان شاء اللہ نہ کہنا یا صرف اپنی تدبیر پر اعتماد کرنا یہی فتنہ ہو، جس میں حضرت سلیمان (عليه السلام) مبتلا ہوئے اور کرسی پر ڈالا جانے والا جسم یہی ناقص الخلقت بچہ ہو۔ واللهُ أَعْلَمُ۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:35صفحہ 455 · پارہ 23

قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكًا لَّا يَنۢبَغِى لِأَحَدٍ مِّنۢ بَعْدِىٓ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ ۝٣٥

کہا کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے سوا کسی (شخص) کے ﻻئق نہ ہو[1] ، تو بڑا ہی دینے واﻻ ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی شاہ سواروں کی فوج پیدا ہونے کی آرزو، تیری حکمت ومشیت کے تحت پوری نہیں ہوئی، لیکن اگر مجھے ایسی بااختیار بادشاہت عطا کر دے کہ ویسی بادشاہت میرے سوا یا میرے بعد کسی کے پاس نہ ہو، تو پھر اولاد کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ یہ دعا بھی اللہ کے دین کے غلبے کے لئے ہی تھی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:36صفحہ 455 · پارہ 23

فَسَخَّرْنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِۦ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ ۝٣٦

پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کر دیا اور آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ہم نے سلیمان (عليه السلام) کی یہ دعا قبول کر لی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا بھی ان کے ماتحت تھی، یہاں ہوا کو نرمی سے چلنے والا بتایا ہے، جب کہ دوسرے مقام پر اسے تند وتیز کہا ہے، (الانبیاء: 81) جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیدائشی قوت کے لحاظ سے تند ہے۔ لیکن سلیمان (عليه السلام) کے لئے اسے نرم کر دیا گیا، حسب ضرورت وہ کبھی تند ہوتی کبھی نرم، جس طرح حضرت سلیمان (عليه السلام) چاہتے۔ (فتح القدیر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:37صفحہ 455 · پارہ 23

وَٱلشَّيَـٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ ۝٣٧

اور (طاقت ور) جنات کو بھی (ان کا ماتحت کر دیا) ہر عمارت بنانے والے کو اور غوطہ خور کو.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:38صفحہ 455 · پارہ 23

وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ ۝٣٨

اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] جنات میں سے جو سرکش یا کافر ہوتے، انہیں بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا، تاکہ وہ اپنے کفر یا سرکشی کی وجہ سے سرتابی نہ کر سکیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:39صفحہ 455 · پارہ 23

هَـٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۝٣٩

یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی تیری دعا کے مطابق ہم نے تجھے عظیم بادشاہی سے نواز دیا، اب انسانوں میں سے جس کو تو چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، تجھ سے ہم حساب بھی نہیں لیں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:40صفحہ 455 · پارہ 23

وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍ ۝٤٠

ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی دنیوی جاہ ومرتبت عطا کرنے کے باوجود آخرت میں بھی حضرت سلیمان (عليه السلام) کو قرب خاص اور مقام خاص حاصل ہوگا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:41صفحہ 455 · پارہ 23

وَٱذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلشَّيْطَـٰنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ۝٤١

اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] حضرت ایوب (عليه السلام) کی بیماری اور اس میں ان کا صبر مشہور ہے۔ جس کےمطابق اللہ تعالیٰ نے اہل ومال کی تباہی اور بیماری کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی، جس میں وہ کئی سال مبتلا رہے۔ حتیٰ کہ صرف ایک بیوی ان کے ساتھ رہ گئی جو صبح وشام ان کی خدمت بھی کرتی اور ان کو کہیں کام کاﺝ کرکے بقدر کفاف رزق کا انتظام بھی کرتی۔ یہاں پر متعدد تفسیری روایات کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر اس میں سے کتنا کچھ صحیح ہے اور کتنا نہیں، اسے معلوم کرنے کا کوئی مستند ذریعہ نہیں۔ نُصْبٍ سے جسمانی تکالیف اور عذاب سے مالی ابتلا مراد ہے۔ اس کی نسبت شیطان کی طرف اس لئے کی گئی ہے دراں حالیکہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے، کہ ممکن ہے شیطان کے وسوسے ہی کسی ایسے عمل کا سبب بنے ہوں جس پر یہ آزمائش آئی یا پھر بطور ادب کے ہے کہ خیر کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور شر کو اپنی یا شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:42صفحہ 455 · پارہ 23

ٱرْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَـٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَشَرَابٌ ۝٤٢

اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (عليه السلام) کی دعا قبول فرمائی اور ان سے کہا کہ زمین پر پیر مارو، جس سے ایک چشمہ جاری ہوگیا۔ اس کے پانی پینے سے اندرونی بیماریاں اور غسل کرنے سے ظاہری بیماریاں دور ہوگئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ دو چشمے تھے، ایک سے غسل فرمایا اور دوسرے سے پانی پیا۔ لیکن قرآن کے الفاظ سے پہلی بات کی تائید ہوتی ہے۔ یعنی ایک ہی چشمہ تھا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:43صفحہ 456 · پارہ 23

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ ۝٤٣

اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اسی کے ساتھ اپنی (خاص) رحمت سے[1] ، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] بعض کہتے ہیں کہ پہلا کنبہ جو بطور آزمائش ہلاک کر دیا گیا تھا، اسے زندہ کر دیا گیا اور اس کے مثل اور مزید کنبہ عطا کر دیا گیا۔ لیکن یہ بات کسی مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہے۔ زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے پہلے سے زیادہ مال واولاد سے انہیں نواز دیا جو پہلے سے دوگنا تھا۔ [2] یعنی ایوب (عليه السلام) کو یہ سب کچھ ہم نےدوبارہ عطا کیا، تو اپنی رحمت خاص کے اظہار کے علاوہ اس کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اہل دانش اس سے نصیحت حاصل کریں اور وہ بھی ابتلا وشدائد پر اسی طرح صبر کریں جس طرح ایوب (عليه السلام) نے کیا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:44صفحہ 456 · پارہ 23

وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَٱضْرِب بِّهِۦ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَـٰهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ۝٤٤

اور اپنے ہاتھوں میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر مار دے اور قسم کے خلاف نہ کر[1] ، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بنده پایا، وه بڑا نیک بنده تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے واﻻ.

ترجمے کے حواشی
[1] بیماری کے ایام میں خدمت گزار بیوی کو کسی بات سے ناراض ہو کر حضرت ایوب (عليه السلام) نے اسے سو کوڑے مارنے کی قسم کھا لی تھی، صحت یاب ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ سو تنکوں والی جھاڑو لے کر ایک مرتبہ اسے مار دے، تیری قسم پوری ہو جائے گی۔ اس امر میں علما کا اختلاف ہے کہ یہ رعایت صرف حضرت ایوب (عليه السلام) کے ساتھ خاص ہے یا دوسرا کوئی شخص بھی اس طرح سو کوڑوں کی جگہ سو تنکوں والی جھاڑو مار کر حانث ہونے سے بچ سکتا ہے؟ بعض پہلی رائے کے قائل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر نیت ضرب شدید کی نہ کی ہو تو اس طرح عمل کیا جا سکتا ہے۔ (فتح القدیر) ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی ایک معذور کمزور زانی کو سو کوڑوں کی جگہ سو تنکوں والی جھاڑو مار کر سزا دی۔ (مسند أحمد 5/222 ابن ماجه، كتاب الحدود، باب الكبير والمريض يجب عليه الحد، صححه الألباني) جس سے مخصوص صورتوں میں اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:45صفحہ 456 · پارہ 23

وَٱذْكُرْ عِبَـٰدَنَآ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ أُو۟لِى ٱلْأَيْدِى وَٱلْأَبْصَـٰرِ ۝٤٥

ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے[1] تھے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی عبادت الٰہی اور نصرت دین میں بڑے قوی اور دینی وعلمی بصیرت میں ممتاز تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ أَيْدِي بمعنی نِعَمٌ ہے۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام واحسان ہوا یا یہ لوگوں پر احسان کرنے والے تھے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:46صفحہ 456 · پارہ 23

إِنَّآ أَخْلَصْنَـٰهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى ٱلدَّارِ ۝٤٦

ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی ہم نے ان کو آخرت کی یاد کے لئے چن لیا تھا، چنانچہ آخرت ہر وقت ان کے سامنے رہتی تھی (آخرت کا ہر وقت استحضار، یہ بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت اور زہد وتقویٰ کی بنیاد ہے) یا وہ لوگوں کو آخرت اور اللہ کی طرف بلانے میں کوشاں رہتے تھے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:47صفحہ 456 · پارہ 23

وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ ٱلْمُصْطَفَيْنَ ٱلْأَخْيَارِ ۝٤٧

یہ سب ہمارے نزدیک برگزیده اور بہترین لوگ تھے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:48صفحہ 456 · پارہ 23

وَٱذْكُرْ إِسْمَـٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَذَا ٱلْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِّنَ ٱلْأَخْيَارِ ۝٤٨

اسماعیل، یسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا بھی ذکر کر دیجئے۔ یہ سب بہترین لوگ[1] تھے.

ترجمے کے حواشی
[1] یسع (عليه السلام) کہتے ہیں، حضرت الیاس (عليه السلام) کے جانشین تھے، ال تعریف کے لئے ہے اور عجمی نام ہے، ذوالکفل کے لئے دیکھئے سورۃ الانبیاء، آیت 85 کا حاشیہ۔ أَخْيَارٌ خَيْرٌ یا خَيِّرٌ کی جمع ہے جیسے مَيِّتٌ کی جمع أَمْوَاتٌ ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:49صفحہ 456 · پارہ 23

هَـٰذَا ذِكْرٌ ۚ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَـَٔابٍ ۝٤٩

یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:50صفحہ 456 · پارہ 23

جَنَّـٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ ٱلْأَبْوَٰبُ ۝٥٠

(یعنی ہمیشگی والی) جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:51صفحہ 456 · پارہ 23

مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدْعُونَ فِيهَا بِفَـٰكِهَةٍ كَثِيرَةٍ وَشَرَابٍ ۝٥١

جن میں بافراغت تکیے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کر رہے ہیں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:52صفحہ 456 · پارہ 23

۞ وَعِندَهُمْ قَـٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ أَتْرَابٌ ۝٥٢

اور ان کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر حوریں ہوں گی.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں سے متجاوز نہیں ہوں گی۔ أَتْرَابٌ، تِرْبٌ کی جمع ہے، ہم عمر یا لازوال حسن وجمال کی حامل۔ (فتح القدیر)
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:53صفحہ 456 · پارہ 23

هَـٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ ۝٥٣

یہ ہے جس کا وعده تم سے حساب کے دن کے لئے کیا جاتا تھا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:54صفحہ 456 · پارہ 23

إِنَّ هَـٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ ۝٥٤

بیشک روزیاں (خاص) ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] رزق، بمعنی عطیہ ہے اور هَذَا سے ہر قسم کی مذکور نعمتیں اور وہ اکرام واعزاز مراد ہیں جن سے اہل جنت بہرہ یاب ہوں گے۔ نفاد کےمعنی انقطاع اور خاتمے کے ہیں۔ یہ نعمتیں بھی غیر فانی ہوں گی اور اعزاز وکرام بھی دائمی۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:55صفحہ 456 · پارہ 23

هَـٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّـٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٍ ۝٥٥

یہ تو ہوئی جزا[1] ، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے[2] بڑی بری جگہ ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] هَذَا مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی الأَمْرُ هَذَا یا ھذا مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے یعنی هَذَا كَمَا ذُكِرَ یعنی مذکور اہل خیر کا معاملہ ہوا۔ اس کے بعد اہل شر کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ [2] طَاغِينَ، جنہوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور رسولوں کی تکذیب کی۔ يَصْلُونَ کے معنی ہیں يَدْخُلُونَ، داخل ہوں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:56صفحہ 456 · پارہ 23

جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ ۝٥٦

دوزخ ہے جس میں وه جائیں گے (آه) کیا ہی برا بچھونا ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:57صفحہ 456 · پارہ 23

هَـٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ ۝٥٧

یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیﭗ.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ فَليَذُوقُوه، هَذَا کی خبر ہے یعنی هَذَا حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ فَلْيَذُوقُوهُ یہ ہے گرم پانی اور پیپ، اسے چکھو۔ حَمِيمٌ، گرم کھولتا ہوا پانی، جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ غَسَّاقٌ، جہنمیوں کی کھالوں سے جو پیپ اور گندا لہو نکلے گا۔ یا سخت ٹھنڈا پانی، جس کا پینا نہایت مشکل ہوگا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:58صفحہ 456 · پارہ 23

وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِۦٓ أَزْوَٰجٌ ۝٥٨

اس کے علاوه اور طرح طرح کے عذاب.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] شَكْلِه، اس جیسے أَزْوَاجٌ، انواع واقسام یعنی حمیم وغساق جیسے اور بہت سی قسم کے دوسرےعذاب ہوں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:59صفحہ 456 · پارہ 23

هَـٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُوا۟ ٱلنَّارِ ۝٥٩

یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے[1] ، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے[2] یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] جہنم کے دروازوں پر کھڑے فرشتے، ائمۂ کفر اور پیشوایان ضلالت سے کہیں گے، جب پیروکار قسم کے کافر جہنم میں جائیں گے۔ یا ائمۂ کفر وضلالت آپس میں یہ بات، پیرو کاروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے۔ [2] یہ لیڈر، جہنم میں داخل ہونے والے کافروں کے لئے، فرشتوں کے جواب میں یا آپس میں کہیں گے۔ رَحْبَةٌ کے معنی وسعت وفراخی کے ہیں۔ مرحبا یہ كَلِمَةُ تَرْحِيبٍ یعنی خیر مقدمی الفاظ ہیں جو آنے والے مہمان کے استقبال کے وقت کہے جاتے ہیں۔ لا مَرْحَبًا اس کے برعکس ہے۔ [3] یہ ان کا خیر مقدم نہ کرنے کی علت ہے۔ یعنی ان کے اور ہمارے مابین کوئی وجہ امتیاز نہیں ہے، یہ بھی ہماری طرح جہنم میں داخل ہو رہے ہیں اور جس طرح ہم عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں، یہ بھی عذاب جہنم کے مستحق قرار پائے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:60صفحہ 456 · پارہ 23

قَالُوا۟ بَلْ أَنتُمْ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ ۖ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا ۖ فَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ ۝٦٠

وه کہیں گے بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے ﻻ رکھا تھا[1] ، پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی تم ہی کفر وضلالت کے راستے ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کرتے تھے، یوں گویا اس عذاب جہنم کے پیش کار تو تم ہی ہو۔ یہ پیروکار، اپنے مقتداؤں کو کہیں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:61صفحہ 456 · پارہ 23

قَالُوا۟ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِى ٱلنَّارِ ۝٦١

وه کہیں گے اے ہمارے رب! جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے پہلے سے نکالی ہو[1] اس کے حق میں جہنم کی دگنی سزا کر دے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جنہوں نے ہمیں کفر کی دعوت دی اور اسے حق وصواب باور کرایا۔ یا جنہوں نے ہمیں کفر کی طرف بلا کر ہمارے لئے یہ عذاب آگے بھیجا۔ [2] یہ وہی بات ہے جسے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ الاعراف، 38 ، سورۃ الاحزاب ،68۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:62صفحہ 457 · پارہ 23

وَقَالُوا۟ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلْأَشْرَارِ ۝٦٢

اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] أَشْرَارٌ سے مراد فقراء مومنین ہیں۔ جیسے عمار، خباب، صہیب، بلال وسلیمان وغیرہم۔ (رضي الله عنهم) ، انہیں روسائے مکہ ازراہ خبث (برےلوگ) کہتے تھے اور اب بھی اہل باطل حق پر چلنے والوں کو بنیاد پرست، دہشت گرد، انتہا پسند وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:63صفحہ 457 · پارہ 23

أَتَّخَذْنَـٰهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ ٱلْأَبْصَـٰرُ ۝٦٣

کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا[1] یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی دنیا میں، جہاں ہم غلطی پر تھے؟ [2] یا وہ بھی ہمارے ساتھ ہی یہیں کہیں ہیں، ہماری نظریں انہیں نہیں دیکھ پا رہی ہیں؟
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:64صفحہ 457 · پارہ 23

إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ ٱلنَّارِ ۝٦٤

یقین جانو کہ دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہی ہوگا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی آپس میں ان کی تکرار اور ایک دوسرے کو مورد طعن بنانا، ایک ایسی حقیقت ہے، جس میں تخلف نہیں ہوگا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:65صفحہ 457 · پارہ 23

قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٌ ۖ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ ۝٦٥

کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے واﻻ ہوں[1] اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی ﻻئق عبادت نہیں.

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی جو تم گمان کرتے ہو، میں وہ نہیں ہوں بلکہ تمہیں اللہ کے عذاب اور اس کےعتاب سے ڈرانے والا ہوں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:66صفحہ 457 · پارہ 23

رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفَّـٰرُ ۝٦٦

جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وه زبردست اور بڑا بخشنے واﻻ ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:67صفحہ 457 · پارہ 23

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا۟ عَظِيمٌ ۝٦٧

آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض وغفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:68صفحہ 457 · پارہ 23

أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ ۝٦٨

جس سے تم بے پرواه ہو رہے ہو.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:69صفحہ 457 · پارہ 23

مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍۭ بِٱلْمَلَإِ ٱلْأَعْلَىٰٓ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ۝٦٩

مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وه تکرار کر رہے تھے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] ملأ اعلیٰ سے مراد فرشتے ہیں، یعنی وہ کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نہیں جانتا۔ ممکن ہے، اس اختصام (بحث وتکرار) سے مراد وہ گفتگو ہو جو تخلیق آدم (عليه السلام) کے وقت ہوئی۔ جیسا کہ آگے اس کا ذکر آرہا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:70صفحہ 457 · پارہ 23

إِن يُوحَىٰٓ إِلَىَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ۝٧٠

میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاه کر دینے واﻻ ہوں.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی میری ذمے داری یہی ہے کہ میں وہ فرائض وسنن تمہیں بتا دوں جن کے اختیار کرنے سے تم عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے اور ان محرکات ومعاصی کی وضاحت کردوں جن کے اجتناب سے تم رضائے الٰہی کے اور بصورت دیگر اس کے غضب وعقاب کے مستحق قرار پاؤ گے۔ یہی وہ انذار ہے جس کی وحی میری طرف کی جاتی ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:71صفحہ 457 · پارہ 23

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّى خَـٰلِقٌۢ بَشَرًا مِّن طِينٍ ۝٧١

جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا[1] کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا[2] کرنے واﻻ ہوں.

ترجمے کے حواشی
[1] یہ قصہ اس سے قبل سورۂ بقرہ، سورۂ اعراف، سورۂ حجر، سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ کہف میں بیان ہو چکا ہے۔ اب اسے یہاں بھی اجمالاً بیان کیا جا رہا ہے۔ [2] یعنی ایک جسم، جنس بشر سے بنانے والا ہوں۔ انسان کو بشر، زمین سے اس کی مباشرت کی وجہ سے کہا۔ یعنی زمین سے ہی اس کی ساری وابستگی ہے اور وہ سب کچھ اسی زمین پر کرتا ہے۔ یا اس کے لئے وہ بادی البشرۃ ہے۔ یعنی اس کا جسم یا چہرہ ظاہر ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:72صفحہ 457 · پارہ 23

فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَـٰجِدِينَ ۝٧٢

سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں[1] اور اس میں اپنی روح پھونک دوں[2]، تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا.[3]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اسے انسانی پیکر میں ڈھال لوں اور اس کےتمام اجزا درست اور برابر کر لوں۔ [2] ) یعنی وہ روح، جس کا میں ہی مالک ہوں، میرے سوا اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا اور جس کےپھونکتے ہی یہ پیکر خاکی، زندگی، حرکت اور توانائی سے بہرہ یاب ہو جائے گا۔ انسان کے شرف وعظمت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اس میں وہ روح پھونکی گئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح قرار دیا ہے۔ [3] یہ سجدۂ تحیہ یا سجدۂ تعظیم ہے، سجدۂ عبادت نہیں۔ یہ تعظیمی سجدہ پہلے جائز تھا، اسی لئے اللہ نے آدم (عليه السلام) کے لئے فرشتوں کو اس کا حکم دیا۔ اب اسلام میں تعظیمی سجدہ بھی کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”اگر یہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے“۔ (مشكاة كتاب النكاح، باب عشرة النساء ، بحواله ترمذي وقال الألباني، وهو حديث صحيح لشواهده)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:73صفحہ 457 · پارہ 23

فَسَجَدَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ۝٧٣

چنانچہ تمام فرشتوں نے سجده کیا.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یہ انسان کا دوسرا شرف ہے کہ اسے مسجود ملائک بنایا۔ یعنی فرشتے جیسی مقدس مخلوق نے اسے تعظیماً سجدہ کیا۔ كُلُّهُمْ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے میں پیچھے نہیں رہا۔ اس کے بعد أَجْمَعُونَ کہہ کر یہ واضح کر دیا کہ سجدہ بھی سب نے بیک وقت ہی کیا ہے۔ مختلف اوقات میں نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ تاکید درتاکید تعمیم میں مبالغے کے لئے ہے۔ (فتح القدیر)۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:74صفحہ 457 · پارہ 23

إِلَّآ إِبْلِيسَ ٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَـٰفِرِينَ ۝٧٤

مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا[1] اور وه تھا کافروں میں سے.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] اگر ابلیس کو صفات ملائکہ سے متصف مانا جائے تو یہ استثنا متصل ہوگا یعنی ابلیس اس حکم سجدہ میں داخل ہوگا، بصورت دیگر یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ اس حکم میں داخل نہیں تھا لیکن آسمان پر رہنے کی وجہ سے اسے بھی حکم دیا گیا۔ مگر اس نے تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔ [2] یہ کان صَارَ کے معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت اور اس کی اطاعت سے استکبار کی وجہ سے وہ کافر ہو گیا۔ یا اللہ کے علم میں وہ کافر تھا۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:75صفحہ 457 · پارہ 23

قَالَ يَـٰٓإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَىَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْعَالِينَ ۝٧٥

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا[1] تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے.

ترجمے کے حواشی
[1] یہ بھی انسان کے شرف وعظمت کے اظہار ہی کے لئے فرمایا، ورنہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:76صفحہ 457 · پارہ 23

قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍ ۝٧٦

اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی شیطان نے اپنے زعم فاسد میں یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر متجانس (ہم جنس یا قریب قریب ایک درجے میں) ہیں۔ ان میں سے کسی کو، دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم (عليه السلام) کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، پھر اس میں اپنی روح پھونکی۔ اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف وعظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کر دینا ہے، جبکہ مٹی اس کے برعکس انواع واقسام کی پیداوار کا موخذ ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:77صفحہ 457 · پارہ 23

قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ۝٧٧

ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:78صفحہ 457 · پارہ 23

وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ ۝٧٨

اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت وپھٹکار ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:79صفحہ 457 · پارہ 23

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۝٧٩

کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:80صفحہ 457 · پارہ 23

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ ۝٨٠

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:81صفحہ 457 · پارہ 23

إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ ۝٨١

متعین وقت کے دن تک.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:82صفحہ 457 · پارہ 23

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۝٨٢

کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دوں گا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:83صفحہ 457 · پارہ 23

إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ ۝٨٣

بجز تیرے ان بندوں کے جو چیده اور پسندیده ہوں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:84صفحہ 458 · پارہ 23

قَالَ فَٱلْحَقُّ وَٱلْحَقَّ أَقُولُ ۝٨٤

فرمایا سچ تو یہ ہے، اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:85صفحہ 458 · پارہ 23

لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ ۝٨٥

کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں (بھی) جہنم کو بھر دوں گا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:86صفحہ 458 · پارہ 23

قُلْ مَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُتَكَلِّفِينَ ۝٨٦

کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا[1] اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں.[2]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی اس دعوت وتبلیغ سے میرا مقصد صرف امتثال امر الٰہی ہے، دنیا کمانا نہیں۔ [2] یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کر دوں جو اس نے نہ کہی ہو یا میں تمہیں ایسی بات کی طرف دعوت دوں جس کا حکم اللہ نے مجھے نہ دیا ہو۔ بلکہ کوئی کمی بیشی کیے بغیر اللہ کے احکام تم تک پہنچا رہا ہوں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ! فرماتے تھے، جس کو کسی بات کا علم نہ ہو، اس کی بابت اسے کہہ دینا چاہئیے، اللہ اعلم یہ کہنا بھی علم ہی ہے، اس لئے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو کہا، فرما دیجئے «وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ» (ابن کثیر) علاوہ ازیں اس سے عام معاملات زندگی میں بھی تکلف وتصنع سے اجتناب کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ جیسے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا «نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ» (صحيح بخاري، نمبر 7293) ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت سلمان (رضي الله عنه) کہتے ہیں «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ (صلى الله عليه وسلم) أَنَّ نَتَكَلَّفَ لِلضَّيْفِ» (صحيح الجامع الصغير 9871) ہمیں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے مہمان کے لئے تکلف کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ لباس، خوراک، رہائش اور دیگر معاملات میں تکلﻔات، جو آج کل معیار زندگی بلند کرنے کے عنوان سے، اصحاب حیثیت کا شعار اور وطیرہ بن چکا ہے، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام میں سادگی اور بے تکلﻔی اختیار کرنے کی تلقین وترغیب ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:87صفحہ 458 · پارہ 23

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَـٰلَمِينَ ۝٨٧

یہ تو تمام جہان والوں کے لئے سراسر نصیحت (وعبرت) ہے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی یہ قرآن، یا وحی یا وہ دعوت، جو میں پیش کر رہا ہوں، دنیا بھر کے انسان اور جنات کے لئے نصیحت ہے۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے کا قصد کرے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ
38:88صفحہ 458 · پارہ 23

وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُۥ بَعْدَ حِينٍۭ ۝٨٨

یقیناً تم اس کی حقیقت کو کچھ ہی وقت کے بعد (صحیح طور پر) جان لو گے.[1]

ترجمے کے حواشی
[1] یعنی قرآن نے جن چیزوں کو بیان کیا ہے، جو وعدہ وعید ذکر کیے ہیں، ان کی حقیقت وصداقت بہت جلد تمہارے سامنے آجائے گی۔ چنانچہ اس کی صداقت یوم بدر کو واضح ہوئی، فتح مکہ کے دن ہوئی یا پھر موت کے وقت تو سب پر ہی واضح ہو جاتی ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
میری سوچ

آف لائن مطالعے کے لیے قرآن محفوظ کریں · مطالعے کا منصوبہ بنائیں

متنی مآخذ اور صحت

اصل عربی: Tanzil Uthmani v1.1. معانی کا ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3.

تمام 6,236 آیات کے حوالے ماخذ سے جانچے گئے ہیں۔ یہ سالمیت کی فنی جانچ ہے، آزاد علمی جائزہ نہیں۔ ابتدائی بسم اللہ اسی طرح محفوظ ہیں جیسے فراہم کی گئی تھیں۔

# PLEASE DO NOT REMOVE OR CHANGE THIS COPYRIGHT BLOCK
#====================================================================
#
#  Tanzil Quran Text (Uthmani, Version 1.1)
#  Copyright (C) 2007-2026 Tanzil Project
#  License: Creative Commons Attribution 3.0
#
#  This copy of the Quran text is carefully produced, highly 
#  verified and continuously monitored by a group of specialists 
#  at Tanzil Project.
#
#  TERMS OF USE:
#
#  - Permission is granted to copy and distribute verbatim copies 
#    of this text, but CHANGING IT IS NOT ALLOWED.
#
#  - This Quran text can be used in any website or application, 
#    provided that its source (Tanzil Project) is clearly indicated, 
#    and a link is made to tanzil.net to enable users to keep
#    track of changes.
#
#  - This copyright notice shall be included in all verbatim copies 
#    of the text, and shall be reproduced appropriately in all files 
#    derived from or containing substantial portion of this text.
#
#  Please check updates at: http://tanzil.net/updates/
#
#====================================================================
مکمل ماخذی تفصیل اور اجازتیں

ترجمے کا ماخذ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center.
ماخذ کا نسخہ: 1.1.3 · 2025-08-13

QuranEnc.com · معانی کا ترجمہ

ماخذ کی اجازتیں · ترجمے کے مسئلے کی اطلاع دیں

اس زبان کے نسخے میں نام زد شائع شدہ قرآنی ترجمہ استعمال ہوا ہے، الہامی متن کا خودکار ترجمہ نہیں۔

انٹرفیس کا ترجمہ AI کی مدد سے تیار ہوا ہے۔ مادری زبان کے ماہر کا آزاد جائزہ ابھی باقی ہے۔ ترجمے کے مسئلے کی اطلاع دیں · اصل انگریزی پڑھیں